اترپردیشتازہ ترین خبریں

دیوبند کے فضلاء نے دینی علوم کے ساتھ ادبی میدان میں بھی جھنڈے گاڑے ہیں: عرفی قاسمی

دارالعلوم دیوبند نے صرف علوم اسلامیہ کے محققین، مفسرین ہی نہیں پیدا کئے بلکہ اردو زبان وادب کے زلف خمیدہ کو سجانے سنوارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات آل انڈیا تنظیم علمائے کے قومی صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے مولانا ثناء الہدی قاسمی کی کتاب ’حرف حرف زندگی‘ کی اجراء کرتے ہوئے کہی۔

قومی یکجہتی کے لئے کام کرنے والی تنظیم، تہذیب‘ کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں انہوں نے کہا کہ دارالعلوم کے فیض یافتگان نے جہاں مذہبی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے وہیں ادبی میدان میں بھی اپنی نمایاں شناخت قائم کی ہے اوران کے کارنامے سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کے کسی فیض یافتہ نے ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف نہیں کی ہے اور یہ فخر صرف دارالعلوم کے فاضل مولانا اشرف علی تھانوی کو جاتا ہے۔ مولانا عرفی قاسمی نے کہا کہ ان ممتاز فضلاء میں سے ایک مولانا ثناء الہدی قاسمی بھی ہیں جن کی مذہبی’ ادبی اور سماجی کتابوں سمیت مختلف موضوع پراب تک 26کتابیں آچکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی کتابیں اردو ادب کی تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے کافی ہیں۔

شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مولانا عطاء الرحمان قاسمی نے کہا کہ مولانا ثناء الہدی کی تصنیف قحط الرجال کے اس دور میں ایک سرمایہ ہے اور وہ ہمارے اکابرین و اسلاف کے علوم و فنون کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب حرف حرف زندگی جو مختلف موضوع پر ہے جس میں عصری آگہی کے ساتھ دینی آگہی بھی ہے اور سماج کے مسائل کا حل بھی ہے۔ آج کل کے سابق ایڈیٹر شہباز حسین نے کہا کہ مولانا کو اس کتاب پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان سے کہا کہ وہ ایک تعلیمی فنڈ قائم کریں جو قومی سطح پرہندوستانی مسلمانوں کے لئے مفید ہوں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو مذہبی ادارے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عصری اداروں کے قیام پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں مقابلہ کے لئے عصری تعلیم ضروری ہے۔

قبل ازیں تنظیم’ تہذیب‘ کے سربربرہ اورسابق سرکاری افسر سید ضیاء الرحمان غوثی نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ثناء الہدی قاسمی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور انہوں نے مذہبی’ سیاسی’ تعلیمی اور ادبی میدان میں نمایاں کام کیا ہے۔ ماضی کے ان شاعروں اور ادیبوں پر کام کر رہے ہیں جنہیں ہم لوگوں نے فراموش کردیا ہے۔ کتاب کے مصنف امارت شرعیہ بہار’ اڑیسہ’ جھارکھنڈ کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدی قاسمی نے کہا کہ اس کتاب میں سب کچھ ہے۔ دنیاوی مسائل کا بھی ذکر ہے اورد ینی ضروریات بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی چیز کی تلاش میں رہتا ہوں اور اس سلسلے میں نے دیوان عوج مرتب کی ہے۔ انہوں نے امیر سادس مولانا نظام الدین کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے تعلیم کو زکوۃ پر منحصر کر رکھی ہو وہ قوم تعلیم کے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی موضوعات اصلاحی اور سماجی ہے اور ان موضوع پر توجہ کی ہے جن سے عام طور پر لوگ اوجھل ہیں۔اس کا مقصد صرف اصلاحی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر اظہار خیال کرنے والوں میں دین و دنیا کے یڈیٹر آصف فہمی،ظفر اللہ’ سبحانی صاحب’ اتحاد ملت کے ایڈیٹر صفی اختر، شاعر مجیب قاسمی’ ڈاکٹر بسمل عارفی اور دیگر حضرات شامل تھے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close