اپنا دیشتازہ ترین خبریں

دہلی کی ترقی کے لئے کجریوال نے مانگا پی ایم مودی کا آشیرواد

وزیراعلی کے طور پر مسلسل تیسری مرتبہ حلف لینے والے اروند کیجری وال نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ پوری دہلی کے وزیراعلی ہیں اور راجدھانی کی ہمہ جہت ترقی کے لئے پرعزم ہیں انہیں اس کام کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کے ’آشیرواد‘ کی ضرورت ہے۔ تاریخی رام لیلا میدان میں آج لفٹننٹ گورنر انل بیجل سے عہدہ اور رازادی کا حلف لینے کے بعد مسٹر کیجریوال نے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ سبھی کے لئے کام کریں گے چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی اور ذات ومذہب کے ہوں۔

اگلے پانچ برسوں کے دوران دہلی کی ہمہ جہت ترقی کے لئے عوام کی حمایت طلب کرتے ہوئے مسٹر کیجریوال نے مسٹر مودی کے ’آشیرواد‘ کی ضرورت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ’نئی قسم کی سیاست‘ کےلئے دہلی کی عوام کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ اب پورے ملک کی سیاست بدل رہی ہے۔ مسٹر کیجریوال کے ساتھ ان کی پرانی کابینہ کے چھ وزرا منیش سسودیا، گوپال رائے، ستیندر جین، کیلاش گہلوٹ، عمران حسین اور راجندر پال گوتم نے بھی حلف لیا۔
یہ بھی پڑھیں……. تیسری بار وزیراعلی بنے اروند کجریوال
وزیراعلی نے اس مرتبہ انتخابات میں ملی کامیابی کا کریڈٹ عوام کے سر باندھتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج آپ کے بیٹے نے تیسری مرتبہ حلف لیا ہے اور یہ میری جیت نہیں ہے۔ اس کا کریڈٹ آپ سبھی اور دہلی کے ایک ایک شہری کے سر جاتا ہے۔ یہ جیت ایک ماں، بہن، نوجوان، طالب علموں اور خاندان کی ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہماری کوشش رہی ہے کہ دہلی کے ہر شہری کی زندگی میں خوشحالی آسکے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ کس طرح دہلی کی خوب تیزی کے ساتھ ترقی ہو۔ اگلے پانچ سال کےدوران بھی ہماری یہ کوشش جاری رہے گی۔ سب لوگ اپنے گاؤں میں فون کرکے بتا دینا ہمارا بیٹا سی ایم بن گیا اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ انتخابات میں انہیں جس نے ووٹ دیا اور جس نے نہیں دیا وہ سبھی کے لئے بغیر کسی بھید بھاؤ کے کام کریں گے۔ انہوں نے پوری دہلی کو ساتھ لے کر چلنے کے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ’’ابھی انتخابات ہوئے کچھ لوگوں نے آپ، بی جے پی، کانگریس اور دیگر سبھی پارٹی والوں کا بھی وزیراعلی ہوں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں نے کسی کے ساتھ سوتیلا رویہ نہیں اپنایا۔ کسی کا کام یہ کہہ کر نہیں روکا کہ تم دوسری پارٹی کے ہو۔ میں نے سب کا کام کیا۔

وزیراعلی نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ یہ محلہ کس سیاسی پارٹی کے حامیوں کا ہے اور کس کا نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’مجھے پتہ چلا یہ محلہ بی جے پی والوں کا ہے میں نے وہاں بھی کام کرایا۔ میں دہلی کی دو کروڑ عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انتخابات ختم ہوگئے ہیں۔ آپ نے جس کو ووٹ دیا اب آپ سبھی میرے خاندان کا حصہ ہیں۔ آپ چاہیں کسی بھی پارٹی کے ہوں آپ میرے خاندان کا حصہ ہیں، کبھی کوئی کام ہو میرے پاس بے جھجھک آنا۔ سب کا کام کروں گا چاہے کوئی کسی پارٹی ،کسی مذہب یا ذات کا ہو۔

مسٹر کیجریوال نے مزید کہا کہ دہلی اور ترقی کرنے کےلئے سبھی کا ساتھ مانگتے ہوئے کہا ہےکہ راجدھانی کے لئے بہت بڑے بڑے کام کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں تنہا بڑےبڑے کام نہیں کرسکتا ہےا ور ہم سب مل کر کام کریں گے۔ انتخابات میں سیاست اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ہوتی ہے۔ہمارے مخالفوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہم نے انہیں معاف کردیا ہے اور ٓاج میں ان سے بھی درخواست کرتا ہوں جو کچھ الزام جوابی الزام لگائے گئے اسے بھول جائیں میں سبھی پارٹیوں کے ساتھ مل کا دہلی کی ترقی کرنا چاہتا ہوں۔

میں مرکز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں دہلی کو دنیا کاسب سے اچھا شہر بنانا چاہتا ہوں۔ میں نے وزیراعظم کو بھی دعوت نامہ بھیجا تھا، وہ کہیں اور مصروف ہیں، نہیں آپائے، لیکن میں اس اسٹیج سے دہلی کو آگے لے جانے کے لئے وزیراعظم کا بھی آشیرواد چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی نے اس انتخابات میں نئی سیاست ’’ کام کی سیاست، اسکول کی سیاست، اسپتال کی سیاست، سستی بجلی کی سیاست، اچھی سڑکوں کی سیاست، بدعنوان سے آزاد ہندوستان کی سیاست اور 21 ویں صدی کی سیاست‘ کو جنم دیا ہے۔

وزیراعلی نے اپنے خطاب میں آخر میں ’ہم ہوں گے کامیاب‘ اور ’پورے ملک میں بجا ڈنکا ‘ نظمیں پڑھیں اور بھارت ماتا کے نعرے وہاں موجود پارٹیوں کے حامیوں اور دیگر شہریوں سے لگوائے۔

انہوں نے آخر میں ایک نظم پڑھی:
جب بھارت ماں کا ہر بچہ
بہترین شكشا پائے گا
جب بھارت کے ہر بندے کو اچھا علاج مل پائے گا
جب سرکشا اور سمان
مہیلاؤں میں آتم وشواس جگائےگا
جب کسان کا پسینہ اس کے
گھر میں بھی خوشحالی لائے گا
جب ہر بھارت واسی
جیون کی مول بھوت سویدھا پائے گا
جب دھرم ذات سے اٹھ کر
ہر بھارت واسی بھارت کو آگے بڑھائے گا
تب ہی امر ترنگا
آسمان میں شان میں لهراے گا

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close