تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور ملازمین کی تنخاہوں کا تنازعہ حل

وزیر کیلاش گہلوت نے چیئر مین امانت اللہ خان کے ہاتھ میں دیئے بورڈ کے مالی اختیارات

نئی دہلی (انورحسین جعفری)

دہلی وقف بورڈ اور افسران کے بیچ چل رہا تنازعہ اب حل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس سے بورڈ کے ملازمین اور اماموں کی تنخواہیں ملنے کے آثار بھی نمایاں ہو گئے ہیں۔ ذرائع کی اطلاع کے مطابق دہلی کے وزیر محصولیات کیلاش گہلوت نے دہلی وقف بورڈ کے تمام مالی اختیارات چیئر مین امانت اللہ خان کو سونپ دیئے ہیں۔ اب امانت اللہ خان بورڈ کے مالی مسائل کو بورڈ کے قوانین کے مطابق حل کر سکیں گے۔

اطلاع کے مطابق وزیر کیلاش گہلوت نے جس نئے قانون کو منظوری دی ہے اس کے تحت اب بورڈ کے چیئرمین، ایک رکن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میں سے کوئی بھی دو افراد دستخط کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل چیئر مین، ایک رکن اور چیف ایگزیکٹو آفیسرکے دستخط ہوا کرتے تھے۔ لیکن نئے قانون کے مطابق ایک طرح سے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے مالی معاملات میں دستخط کرنے کا حق ختم کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دہلی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہیں بڑھانے کے اعلان کے بعد بھی اماموں اور ملازمین کی کئی ماہ کی تنخواہیں تنازعہ میں پھنسی تھیں۔ اس سلسلے میں چیئرمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ایک رکن نے دستخط کر دیئے ہیں لیکن افسر سائن نہیں کر رہے، جبکہ افسران کا واضح طور پر کہنا تھا جب تک متعلقہ وزیر کے آرڈر نہیں ہوتے اور اس کی تحریری کاپی انہیں نہیں دی جاتی وہ بڑھی ہوئی تنخواہوں پر کس طرح سائن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے اب تک اماموں کو بڑھی ہوئی تنخواہیں تو کیا کئی ماہ سے اماموں اور ملازمیں کو ان کی ریگولر ملنے والی پرانی تنخواہیں بھی نہیں مل سکی تھیں اور وہ فاقہ کشی کا شکار ہو رہے تھے۔

لیکن اب دہلی حکومت کے متعلقہ وزیر کی جانب سے نئے آرڈر جاری ہونے اور سائن اتھارٹی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر، بورڈ کے چیئر مین اور ایک رکن میں سے کسی دو کو حق دیئے جانے سے بورڈ کے تمام مالی مسائل حل ہوتے نظر ا ٓرہے ہیں اور ملازمین سمیت بورڈ کے اماموں اور موذنوں کو جلد ہی بڑھی ہوئی تنخواہیں بھی ملنے کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے اور دہلی وقف بورڈ اور افسران کے بیچ چل رہے تنازعہ میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ دہلی وقف بورڈ ایک خود مختار مسلم ادارہ ہے، جس کی جائداد اور اس سے ہونے والی آمدنی مسلم قوم کی فلاح و بہبود کےلئے ہے۔ اس لئے یہاں یہ ایک بہتر فیصلہ کہا جا سکتا ہے کہ اب دہلی وقف بورڈ کو اپنے فیصلے لینے میں کسی طرح کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔

ادھر دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین کو وزیر محصولیات کیلاش گہلوت کی جانب سے مالی اختیارات دیئے جانے پر دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجیندر گپتا نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے دہلی وقف بورڈ ایکٹ 1995 اور دہلی وقف بورڈ قوانین1997 کی خلاف ورزی بھی بتایا ہے۔ گپتا کے مطابق وقف بورڈ کے چیئرمین کے ہاتھ میں تمام اختیار آنے کا اثر یہ ہوگا کہ بورڈ کے چیئرمین اور رکن بغیر چیف ایگزیکٹو آفیسر کے دستخط کے بینک سے پیسہ نکال سکتے ہیں اور ہر قسم کا لین دین کر سکتے ہیں۔ حزب اختلاف لیڈر نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ قوانین 1997 کے قوانین 17 میں یہ واضح درج ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر مالی بجٹ اور اکاؤنٹنگ کے نظام کے انچارج ہوں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close