تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی خواتین کانگریس کا کھٹّر کے خلاف بی جے پی دفتر پر احتجاجی مظاہرہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی پر ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کی جانب سے کئے گئے تبصرے پر آج دہلی خواتین کانگریس کی صدر شر مشٹھا مکھرجی کی قیادت میں دہلی خواتین کانگریس نے بی جے پی کے صدر دفتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور منوہر لال کھٹر کا پتلا نذر آتش کیا۔ دہلی پردیش مہیلا کانگریس نے مطالبہ کیا منوہر لال کھٹّر، سونیا گاندھی سے اور ملک کی تمام خواتین سے اپنے شرمناک بیان کیلئے معافی مانگیں۔

ہریانہ کے وزیر اعلی کھٹّر کے بیان کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے شرمشٹھا مکھرجی نے کہاکہ کھٹربار بار خواتین کیلئے جو قابل مذمت تبصرے کرتے ہیں وہ ان کی خواتین کے وقار کے تئیں توہین اور خواتین مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ شرمشٹھا مکھرجی نے کہا اسی ذہنیت کی وجہ سے ہریانہ کی خواتین متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کی کھٹر راج میں خواتین پر ہونے والے جرائم میں کئی گنا برتری ہوئی ہے، عصمت دری کے واقعات میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور خواتین کے اغوا کے واقعات 100 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھیڑچھاڑ کے ڈر سے ہریانہ میں لڑکیاں اسکول تک جانے سے ڈرتی ہیں۔ شرمشٹھا مکھرجی نے کہا کہ ہریانہ میں کھٹر راج جنگل راج جیسی حیثیت رہتا ہے۔

شرمشٹھا مکھرجی نے کہاکہ وزیر اعظم کامنصوبہ بیٹی پڑھاو بیٹی بچاؤ، جس ہریانہ سے شروع کیا گیا تھا وہ اسی ریاست میں مکمل طور پر ناکام ہے۔جہاں ملک میں اوسطاً جنسی اعداد میں 930 لڑکیوں پر 1000 لڑ کے ہیں، وہیں ہریانہ میں یہ قومی اوسط سے بہت کم ہے۔ ہریانہ میں 914 لڑکی پر 1000 لڑکے ہیں۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ پانی پت ضلع جہاں ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو‘ منصوبہ بندی شروع ہوئی تھی،یہاں جنسی تناسب مایوس کن سطح پر 877 لڑکی پر 1000 لڑکے ہیں۔شرمشٹھا مکھرجی نے کہا کی بیبیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم کے تحت2015 میں مختص بجٹ 928 کروڑ میں سے صرف 19 فیصد ریاست اور ضلع میں تقسیم کیا گیا ہے،جبکہ اس بجٹ کا 40 فیصد اشتہارات میں خرچ کیا گیا ہے۔ حساب کے مطابق محض 0.69پیسے ہی ایک لڑ کی پر اس اسکیم کے تحت خرچ کیا گیا ہے

اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کی ترجمان سپریا شریناتے، الکا لامبا،دہلی مہیلاکانگریس کی نائب صدر پرینکا سنگھ، ضلع صدر امرلتا سانگوان، پشپا سنگھ، گرمیت کور، اندو سوری،نبیلا احمدسمیت سینئر خواتین لیڈر،صوبائی عہدیدار اور سیکڑوں خواتین کارکنان موجود تھیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close