تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی میں ’آپ‘ اور کانگریس میں اتحاد پر نوک جھونک

راہل گاندھی نے کہاکہ ہم چار سیٹ پر تیار لیکن کجریوال نے لیا یوٹرن، میں نے کوں سا یوٹرن لیا؟ ابھی تو بات چیت چل ہی رہی تھی: اروندکجریوال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
2019 کے پارلیمانی انتخابات میں ملک کی سب قدیم پارٹی کانگریس اور دہلی میں برسر اقتدار عام آدمی پارٹی کا اتحاد ابھی بھی پش وپیش میں مبتلہ ہے۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی اپنے ساتوں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر چکی ہے جبکہ کانگریس کی جانب سے بھی چار سیٹوں پر امیدواروں کے ناموں پر اعتماد جتاتے ہوئے چاروں ناموں کو طے کیا جا چکا ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کانگریس اور ’آپ‘ کے درمیان اتحاد کی گنجائش نکالے جانے کی کوششیں جاری ہیں اور ابھی امید کی جا رہی ہے شاید کانگریس اور ’آپ‘ اتحادی ہو جائیں۔ اس کی وجہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی جانب سے دونوں پارٹیوں کے اتحاد کی پیروی پر کیا گیا ٹویٹ مانا جا رہا ہے۔ حالانکہ راہل گاندھی نے کجریوال پر اور کجریوال نے راہل پر ٹویٹ کرکے ایک دوسرے پر اتحاد سے بھاگنے کا الزام لگایا ہے۔ لیکن اس الزام کو بھی اتحاد کی کو شش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے آ ج دونوں پارٹیوں کے اتحاد کی پیروی کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ کانگریس اور ’آپ‘ کے اتحاد کا مطلب بی جے پی کا دہلی سے صفایا ہے، وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیکن کجریوال نے یوٹرن لے لیا ہے۔ ہم ’آپ‘ کو دہلی میں 4سیٹیں دینے کو بھی تیار ہیں، لیکن کیجریوال نے یوٹرن لے لیا ہے۔ راہل نے لکھا کہ ہمارے دروازے آ ج بھی کھلے ہیں لیکن وقت تیزی کے ساتھ نکلتا جارہا ہے۔

بتا دیں کہ وہیں کل منگل سے چھٹے مرحلے میں دہلی میں ہونے والے انتخابات کےلئے نومینیشن کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے، جس کو دیکھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ ادھر گزشتہ روز دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا کے بیان کہ ہم اتحاد سے 33سیٹوں پر بی جے پی کو ہرا سکتے ہیں۔ لیکن کانگریس ملک پر منڈلا رہے خطرے کو سمجھ نہیں رہی ہے اور دہلی، ہریانہ چنڈی گڑھ میں اتحاد کو تیار نہیں ہے۔ کانگریس کے صدر راہل گا ندھی کے ٹویٹ کے جواب میں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ ابھی تو بات چیت چل رہی تھی، میں نے کون سا یوٹرن لیا؟۔ کجریوال نے کہاکہ آپ کا ٹویٹ ظاہر کرتا ہے کہ اتحاد آپ کی مرضی نہیں بلکہ دکھاوا ہے، مجھے دکھ ہے کہ آپ بیان بازی کر رہے ہیں۔ آج ملک کو مودی اور شاہ کے خطرے سے بچانا ضروری ہے۔ لیکن بدقسمتی ہے کہ آپ یوپی اور دیگر ریاستوں میں بھی مودی مخالف ووٹ تقسیم کرکے مودی جی کی مدد کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی کنوینر گوپال رائے نے راہل گاندھی کے بیان پر کہا کہ آخر کانگریس 18 سیٹوں پر بی جے پی کو ہرانے کےلئے دلچسپی کیوں نہیں دکھا رہی۔ راہل گاندھی نے اگر 4 سیٹوں کےلئے دروازہ کھولا ہے تو ہم نے دہلی، ہریانہ اور چندی گڑھ میں 18 سیٹوں پر بی جے پی کو ہرانے کےلئے اتحاد کا دروازہ کھول رکھا ہے۔

پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کی جانب سے کانگریس لیڈران سے بات چیت کرنے والے سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ پنجاب، ہریانہ، دہلی، چندی گڑھ کی 31 سیٹوں پر اتحاد کرکے آ پ دوبارہ اقتدار میں لوٹنے کی بی جے پی کی امید کو پوری طرح ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن کانگریس مودی کو اقتدار میں لوٹنے کی امید کو کیوں زندہ رکھنا چاہتی ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں ’آپ‘ کے چار اراکین پارلیمنٹ، 20 اراکین اسمبلی ہیں۔ پھر کانگریس ہمیں وہاں ایک بھی سیٹ دینا نہیں چاہتی، ہریانہ جہاں کانگریس کا ایک رکن پارلیمنٹ ہے، وہاں بھی ہمیں کانگریس ایک سیٹ دینا نہیں چاہتی۔ دہلی میں جہاں کانگریس کا نہ تو کوئی رکن پارلیمنٹ ہے اورنہ ہی کوئی رکن اسمبلی، یہاں بھی کانگریس ہم سے تین سیٹ چاہتی ہے، کیا ایسے سمجھوتہ ہوتا ہے؟سنجے سنگھ نے کہا کہ آخر آپ دوسری ریاستوں میں بی جے پی کو کیوں روکنا نہیں چاہتے؟

وہیں کانگریسی لیڈر پی سی چاکو نے بھی اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ دروازے کھلے ہیں، کانگریس اور ’آپ‘ میں اتحاد ہونا چاہئے۔ چاکو نے کہاکہ ’آپ ‘ دہلی سمیت 18سیٹوں پر اتحاد کا مشورہ دے رہی ہے، لیکن ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آیئے! پہلے ہم اور آپ دہلی میں ساتھ ا ٓئیں۔ چاکو نے کہاکہ راہل جی نے کہاکہ ہمارے دروازے کھلے ہیں تو اتحاد ہونا چاہئے۔ ایک ریاست میں جو فیصلہ ہوتا ہے اسے دوسری ریاست میں اسی طرح دہرایا نہیں جا سکتا۔
غرض یہ کہ ’آپ ‘ اور کانگریس کی آج کی اس نوک جھونک کو ایک مرتبہ پھر سے اتحاد کی گنجائش نکالنے کی کوشش کے طور پر مانا جا رہا ہے۔ کیوں کہ دونوں ہی پارٹیوں کے اکثر لیڈران اس اتحاد کے حق میں ہیں لیکن معاملہ دہلی کے علاوہ ہریانہ، پنجاب، چنڈی گڑھ میں اتحاد کئے جانے پر آکر رک جاتا ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close