تازہ ترین خبریںصحت و تندرستی

ذیابیطس کو کنٹرول کرنے والا ’جامونت جامن‘ تیار

بیس سال کی مسلسل کوشش کے بعد سائنس دانوں نے جامن کی ‘جامونت’ قسم تیار کی ہے جو ذیابیطس کی روک تھام میں کارگر اور اینٹی آکسیڈینٹ صفات سے بھر پور ہے۔

انڈین ایگریکلچر ریسرچ کونسل سے ملحق مرکزی باغبانی انسٹی ٹیوٹ، لکھنؤ کے سائنس دانوں نے تقریباً دودہائی کی ریسرچ کے بعد ‘جامونت’ کو تیار کیا ہے۔ اس میں کسیلاپن نہیں ہے اور 90 سے 92 فیصد تک گودا ہوتا ہے۔ اس کی گھٹلی بہت چھوٹی ہے۔ جامن کے بڑے سے درخت کی جگہ اس کے درخت کو چھوٹا اور گھنی شاخوں والا بنایا گیا ہے۔ گچھوں میں پھلنے والے اس کے پھل پکنے پر گہرے بینگنی رنگ کے ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کو کاروباری استعمال کے لئے جاری کردیا گیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے چیف سائنس ٹسٹ ڈاکٹر آنند کمار سنگھ نے یواین آئی کو بتایا کہ ذیابیطس مزاحم اور کئی دیگردواؤں کی خصوصیات سے بھرپور ہونے کی وجہ سے زیابیطس میں مبتلا مریضوں کے لئے یہ جان مئی سے جولائی کے دوران روزانہ کے استعمال کا پھل بن سکتا ہے۔ یہ اینٹی ڈائبٹک اور بایوایکٹو مرکبات میں بھرپور ہے۔خوبصورت گہرے رنگ کے ساتھ بڑے سے سائز کے پھلوں کے گچھے اس قسم کی خصوصیت ہیں۔ مٹھاس(16سے 17برکس) اس کی دیگر اہم خصوصیت ہے۔ اس کے پھل کا اوسط وزن 24.05گرام ہے۔اس کے گودے میں امید کے مطابق بہت زیادہ ایسکاربک ایسڈ (49.88ملی گرام فی 100گرام) اور کل اینٹی آکسیڈنٹ (38.30 ملی گرام اے ای اے سی/جی) کی وجہ سے اسے غذائی اجزاء سے بھرپور بناتا ہے۔ اس کے پھل جون کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نکلنے شرو ع ہوتے ہیں۔ جامونت تازے پھل اور پروسیسنگ دونوں کے لئے مناسب ہے۔ اس کا زیادہ گودا فیصد اور چھوٹی گٹھلی صارفین کو متوجہ کرتی ہے اور اس کی بہتر قیمت ملتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے کسانوں کو جامن کے کاروباری پیداواری کے لئے تربیت دی ہے۔ علی گڑھ میں اس کے کلسٹر پلانٹیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ اس سے زبردست پیداوار بنائی جا سکے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر شیلیندر راجن نے بتایا کہ جامونت کو کسانوں کے لئے جاری کرنے سے پہلے اس قسم کی پیداوار اور معیار کے لئے مختلف جغرافیائی علاقوں میں جائزہ کیاگیا جس میں اسے بہترین پایا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے پاس جامن کی بہتر قسموں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جس میں بہت ساری مختلف قسمیں ہیں۔ ملک میں جامن میں بہت سی مختلف قسمیں جامن کو بیج کے ذریعہ سے وسیع پیمانے پر نشر کئے جانے کی وجہ ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی صلاح کار کمیٹی کے صدر ڈاکٹر بی اے یاس چونڈاوت نے حال ہی میں اسے پیشہ ور کھیتوں کے لئے جاری کیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیادہ تر حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں گرافٹ پودھوں کی مستقل مانگ مل رہی ہے۔ گرافٹنگ تکنیک کی وجہ سے اس کے پیڑ پانچ سال کے اندر پھل دینے لگتے ہیں۔ اس کے پیڑ کو چھوٹا رکھنے کی تکنیک انسٹی ٹیوٹ میں بنائی گئی ہے، جو ان گرافٹیڈ پودھوں کو ضروری اونچائی پر بنائے رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ عام طورپر پھل اونچائی سے توڑنے کے لئے عام انسان کی پہنچ میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر جامن کے پیڑ بہت بڑے ہوتے ہیں۔ شاخوں کو ہلاکر یا گرائے گئے پھلوں کو توڑنا موجودہ روایت ہے لیکن جامونت کے چھوٹے پیڑوں سے کوئی بھی آسانی سے پھل توڑ سکتا ہے اور زمین پر گرنے کی وجہ سے پھلوں کی بربادی نہیں ہوتی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close