تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ذرائع کا بہترین استعمال پر ’بچوں کا گھر‘ نیتی ایوارڈ سے سرفراز

انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کی جانب سے این جی اوز کیلئے سالانہ نیتی ایوارڈس تقریب کا انعقاد.....مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا قائم شدہ ادارہ’بچوں کا گھر‘ 100 لڑکے اور 50 لڑکیوں کی کر رہا ہے کفالت

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اپنے ذرائع کا بہترین استعمال کرنے پر بے سہار اور یتیم بچوں کی کفالت کر رہے دریا گنج میں واقع ’بچوں کا گھر‘ کو بیسٹ یوٹیلائزیشن آف ریسورسز کیلئے ’نیتی ایوارڈ‘ سے سرفراز کیا گیا۔

آج نیو دہلی انسٹیٹیوٹ آف مینیجمینٹ نے اپنے کیپمس واقع تغلق آباد میں این جی اوز کیلئے سالانہ نیتی ایوارڈس کے پروگرام کا اہتمام کیا۔ جس میں دہلی میں کام کر رہی مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے سماج میں رہ رہے پسماندہ اور ضرورت مند بچوں کی تعلیم اور تربیت اور ان کو ایک بہتر جینے کے مواقع فراہم کرنے کی راہ میں اپنی کوششوں اور کاوشوں کو بیان کیا۔ اس موقع پریتیم و نادار بچوں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت کر رہے ’بچوں کا گھر‘ کو ’بیسٹ یوٹیلائزیشن آف ریسورسز‘ کے لئے نیتی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ بچوں کا گھر کی جانب سے پروگرام میں موجود مسرور الحسن صدیقی ایڈوکیٹ (جوائنٹ سکریٹری) نے یہ اعلیٰ ایوارڈ بدست ڈاکٹر بالمیکی پرساد (آئی اے اس، سکریٹری وزارت داخلہ حکومت ہند) سے حاصل کیا۔

پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پررکن پارلیمنٹ منوج تیواری اور ہز ایکسیلینسی گیبریئل سنمبو ہائی کمشنر ریپبلک آف نامیبیا نے شرکت کی۔ مہمان ذی وقار کے طور پر ڈاکٹر پروین تیواری جنرلسٹ و مصنف، ڈاکٹر بالمیکی پرساد (آئی اے ایس، سکریٹری وزرات داخلہ)، ایس راجا گوپالن (چیئرمین پبلک رلیشن سوسائٹی ان انڈیا) اور اکرم حق (ایڈیٹر پالیسی ٹائمس) موجود تھے۔

نیتی ایوارڈس کی سربراہ اور این ڈی آئی ایم کی چیئرپرسن مسز وی کمار نے بتایا کہ این ڈی آئی ایم ایک مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ ہے۔نیتی ایوارڈس کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیاکہ اس کے ذریعہ تعلیم اور دوسرے فلاحی کاموں میں مشغول این جی اوز کو نیٹ ورکنگ اور مینٹرنگ یعنی ان کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر ان این جی اوز کے کام کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکے۔ ہر سال بہتر کار کردگی کا مظاہر کرنے والی این جی اوز کو سراہا جائے اور ان کے کاموں کو منظر عام پر لایا جائے۔ تاکہ دوسری این جی اوز کی بھی اس سے حوصلہ افزائی ہو۔

اس موقع پرمہمان خصوصی منوج تیواری نے تمام حاضرین باالخصوص این جی اوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ این جی اوز کے کام میں منسلک لوگ خوش اسلوبی سے سماج کو بہتر انسان فراہم کرنے میں مدد کر رہے ہیں اور حکومت بھی ان کی ان کوششوں کو سراہتی ہے اور وقت ضرورت حکومت ان کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

بچوں کا گھر کے جوائنٹ سکریٹری مسرور الحسن صدیقی نے پروگرام کے حاضرین کو روشناس کرایا کہ کیسے 126سال پرانا ادارہ جو کہ مسیح الملک حکیم اجمل خان نے قائم کیا تھا اور کیسے یہ ادارہ مسلسل ایک صاف ستھری چھوی کے ساتھ یتیم بچوں کی مکمل کفالت کرتا آر ہا ہے۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے بتا یا کہ ابھی ہمارے پاس تقریباً100بچے بچوں کا گھر میں اور 50لڑکیاں ’بچیوں کا گھر‘ میں زیر تربیت ہیں۔ سب سے خوش فہم بات یہ ہے کہ اس ادارے کو چلانے کیلئے حکومت سے کسی طرح کی امداد یا گرانٹ نہیں ملتی ہے۔

یہ ادارہ سماج کے مطیع حضرات کی ڈونیشن، زکوٰۃ اور خیرات وغیرہ سے ہی چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بچوں کا گھر کی منتظمہ کمیٹی اپنے محدود وسائل کے با وجود بچوں کا گھر کے تمام ضروریات اور اخراجات خوش اسلوبی سے بغیر کسی رکاوٹ کے پورا کر رہی ہے۔ مسرور صدیقی نے حاضرین کو مزید بتایا کہ بچوں کا گھر کے کچھ اور نئے پروجیکٹ زیر غور ہیں جس میں نوکری سے وابستہ شورٹ ٹرم کورس، ووکیشنل ٹریننگ کورس اور انگلش اسپیکنگ کورس وغیرہ ہیں جو جلد ہی شروع کیے جائیں گے۔ تاکہ بچوں کا گھر کے بچوں کے ساتھ سماج کے پسماندہ اور ضرورت مند بچے بھی فیض یاب ہو سکیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close