دلی این سی آر

دہلی کے اسپتال میں انتظامیہ کی زبردست کوتاہی

پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیئے بغیر کورونامتاثر کی لاش لواحقین کو سونپی، ایس ڈی ایم پنجابی باغ کی شکایت پر مقدمہ درج

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی میں کورونا ووائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جہاں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سخت قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور کورونا کا کیس پائے جانے پر پورے علاقہ کو سیٹائز اور اس گھر کے تمام لوگوں کو کورنٹین کردیا جاتا ہے۔ وہیں ایسے نازک وقت میں دہلی کے ایک اسپتال انتظامیہ کی بڑی کوتاہی اور لاپروائی بھی سامنے آئی ہے۔

کورونا مریض پر غفلت برتنے پر پنجابی باغ میں مہاراجہ اگرسین اسپتال کے انتظامیہ کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملہ روہتک ہریانہ کی رہائشی خاتون کے علاج میں غفلت اور دوسرے مریض کے ساتھ انفیکشن کے بعد موت سے متعلق ہے۔ صرف یہی نہیں، مریض کی موت کے بعد اسپتال نے اس کی لاش بغیر پولیس، محکمہ صحت اور انتظامیہ کو اطلاع دیئے لواحقین کے حوالے کردی۔ جس سے اس کے بیٹے کی کورونا بھی مثبت ہو گیا۔ اسپتال اسٹاف نے انتظامیہ کو بتائے بغیر نعش لواحقین کے حوالے کردی۔ ان چیزوں کے انکشاف ہونے کے بعد اسپتال انتظامیہ پر وبائی امور ایکٹ اور دیگر دفعات میں سرکاری حکم کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق10 مارچ کو روہتک کی رہائشی 72 سالہ خاتون کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں گنگا رام اسپتال ریفر کردیا گیا۔ یہ عورت وہاں پر کورونا مثبت نکلی۔ اس کے بعد سی ڈی ایم او ویسٹ کے حکم پر اسپتال میں مریضہ کے رابطے میں آنے والے 82 ملازمین کی جانچ کی گئی اور ان میں سے چھ افراد مثبت پائے گئے۔ اس کے علاوہ اسی وارڈ میں داخل ایک مریض بھی کورونا پازیٹو ہو گیا۔

4 اپریل کو اس خاتون کا انتقال ہوگیا۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے محکمہ صحت کو بتائے بغیر لاش اس کے لواحقین کے حوالے کر دی۔ کنبے والے اس کی میت کو گاؤں لے گئے اور آخری رسومات ادا کیں۔ وہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ جب انتظامیہ کو اس کا پتہ چلا تو معاملے کی چھان بین کے احکامات دیئے گئے تھے۔ تفتیش کے بعد اسپتال انتظامیہ کو سراسر غفلت مانی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ اسپتال انتظامیہ کی کوتاہی اور لاپروائی کے سب کورونا کے خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جہاں تبلیغی جماعت کو کورونا میں اضافہ کرنے کا ذمہ دار مانا جا رہا تھا وہیں اب اس اسپتال انتظامیہ اس حرکت کو کس نظر سے دیکھا جائے گا جس کے سبب ہزاروں افراد میں کورونا کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت مہاراجہ اگر سین اسپتال انتظامیہ کی لاپروائی پر ایکشن لینے کے ساتھ اس گاؤں کو سیل کرکے میت لیجاکر کورونا بڑھانے والے لوگوں پر بھی کیس کیا جائے گا؟۔ یا پھر پولیس اور حکومت کی تمام سختیاں تبلیغی جماعت کے لوگوں پر ہی کی جائیں گی؟ یہ بڑا سوال ہے جس پر مرکزی اور دہلی حکومت کو جواب دینا چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close