تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کی ہو منصفانہ تحقیقات

شاہین باغ کی خاتون مظاہرین نے متاثرین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا کیا مطالبہ٭ کورونا وائرس سے ڈرا کر انہیں بھگانے کی چلی جا رہی ہے چال ٭امت شاہ ہماری نہیں ان کی فکر کریں جو بے گھر ہو گئے ہیں ٭موجودہ شہریت ترمیمی قانون اور 2003 کے سٹیزن شپ ترمیمی قانون کو بھی ختم کیا جائے

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں مسلسل تین ماہ سے دھرنے پر بیٹھی خواتین نے شمال مشرقی دہلی فسادات کی منصفانہ تحقیقات اور متاثرین کو ایک کروڑ روپے کے معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جعفرآباد، شیو وہار اور موج پور میں ہونے والے تشدد کی منصفانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ تفتیش ہونی چاہئے کہ تشدد کیلئے یوگی حکومت والے یوپی سے تشدد کے دوران لوگ کس طرح آئے؟۔

خواتین مظاہرین نے گزشتہ رات پریس کانفرنس میں کہا کہ 1955 میں شہریت قانون بنایا گیا تھا اور اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں 2003 میں اس میں ترمیم کرکے این آر سی کو جوڑا گیا تھا، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف موجودہ شہریت ترمیمی قانون بلکہ 2003 میں جو سٹیزن شپ ترمیمی قانون بنایا گیا تھا اس کو بھی ختم کیا جائے۔ کیوںکہ اسی کی بنیاد پر اگر آج ہمارے اور ملک بھر کی خواتین کے دباؤ میں این آر سی لاگو نہیں ہوتا ہے تو کچھ دن بعد پھر سے لاگو کیا جائے گا۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے اس کو پارلیمنٹ میں پاس کرکے جڑ سے ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جو کہاکہ این پی آر ڈاؤٹ فل نہیں رہے گا اور این پی آر میں جو سوال لئے گئے ہیں ان کی بی ضرورت نہیں ہے۔ سی اے اے کے تعلق سے بھی ریزولیشن پاس کرکے اس کو ختم کیا جائے۔

شاہین باغ کی خاتون مظاہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ڈرانے کی ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں بھی کوئی چال ہے کہ کرونا کا ڈر اتنا پھیلا دو کہ شاہین باغ میں جو خواتین بیٹھی ہیں وہ ڈر کر خود ہی بھاگ جائیں کہ ہمیں کرونا وائرس نہ لگ جائے۔ انہوں نے کہاکہ مودی-امت شاہ ہماری فکر نہ کریں اس کی فکر کرنے کو ہم خود ہیں۔ ہمیں اللہ نے عقل و شعور دیا ہے۔ آپ فکر کریں ان کی جن کو آپ نے بے گھر کردیا، جن غریبوں کے گھر جلا دیئے ان کے گھر بنائیے۔ جعفرآباد اور دوسرے علاقوں میں جو دو ہزار لڑکوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے اس کی خبر دیں کہ وہ کس تھانے میں ہیں، کیونکہ گھر والوں کی شکایت یہ ہے کہ وہ کسی تھانے اور کسی جیل میں نہیں ہیں، ان کو کہاں بند کیا ہے جن کو وہ روز بلاوجہ صرف شک پر بے قصور وں کو پکڑ پکڑ کر لیجا رہے ہیں، وہ کہاں ہیں؟۔ ہمیں جواب چاہئے کہ ہمارے دو ہزار بچے وہ کہاں ہیں۔ ان کے ہی گھر جلائے گئے اور انہی کو اٹھا لیا گیا۔ خاتون مظاہرین نے کرونا وائرس کا خواتین کو ڈر دکھانے پر کہا کہ ملک بھر میں جہاں جہاں بھی شاہین باغ بنے ہوئے ہیں اور وہاں جو شاہین بیٹھی ہوئی ہیں حکومت ان کی فکر نہ کریں، ہم ان کو ماسک بدلوا رہے ہیں، جو ہماری بہنیں حجاب والی ہیں وہ بھی روزانہ اپنے برقع ’ڈیٹول‘ سے دھو کر پہن رہی ہیں۔ ان کو ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے ان کو کچھ ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی وراثت دیتا ہے آپ دوسروں کی اولادوں کو دنگائی کیوں بنا رہے ہیں جن سے دنگے کرائے گئے وہ دوسروں کی اولادیں تھیں۔

ایک خاتون نے کہاکہ ملک کا مستقبل نوجوان ہوتے ہیں۔ ہٹلر کی نیتی تھی کہ جس ملک کو برباد کرنا ہو تو اس کی یورسٹیوں کو ختم کردو، ان کی کتابیں جلا دو، تاکہ وہ اپنی تاریخ بھی نہ جان سکیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے اسی نتی پر چلا گیا، نوجوانوں کو مارا گیا، جامعہ، جے این یو اور تمام یونیورسٹیوں پر پریشر بنایا گیا ہے۔ خواتین نے حکوت سے سوال کیاکہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں 2646 گرفتاریاں بتائے ہیں، جبکہ دہلی پولیس کمشنر کے پی آر اوایم ایس رندھاوا نے اریسٹ پلس ڈٹین 3346 بتائے ہیں، اب کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے۔

ایک دوسری خاتون نے کہا کہ امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو این پی آر سے ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس سے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ہر مذہب کو ڈر ہے۔ حکومت جواب دے کہ جب 24 فروری کو دفعہ 144 لگا دی گئی تو 26 فروری کو دنگے کیسے ہوئے۔ بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کہ 300 لوگ تھے، جو لوگ یو پی سے آئے تھے تو یو پی میں یوگی کی حکومت ہے، کیا ان سے جواب لیا گیا کہ وہ کون تھے، ان کی جانچ ہوئی؟ وہ پکڑے گئے؟ ان کا کوئی کلیئر فیشن نہیں ہوا ہم چاہتے ہیں ان کی جانچ ہو، جن لوگوں کے گھر جلا دئے گئے، لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، اس کی جانچ ہونی چاہئے وہ 300 لوگ کون آئے تھے؟

ایک خاتون نے کہا کہ میں بھارتیہ ہوں لیکن اگر میرا نام این آر سی میں نہیں آتا ہے تو میرے ساتھ کیا ہوگا۔ میں اپنے پیپر تیار کرنے میں جو وقت لگے گا، اس دوران میں کہاں رہوں گی، میری جائداد اور میرے بینک اکاؤنٹ کا حکومت کیا کرے گی؟ اس کا بھی جواب حکومت دے۔ خواتین نے کہا کہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے ہم کسی کے بہکاوے میں ہیں، ہم یہ بتاتے دیں کہ ہم 90دن سے یہاں دھرنے پر ہیں اور یہ تب شروع ہوا تھا جب سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پر مان احتجاج کر رہے جامعہ کے طلبا و طالبات پر پولیس نے بربریت کی تھی، تب سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین اور بچوں نے یہ تحریک شروع کی تھی۔

تین دن تک دہلی میں ہونے والے تشدد کے بارے میں مظاہرین کا کہنا تھا، کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ملک کے قومی دارالحکومت میں اتنے بڑے پیمانے پر تشدد ہوگا۔ فسادیوں نے چھوٹوں بڑوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے CAA اور NRC کے خلاف جاری مظاہروں سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ شمال مشرقی دہلی میں 24 فروری کو شروع ہونے والی فرقہ وارانہ جھڑپیں اور 26 فروری تک جاری رہی، جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، اس کے علاوہ املاک اور کاروبار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close