تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی: 3 مسلم نوجوانوں کی مشتبہ حالات میں موت، ’ہیٹ اینڈ رن‘ کا شبہ!

مسجد فیض الہٰی میں ادا کی گئی نماز جنازہ، ہزاروں لوگوں کی موجودگی مہن دیان قبرستان میں عمل میں آئی تدفین....دہلی گیٹ چوراہے پر دیر رات پیش آیا سانحہ.....اہل خانہ کا پولیس پر’ہیٹ اینڈ رن‘ کا شبہ.... پولیس کا کردار مشکوک.....سی سی ٹی وی کیمروں میں نہیں ملی کوئی فوٹیج.....متاثرہ خاندانوں کا الزام شادی کی تقریب سے واپس آ رہے تھے لڑکے تبھی اسکوٹی کا پولیس کی گشتی گاڑی نے کیا تعاقب

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پرانی دہلی کے پھاٹک تیلیان کے ایک ہی کنبے کے تین نوجوانوں کی مشتبہ حالات میں موت سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ وسطی ضلع کے نیتاجی سبھاش مارگ، دہلی گیٹ چوراہے پر دیر رات تین اسکوٹی سوار نوجوانون کی لاشیں ملی ہیں۔ تینوں نوجوان سعد منظور احمد (19)، حمزہ محمد جاوید (16) اور اسامہ صلاح الدین (15) پرانی دہلی کے پھاٹک تیلیان کے رہنے والے تھے اور آپس میں سگے رشتے دار تھے جو ایک شادی کی تقریب سے اسکوٹی پر سوار ہو کر لوٹ رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک سڑک حادثہ ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں نے پولیس پر ’ہیٹ اینڈ رن‘ کا الزام لگایا ہے۔ کنبہ کے افراد کا کہنا ہے کہ تینوں کی موت اس وقت ہوئی جب وہ شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے۔ آئی ٹی او سے دہلی گیٹ آنے والے روڈ پر خونی دروازے کے قریب ان کی اسکوٹی کا دہلی پولیس کی ایک گشتی گاڑی نے تعاقب کیا، جس کے بعد یہ سانحہ پیش آیا، جس میں تینوں کم عمر نو جوانوں کی موت ہوئی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ علاقہ کے ہی ایک نوجواں نے سڑک پر پڑے تینوں نوجوانوں کو ایل این جے پی اسپتال پہنچایا لیکن تینوں کی موت واقع ہو چکی تھی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ترکان گیٹ علاقہ میں کہرام برپا ہو گیا اور لوگ دہلی گیٹ اور ایل این جے پی کی جانب دوڑ پڑے۔ لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ جہاں ان تینوں نوجوانوں کی لاشیں ملی وہاں ان کی اسکوٹی کے پاس ہی کسی بڑی کار، جیپ کے ٹائر کے رگڑ کے نشانات ہیں۔ ساتھ ہی تین نوجوں ایک کے اوپر پڑے ملے، جبکہ ایکسیڈنٹ میں تینوں نوجوان الگ الگ ملنے چاہئیں تھے، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پولیس نے ان کا تعاقب کیا اور ان کو ہیٹ کیا ہے۔

تینوں لڑکوں کی موت جاننے کیلئے دیر رات تک دریا گنج تھانے اور ڈی چی پی سینٹرل ڈسٹرکٹ کے دفتر کے باہر ہزاروں لوگ جمع رہے اور وہاں ہنگامہ ہوتا رہا۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے مقامی لیڈران ایم ایل اے عاصم خان، سابق ایم ایل اے شعیب اقبال، کونسلر آل محمد اقبال اور کونسلر راکیش کمار سمیت دیگر لیڈران نے ڈی سی پی سینٹرل ڈسٹرکٹ مندیپ سنگھ رندھاوا سے موت کی وجہ تلاش کرنے پر زور دیا اور صبح تک متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وہیں رہے۔ کئی مرتبہ کرائم ٹیم بھی موقعہ پر گئی لیکن نتیجہ کچھ نہ نکل سکا پولیس کے ہاتھ خالی ہی رہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں میں اس واقعہ کی کوئی فوٹیج نہیں مل سکی۔

تینوں نوجوانوں میں ایک نوجوان سعد کے والد صلاح الدین نے الزام لگایا کہ یہ حادثہ نہیں ہے بلکہ قتل ہے اور اس قتل کیلئے وسطی دہلی ضلع کی پولس ذمہ دار ہے، جس کی گشتی گاڑی لڑکوں کی اسکوٹی کا تعاقب کر رہی تھی۔ سعد کے والد نے یہ بھی الزام لگایا کہ اگر سینٹرل ڈسٹرکٹ پولس ایماندار ہے تو وہ اس واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں چھپا رہی ہے؟ سی سی ٹی وی فوٹیج میں میں نظر آ جائے گا کہ پولیس والے اسکوٹی کا تعاقب کر رہے تھے یا نہیں؟۔

جائے وقوع پر واقعہ کے بعد ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا مع اے سی پی، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ پہنچ گئے تھے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خود ڈی سی پی موقع پر تھے تو اتنے بڑے حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو کیوں نہیں ملی؟ ساتھ ہی اگر تینوں لڑکوں کی ہلاکت میں پولیس کا کردار مشکوک نہیں ہے تو پولیس نے اتنا سرد رویہ کیوں اختیار کیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دکھانے میں پولیس کے قاصر ہونے صورتحال میں آئی تبدیلی پر متاثرہ خاندانوں کے الزامات کو مسترد کر پانا ناممکن سا ہے اور کہیں نہ کہیں پولیس کا کردار شک میں آتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ دنوں بھی اسی طرح مشتبہ حالات میں رنجیت سنگھ فلائی اوور جو بارہ کھمبا روڈ پر نکلتا ہے پر ایک سائکل سوار باپ اور اس کے 8 سالہ بیٹے کی بھی لاش ملی تھی، جس کو کسی گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ پولیس اس کیلئے ذمہ دار کو بھی آج تک گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وہیں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ مولانا آزاد میڈیکل کالج کے سامنے موجود خونی دروازہ کے پاس ہوئے اس حادثہ کی معلومات پولیس کو فوری طور پر کیسے نہیں ہو پائی۔ جبکہ یہ علاقہ ہائی سکیورٹی علاقہ میں شمار ہوتا ہے اور چند قدم کے فاصلے پر ہی کوٹلہ فیروز شاہ اور پریس لائن پر پی سی آر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں وسطی ضلع کے ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا نے پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ یہ ایک سڑک حادثہ ہے اور فوٹیج میں کہیں ایسا نظر نہیں آتا کہ کسی پولیس کی گاڑی نے اسکوٹی کو ٹکر ماری ہو۔ لیکن معاملے کی تفتیش گہرائی سے کی جا رہی ہے۔

ایل این جے پی اسپتال سے پوسٹ مارٹم کے بعد پھاٹک تیلیان پہنچی تینوں نوجوانوں کی میتوں پر ہزاروں سوگواران موجود تھے، ان کی نماز جنازہ مسجد فیض الہٰی میں ادا کی گئی اور تدفین بعد مغرب ہزاروں پر نم آنکھوں کے ساتھ قبرستان مہندیان میں عمل میں آئی۔ تدفین میں شاہی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری، ایم ایل اے عاصم احمد خان، سابق ایم ایل اے شعیب اقبال، مقامی کونسلر راکیش کمار اور آل محمد اقبال، شفیع دہلوی، حاجی سلیم، حاجی شکیل، نعیم ملک سمیت دیگر سیاسی، سماجی افراد سمیت ہزاروں لوگ موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close