تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور موذنوں کی تنخواہوں میں اضافہ

بورڈ کے اماموں کو اب ملیں گے 10ہزار کی جگہ 18 ہزار روپے اور موذنوں کو ملیں گے 9ہزار کی جگہ 16ہزار روپے ماہانہ..............امانت اللہ خان نے اماموں سے ’آپ‘ کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی: وجیندر گپتا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی حکومت کی جانب سے دہلی وقف بورڈ کے تمام فیصلے کرنے کے اختیارات چیئرمین کو سونپے جانے پر چیئرمین امانت اللہ خان نے دہلی حکومت کی جانب سے اعلان کی گئی اماموں اور موذنوں کی تنخواہیں بڑھا دی ہیں۔ یہ تنخواہیں بڑھانے کا اعلان دہلی کے ایوان غالب میں منعقدہ تقریب میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کیا تھا۔

دراصل دہلی حکومت کے متعلقہ وزیر کیلاش گہلوت نے دہلی وقف بورڈ میں سائن کرنے میں افسران اور بورڈ کے چیئر مین اور ارکان کے درمیان چل رہے تنازعہ پر دہلی وقف بورڈ کے سائننگ اتھارٹی میں چیئر مین، ایک رکن اور چیف ایگزیکیٹو آفیسر میں کسی دو افراد کے سائن کو منظور ی دیدی ہے۔ جس کے بعد اماموں کی بڑھی ہوئی تنخواہوں کے اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے چیئر مین امانت اللہ خان نے بورڈ کے اماموں کی تنخواہیں بڑھا دی ہیں۔ اب اماموں کو 10 ہزار کی جگہ 18 ہزار اور موذنوں کو 9ہزار کی جگہ 16 ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ ان کے علاوہ تقریبا 1500 مساجد ایسی ہیں جو بورڈ کے تحت نہیں آتی لیکن ان کے اماموں کو اب 14 ہزار روپے اور موذنوں کو 12ہزار روپے دہلی وقف بورڈ کی جانب سے دیا جائے گا۔

دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان کی جانب سے تنخواہیں بڑھانے کو دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجیندر گپتا نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتایا ہے۔ گپتا نے کہاکہ دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان نے مثالی ضابطہ اخلاق نافذ کے بعد بھی وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہ بڑھائی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی کے چیف الیکشن افسر کے مثالی ضابطہ اخلاق کے آفیسر کی جانب سے ان سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ہے اور ان سے جواب مانگا گیا ہے کہ انہوں نے اماموں اور موذنوں کی تنخواہیں بڑھا کر اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا ہے اور مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔

گپتا نے کہاکہ ’آپ‘ کے سربراہ اروند کیجریوال نے سیاسی فائدہ اٹھانے کےلئے جنوری 2019 میں اس اضافی تنخواہوں کا اعلان کیا تھا۔ وقف بورڈ کے چیئرمین نے تمام اماموں سے عام آدمی پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ بورڈ کے چیئرمین نے انتخابات کے دوران اضافہ کو لاگو کر مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ گپتا نے کہاکہ اس اضافہ سے بورڈ کے تحت آنے والے 200 مساجد کے اماموں اورموذنوں کی تنخواہ میں اضافہ ہوا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close