تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی پانی ذخیرہ منصوبہ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کیلئے مثال بنے گا: گجیندر سنگھ شیخاوت

مرکزی جل شکتی وزیر اور دہلی کے وزیر اعلی کجریوال نے کیا جمنا فلڈ پلینس پر قدرتی پانی ذخیرہ پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
دہلی میں پانی کی کمی خصوصاً گرمی کے موسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو دو ر کر نے کیلئے جمنا فلڈ پلینس میں سیلاب کے پانی کو جمع کرنے کا دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے مفاد عامہ کے اہم منصوبے کا پائلٹ پروجیکٹ شروع ہو گیا ہے۔ آج مرکزی جل شکتی وزیرگجیندر سنگھ شیخاوت اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال اور وزیر آبپاشی اور سیلاب کنٹرول ستیندر جین نے جمنا پشتا واقع سانگرپور میں اس پرو جیکٹ کا آغاز کیا۔

اس موقع پر منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جل شکتی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہاکہ یہ ایک جدیدطریقہ استعمال ہے۔ میں نیک خواہشات پیش کرتا ہوں کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ثابت ہو۔ آنے والے وقت میں یہ پائلٹ پروجیکٹ دہلی ماڈل کے طور پر صرف ملک بھرمیں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنایا جائے جا ئیگا۔ مرکزی جل شکتی وزیرنے کہا کہ پانی کے وسائل، ندیاں اور زیر زمین پانی کے بارے میں بات کریں تو ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ پانی کے طور پر ہے۔ دنیا میں بہت سارے ملک ایسے ہیں جہاں ہم کم پانی دستیاب ہے، ہمارے یہاں سے کم بارش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اپنے آنے والی نسلوں کیلئے پانی کو محفوظ کیا ہے۔ ہمیں بھی بارش کے پانی کا زیادہ سے زیادہ تحفظ کرنا چاہئے اور پانی کا استعمال احتیاط سے کرنا چا ہئے۔

اس موقع پروزیر اعلی کجریوال نے کہا کہ آج جمنا کے پانی کو زمین کے نیچے کٹائی کرنے کا ایک بہت بڑا کام شروع ہونے جا رہا ہے۔یہ شاید تاریخ میں پہلی بار ہونے جا رہا ہے کہ کسی ریاستی حکومت نے اتنے بڑے سطح پر اس طرح کا استعمال کیاہو۔جس طرح سے آج نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں پانی کے لئے ہاہاکار مچا ہوا ہے، کئی مقامات پر جس طرح سے تیزی کے ساتھ زمین میں پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، ایسے میں اگر یہ پروجیکٹ کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ملک اور معاشرے کے لئے ایک نیا راستہ دکھانے کی سمت میں بڑا قدم ہوگا۔

وزیر اعلی نے بتا یا کہ یہ ذخائر زمین کے اوپر نہیں بلکہ زمین کے نیچے بنایا جا رہا ہے۔ پانی کی کٹائی زمین کے اوپر نہیں بلکہ اندر کی جائے گی۔ یہاں پر تقریبا ایک سے ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے کھودے جائیں گے، لیکن زمین کی اوپری سطح جو پانی کو نیچے نہیں جا نے دیتی اس کی اوپریپرت کو ہٹا دیا جائے گا۔ تقریبا ایک ڈیڑھ میٹر گڑھے کے بعد نیچے ریت نکل آتا ہے، جس میں پانی بہت تیزی سے نیچے کی طرف جائے گا اور پانی کا ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

وزیر اعلی کجریوال نے کہاکہ چونکہ یہ ہمارا پہلا تجربہ ہے اس لئے یہ نہیں معلوم کے پانی کس رفتار سے نیچے جا تا ہے تو سب سے پہلے ہمیں جتنی بھی زمین ملے گی، اس پر گڑھے بنا کرپانی کے ذخیرہ کی شدت کی پیمائش کا کام کریں گے۔ اس کے استعمال کے ذریعے ہم پانی کے اندر کی طرف جانے کی رفتار کو دیکھیں گے۔ جس سے ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ آنے والے وقت میں جب ہم بڑے سطح پر پانی کے ذخیرہ کے عمل کو شروع کریں گے تو کتنا پانی ہم اس زمین میں کٹائی کر سکیں گے، جو اس کے بعد کے آنے والے 10-12 مہینوں تک دہلی میں پانی کے مسئلے کو دور کرنے کے کام آئے گا۔

وزیر اعلی نے کہاکہ اسپرو جیکٹ کا کام جون2019 کے پہلے ہفتے میں شروع ہواتھا ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنی جلدی ہم اس کو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، 7 جون کو کابینہ میں اس کا نوٹ آیا اور آج صرف 2 ماہ میں ہی ہم لوگ اس کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ کابینہ میں تجویز پاس ہونے کے بعد میں مرکزی جل شکتی شیخاوت سے ملا ان کوتجویز بتا ئی، کیونکہ وہ کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں توفوری طور پر ہی ان کو ہماری یہ تجویز سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس ملک کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

وزیر اعلی کجریوال نے کہاکہ اس تجویز کو شروع کرنے کیلئے مختلف اداروں کی جلد منظوری مل جانا اور محض 2 ماہ میں اس پروجیکٹ کے شروع ہو جانے کے کام کا 90 فیصد سہرا مرکزی وزیر جل شکتی شیخاوت کو جاتا ہے۔ آج دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے باہمی تعاون کی وجہ سے ہی یہ پروجیکٹ شروع ہو پا رہا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close