تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی سرکاری اسکولوں کے طرز پر ملک تعلیم کے میدان میں آگے ہو: منیش سسودیا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں چلائے جا رہے ہیپی نیس کلاس پروگرام کے ایک سال پورے ہونے پر اسکولوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دہلی کے اسکولوں میں منعقد کی جا رہی ہیپی نیس پروگرام تقریبات میں تعلیم کی اصلاح پسند سونم وانگ چوک اور اڑیسہ کے وزیر تعلیم سمیر رنجن داس نے دہلی کے وزیر اعلی منیش سسودیا کے ساتھ شرکت کی۔

دہلی کے وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ان کو بتایا کہ بچوں میں اعتماد میں اضافہ کرنے والی یہ ہیپی نیس کلاسیں نرسری سے لے کر کلاس 8 تک کے بچوں کیلئے ہے۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں روزانہ 45 منٹ کی ہیپی نیس کلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس فن سے بچوں میں بڑھتے ہوئے اعتماد اور خوشی کے ساتھ جذباتی طور پر مضبوط ہونا سکھایا جاتا ہے۔ اس کلاس کو میڈیٹیشن کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے، پھر کہانیوں وغیرہ کے ذریعہ بچوں کو زندگی کی اقدار کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ اس سال بہت اچھے نتائج دیکھنے کو ملے ہیں۔

ہیپی نیس کلاسوں سے متاثر ہوئی سونم وانگ چوک نے ملک بھر میں ایسے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا مستقبل کچھ نجی اسکولوں کی ترقی سے نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ریاضی ہی نہیں بلکہ سائنس کے بچوں کی ذہنی حالت کو سمجھنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو ایک اچھی کوشش ہے۔ تعلیم کی بہتر سطح کیلئے، ہر ریاست کی حکومت کو سیاست سے ہٹ کر ایسی تعلیم دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس دوران وزیر اعلی منیش سسودیا، سونم وانگ چوک اور اڑیسہ کے وزیر تعلیم سمیر رنجن بچوں کے ساتھ بیٹھے اور انہوں نے بچوں سے بات چیت کی۔ سمیر رنجن نے کہا کہ میں یہاں پڑھتے بچوں کی تعلیم اور سرکاری اسکول کے ماحول سے بہت متاثر ہوا ہوں طلبہ کو یہاں بہتر ماحول مل رہا ہے۔ اڑیسہ جاکر میں اس طرح کے اسکولوں کیلئے وزیر اعلی سے بات کروں گا کہ ہمارے اسکول بھی دہلی کی طرز پر ہوں۔

نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بچہ پڑھائی میں اچھا رہے اور ان کی عزت کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں چیزیں یہاں بچوں میں دیکھی جا رہی ہیں۔ بچوں نے حساس انداز میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پورا ملک تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو۔ دہلی میں سرکاری اسکولوں کی طرز عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ ہم نے ملک کے مختلف حصوں سے سیکھا ہے۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے یہاں آ رہے ہیں اور اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے تجربے سے تعلیم کی سطح کو بہتر بنا سکیں اور یہ معلوم ہو سکے کہ کس کی کمی ہے، تاکہ ہم اسے بہتر بنا سکیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close