تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی کے حاجی نے جان پر کھیل کر آگ سے بچائی حاجیوں کی جانیں

مکہ مکرمہ میں عمارت میں لگی آگ میں عازمین کو بچانے والے دہلی کے حاجی عارف کو سعودی حکومت نے اعزاز سے نوازا، ہندوستانی حج مشن کی کارکردگی پر جتایا افسوس

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
حج مشن 2019میں حج بیت اللہ کے مقدس فریضہ کی ادائیگی کیلئے گئے دہلی کے ایک نو جوان عازم نے اپنی جان پر کھیل کر کئی عازمین کی جانیں بچا نے کا قابل ستائش کارنامہ انجام دیا ہے۔ منگل کے روز مکہ مکرمہ میں کے عزیزیہ میں مکتب نمبر 53کی بلڈنگ نمبر 298 کے چوتھے فلور پر لگی آگ لگ گئی تھی، جس میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دہلی کے مصطفی آباد کے عازم محمد عارف کور نمبر DLF1753-2 نے آگ میں گھرے ہندوستانی حاجیوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر بلڈنگ سے نیچے اتارا۔ جس کے اعتراف میں سعودی حکومت کی جانب سے عارف کو حج مشن 2019 کا ہیرو قرار دیتے ہوئے انہیں ٹرافی پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔

حج 2019 کے لئے گئے اور اسی عمارت میں ٹھہرے دہلی کے عازم رٹائرڈ پرنسپل ماسٹر محمد یوسف کے ذریعہ محمد عارف نے ٹیلیفون پر تفصیلی بات کرتے ہوئے بتایا کہ 23 جو لائی منگل کے روز صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے عزیزیہ کے بلڈنگ نمبر 298کے چوتھے فلور پر کچن میں رکھے گیس سلنڈر کے پائپ لوز ہونے کے سبب آگ لگ گئی جو کچن اور دو کمروں میں پھیل گئی ان کمروں میں دہلی اور اطراف کے عازمین موجود تھے۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی اسی عمارت کے تیسرے فلور پر آگ لگ گئی تھی جو عازمین نے بجھا لی تھی۔ لیکن چوتھی منزل پر لگی یہ آگ پھیل گئی، یہاں کوئی فائر سکیورٹی سسٹم نہیں تھا، نہ کوئی الارم تھا، نہ ہی کوئی بیل تھی اور نہ کوئی ایمرجنسی سہولت وہاں موجود تھی۔ جس سے یہاں حاجیوں کی جان پر بن آئی۔ ہم نے 991 پر فائر برگیڈ کو اطلاع کی۔ جس کے بعد آگ بجھانے کی گاڑی وہاں پہنچی۔

عارف نے بتایا کہ انہوں اکیلے 6 حاجیوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر آگ سے باہر نکالا، ان میں ایک خاتون عازم بے ہوش ہو گئی تھیں۔ ان میں دو حاجی اسپتال میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگ اتنی شدت کی تھی کہ خوف سے دو حاجی جان بچانے کیلئے بلڈنگ کے ٹیرس پر چڑھ گئے اور وہاں سے کودنا چاہتے تھے، ان میں ایک دہلی گیٹ اور ایک چاندنی چوک کے تھے، میں ایک سانس میں پانچویں منزل پر چڑھا اور ان کو باحفاظت ایمرجنسی راستے سے نیچے اتارا۔ عارف نے بتایا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ہندوستانی حج مشن کی جانب سے ہماری خبر نہیں لی گئی، حادثے کے 15 گھنٹوں کے بعد دیر رات تقریباً 1بجے ہندوستانی حج مشن کے لوگ آئے لیکن تب بھی انہوں نے ہمارا حال نہیں پوچھا۔ جب سعودی حکومت کے حج مشن کی جانب سے مجھے عزاز دیا جانا تھا اسوقت ہندوستانی حج مشن یا سی جی آئی سے آصف ملک آئے تھے۔

عارف نے بتایا کہ اس حادثے کے بعد ہندوستانی حج مشن کا رویہ قابل افسوس رہا۔ آ گ لگی تو عازمین کو دوسری بلڈنگ میں شفٹ کیا گیا تھا اس کے ساتھ سامان لیجانے کی بھی اجازت دیدی گئی، لیکن بعد میں دباؤ بنایا گیا کہ سب کو واپس اسی بلڈنگ میں آنا پڑے گا ورنہ انہیں منیٰ کا کارڈ نہیں دیا جائے گا اور ہندوستانی حکومت کی ذمہ داری ان کی نہیں ہوگی۔ جس کے بعد سبھی لوگ اپنا سامان اٹھا کر واپس آئے۔ انہوں نے کہاکہ اس آتشزدگی کے واقعہ میں میرا پاور بنک بلو ٹوتھ وغیرہ سمیت تقرباً 15-10 ہزار کا نقصان ہوا لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے میں اللہ کے مہمانوں کی جان بچانے میں کامیاب ہو سکا۔

ماسٹر محمد یو سف نے عارف کے حوصلے کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے انسانی زندگی اور اللہ کے مہمانوں کی جان بچانے کا جو کارنامہ انجام دیا ہم دعاء گو ہیں کہ اللہ رب العزت عارف کو اس کی جزاء خیر دے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close