تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

دہلی گیٹ قبرستان سے تجاوزات ہٹاکر نظام درست کیا جائے

اندرون قبرستان میں غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات پر انتظامیہ کمیٹی ایک بار پھر سماجی تنظیموں کے نشانے پر، درگاہ صابریہ میں مختلف سماجی تنظیموں اور آر ڈبلیو ایز کے نمائندوں کی اہم میٹنگ کا انعقاد

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی گیٹ جدید قبرستان اہل اسلام میں مختلف مسائل، تجاوزات، غیرقانونی تعمیرات اور بدنظمی پر قبرستان انتظامیہ کمیٹی ایک بار پھر سماجی تنظیموں کے نشانے پر آگئی ہے۔ سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے قبرستان کی مبینہ خراب حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سماجی نمائندوں کا صاف طور پر کہنا ہے کہ مقامی ’آپ‘ رکن اسمبلی پروین کمار دیش مکھ کی جانب سے اپنے ایم ایل اے فنڈ سے جو 2 کروڑ روپے قبرستان میں ترقیاتی کاموں کےلئے لگانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس فنڈ سے ترقیاتی کام کرائے جانے کے ساتھ اندرون قبرستان سے تجاوزات کو بھی فوری طور پر ہٹایا جائے اور جو غیر قانونی قبضے وہاں کئے گئے ہیں قابضین سے قبرستان کی اراضی خالی کرائے جائے۔ جس میں قبرستان انتظامیہ کمیٹی اور دہلی وقف بورڈ اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

سماجی تنظیموں کا ماننا ہے کہ قبرستان سے تجاوزات ہٹانا اس لئے بھی ضروری ہے، کیوں کہ دہلی اقلیتی کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2018 کے مطابق دہلی کے مسلم قبرستانوں میں تدفین کےلئے جگہ ختم ہو رہی ہے۔ جبکہ دہلی گیٹ قبرستان اہل اسلام میں پورے فصیل بند شہر سے تدفین کےلئے میتیں آتی ہیں۔ اس لئے یہاں سے غیر قانونی قبضے صاف کئے جانے بیحد ضروری ہیں۔ بتا دیں کہ اس سے قبل بھی پرانی دہلی کی مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران نے قبرستان میں سے گزر رہی کالونی کی سیور کی لائن کو ہٹانے کےلئے ایک مہم شروع کی تھی جس میں ان کی محنت رنگ لائی اور اس کے بعد مختلف عوامی نمائندوں، ذمہ دار معززین اور انتظامیہ کمیٹی کی کو ششوں کے بعد وہاں سے سیور لائن ہٹا دی گئی تھی۔ لیکن کافی وقت کے بعد ایک بار پھر سماجی تنظیمیں قبرستان میں مبینہ مختلف مسائل پر حرکت میں آگئی ہیں۔

اسی سلسلے میں آج پرانی دہلی کی مختلف سماجی تنظیموں اور آرڈبلیو ایز کے عہدیداران کی ایک میٹنگ مسجد درگاہ صابریہ دریا گنج میں سید عابد حسین بقائی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں بڑی تعداد میں سماجی تنظیموں کے عہدیداران نے حصہ لیا۔ میٹنگ میں قبرستان کے انتظامی امور، موجودہ کمیٹی کی کار کردگی، دہلی حکومت کی جانب سے قبرستان کو ملنے والے ترقیاتی کاموں کے فنڈ کے استعمال، ملینیم پارک، رنگ روڈ پر قبرستان کو ملنے والی جگہ کے استعمال اور شب بارات پر قبرستان میں کمیٹی کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات پر گفتگو کی گئی۔ میٹنگ میں کئی تجاویزات پیش کی گئیں، جن میں قبرستان میں لائٹیں لگوانے، صفائی، بنچیں، پینے کے پانی کا انتظام، قبرستان کی اونچی بانڈری وال کی تعمیر، سڑک کی تعمیر، سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے، چوکیداروں کو تعینات کئے جانے سمیت قبرستان کے سبھی دروازے مضبوط بنوانے اور نئے بھراؤ کی ہوئی جگہ پر پیڑ لگانے کی بات کی گئی۔ اس تجویز کو انتظامیہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

میٹنگ میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ قبرستان جیسی عبرتناک جگہ پر ناجائز تعمیرات کےلئے خونی تصادم تک ہونے کے باوجود بھی قبرستان انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں پبلک ویلفیئر آرگنائزیشن کی صدر ماہ مبین رعنا، چھتہ لال میاں آر ڈبلیو اے کے صدر نعیم ملک، امیر احمد راجہ، فیصل خان، محمد رئیس، ارشد فخر، عامر انجم، وسیع الدین، خرم انیس، محمد جمال، روشن چراغ، شکیل انجم دہلوی، محمد ارشد، ریاض قریشی، عبد الرحیم، ڈاکٹر زبیر عبداللہ، شمس الدین ملک، محمد مختار، اطہر حسین سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close