تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹائے گئے امانت اللہ خان

تقریباً دیڑھ ماہ کے بعد دوبارہ نوٹیفیکشن نہ ہونے کی نیند سے جاگا محکمہ ریونیو، 11 فروری 2020 سے کئے تمام سائن اور فیصلے بے معنی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اوکھلا سے ایم ایل اے امانت اللہ خان دہلی وقف بورڈ کی چیئر مین شپ سے ہٹا دئے گئے ہیں۔ دہلی حکومت کے محکمہ ریونیو نے ان کو چیئر مین کے عہدے سے فی الحال ہٹا دیا ہے۔ جس کی وجہ امانت اللہ خان کا دو بارا الیکشن جیتنے کے بعد بورڈ کا ممبر اور چیئرمین کیلئے دوبارا نو ٹیفیکیشن نہیں ہونا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ہیڈ کواٹر ریونیو محکمہ کے جانب سے جاری لیٹر میں کہا گیا ہے کہ دہلی کی اسمبلی 11فروی 2020 کو تحلیل ہو گئی تھی۔ 24 فروری کو تمام ایم ایل اے کو حلف دلایا گیا ہے۔ اسٹیٹریچری پرو ویجن سیکشن 14، دہلی وقف ایکٹ 1955کے مطابق 11 فروری کو اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اور نئے چنے گئے ایم ایل اے میں ایک ایم ایل اے امانت اللہ خان جو اس وقت کے چیئرمین تھے وہ اب نہیں رہ سکتے۔ چناؤ کے نتائج آنے پر چیئرمین شپ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اس کیلئے دوبارا نوٹیفکیشن کرانا ہوتا ہے۔

امانت اللہ خان کو لیٹر میں لکھا گیا ہے کہ آپ بورڈ کے چیئرمین یا ممبر کی حیثیت سے کوئی ایکشن یاری ایکٹ نہیں کر سکتے۔ 11 فروری 2020 سے کوئی چیک یا دستاویز چیئرمین کی یا ممبر کی حیثیت سے سائن نہیں کر سکتے۔ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ 11فروری 2020سے جو بھی چیک یا دستاویزات امانت اللہ خان نے چیئر مین کی حیثیت سے لئے ہوں گے وہ تمام رد ہو گئے ہیں۔ اس دوران سائن کیا گیا کوئی بھی دستاویز ویلڈ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ بھی بتا دیں کہ دوبارا منتخب ہوئے ایم ایل اے امانت اللہ خان خود دہلی وقف بورڈ کی چیئر مین شپ سے استعفی دینے جا رہے تھے لیکن اس سے قبل ہی حکومت کی جانب سے یہ لیٹر امانت اللہ خان کے لئے جاری کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں قانون کے جانکار ایڈوکیٹ مسرور الحسن صدیقی کا کہنا ہے کہ سیکشن 14 میں لکھا ہوا ہے کہ ایم ایل اے کی مدت کار جب ختم ہوتی ہے تو اس کا ٹرم بھی وہیں ختم ہو جاتا ہے، وقف ایکٹ میں بالکل صاف لکھا ہے کہ یہ کوئی بندش نہیں ہے کہ وہ 5سال تک ممبر یا چیئر مین رہیں گے۔صدیقی نے کہاکہ اس میں محکمہ ریونیو کی کوتاہی رہی ہے کہ وقف بورڈ جیسے اہم ادارے میں چیئرمین کی جگہ خالی ہونے پر بقیہ ممبران میں سے کسی کو ممبر بنانا چاہئے تھا۔ لیکن محکمہ نے کسی کو کارگزار چیئرمین نہیں بنایا اور جب شاید امانت اللہ خان کی شکایتیں ملی ہوں گی تو محکمہ جاگا ہے اور لیٹر جاری کیا ہے۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے کہاکہ فسادات کے بعد امانت اللہ خان نے دہلی وقف بورڈ کی ایک ریلیف کمیٹی بنا دی، جبکہ انہوں نے نہ بورڈ کی کوئی میٹنگ بلائی اور نہ ہی ان کو کوئی حق تھا، امانت اللہ خان نے خود ساختہ چیئرمین یہ ریلیف کمیٹی تشکیل دی، جس میں ان کو کروڑوں روپے کا فنڈ آیا ہے۔

چندہ کا پیسہ دہلی وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں نہ آنے اور نہ ہی دہلی وقف بورڈ کے اکاؤنٹ سے دئے جانے سمیت متاثرین کی تمام مدد آؤٹ سائڈ کئے جانے پر ایڈوکیٹ مسرور الحسن صدیقی نے کہاکہ وقف بورڈ میں متاثرین کی مد کیلئے کلیکشن کیمپ لگایا گیا، وقف بورڈ کے نام پر ہی ویڈیو جاری کی گئی، جس میں یہ لکھا گیا کہ دہلی وقف بورڈ کی ریلیف کمیٹی ہے۔ وقف بورڈ کا اسٹاف اس میں شامل ہے، حمال اختر اور امانت اللہ خان باقائدہ اس میں بیان جاری کرتے ہیں کہ یہ کام وقف بورڈ کی جانب سے کام ہو رہا ہے۔ اگر وقف بورڈ کی جانب سے کیا جا رہا تو اس پیسے یا سامان کی وقف بورڈ کی رسید ہوتی، لیکن یہاں کوئی رسید نہیں ہے، کچی رسیدیں بنائی ہوئی ہیں مہر لگا کر اس کی فوٹو اسٹیٹ کاپی کرائی ہوئی ہیں۔ رسید بک نہیں ہے، صرف پین سے ایک سیریل نمبر ڈال کر پیمنٹ کی جا رہی ہے۔ کتنا پیسہ آ رہا ہے، اس کا باقائدہ آڈٹ ہونا چاہئے۔ جس حساب سے پیسہ دیا جا رہا ہے اس میں کروڑوں روپیہ آیا ہے۔

سب سے بڑی بات یہ بھی ہے کہ دہلی وقف بورڈ کے تمام ممبران اور وقف بورڈ کے سی ای او اس میں شامل نہیں ہے، بغیر پاور کے دہلی وقف بورڈ کے نام پر کروڑوں روپیہ جمع کیا گیا ہے۔ اس میں ڈوپلیکیسی بھی ہے، کئی تنظیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں لیکن اس میں آپس میں کورڈینیشن نہیں ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close