تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

دہلی فساد میں پولس کی مجرمانہ غفلت کے خلاف کارروائی ضروری: مولانا محمود مدنی

جمعۃ علماء ہند کی پیٹیشن پر دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی، ریاستی حکومت سمیت دہلی پولیس کو جاری کیا نوٹس، اگلی سماعت 27 مارچ کو

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں دہلی پولیس کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ دہلی پولیس کے مجرمانہ اور غفلت کے عمل کے خلاف ملک بھر میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی جماعت، جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ میں پٹیشن پر کورٹ نے مرکزی، ریاستی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پاٹل اور جسٹس ہری شنکر کی ڈویژن بنچ نے آج جمعۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے کہ وہ فساد زدہ علاقوں سے متعلق ویڈیو فوٹیج، سکھ فساد 1984کے طرز پر معاوضہ، ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی کی تشکیل، فساد زدہ علاقوں میں پولس اور دیگر ایجنسیوں، اداروں و افراد کی سرگرمیوں کی بااختیار باڈی سے جانچ کرانے نیز لاء کمیشن آف انڈیا کی 267 ویں رپورٹ کے مطابق سیکشن 153 C (نفرت کو بھڑکانے سے روکنے) اور سیکشن 505A (مخصوص معاملات میں تشدد سے متعلق اشتعال انگیزی، دھمکی اور خوف کے اسباب) جیسی دفعات کا اضافہ کرنے پر جواب داخل کرے۔ عدالت نے اگلی سماعت کیلئے 27 مارچ کی تاریخ طے کی ہے۔

اس سلسلے میں عدالت میں عرضی گزار مولانا محمود مدنی نے کہا کہ پولس افسران کی مجرمانہ غفلت کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے، جب تک ذمہ داری طے نہیں کی جائے گی ہم فسادات پر کنٹرول نہیں کرسکتے۔ عرضی میں دہلی حکومت کے ذریعہ دئے گئے معاوضہ کو ناکافی بتاتے ہوئے عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی حکومت کو ہدایت دے وہ سکھ فساد 1984 میں دئے گئے معاوضے کے اسکیم کے تحت حالیہ دہلی فساد متاثرین کو معقول معاوضہ فراہم کرے۔ جمعۃ علماء ہند کی طرف سے عدالت میں ایڈوکیٹ جون چودھری، ایڈوکیٹ محمد طیب خاں، ایڈوکیٹ دانش احمد، عظمی جمیل اور ایڈوکیٹ محمد نوراللہ پیش ہوئے۔ اس معاملے کی نگرانی جمعۃ علماء ہند کے سکریٹری ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جمعۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں عدالت عالیہ سے درخواست کی تھی کہ وہ جو اب دہندہ کو حکم دے کہ وہ فسادی اور مجرموں کے خلاف نام بنام ایف آئی آر درج کروائے اور پورے معاملے کی منصفانہ تحقیق کیلئے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے اور ایسی کسی کمیٹی میں کوئی پولس فورس کا ممبر شامل نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم جاری کیا جائے کہ 3 فروری تا یکم مارچ 2020 کے درمیان فساد زدہ علاقوں کے ویڈیو فوٹیج کو محفوظ رکھا جائے اور ثبوتوں کو جمع کئے بغیر ملبے کو نہ ہٹایا جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ دہلی پولس عملہ کے ذریعہ لاپروائی یا دانستہ فساد میں شرکت اور ثبوتوں کو مٹانے جیسے جرائم کے فوٹیج منظر عام پر آئے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں لاء اینڈ آر ڈ کی ایجنسیوں کو لے کر بد اعتمادی کی فضا ہے، ایسے میں عدالت سے یہ گہار لگائی جاتی ہے کہ وہ ان کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی کا حکم دے اور اس سلسلے میں ایک بااختیار اور علیحدہ باڈی قائم کی جائے جو فساد میں ملوث پائے جانے والی ایسی اسٹیٹ مشنریوں، سماجی و سیاسی تنظیموں کی مکمل تحقیق کرے جو فساد کے وقت یا پہلے متعلقہ علاقوں میں سرگرم تھیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close