تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی حکومت کا ائمہ مساجد اور مؤذنوں کو بڑا تحفہ

دہلی وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہیں 10ہزار سے بڑھا کر 18ہزار اور موذن کی تنخواہ 9ہزار سے بڑھا کر 16ہزار، غیر وقف مساجدوں کے اماموں کو 14ہزار اور موذن کو 12ہزار ماہانہ ملے گئی تنخواہ، مودی اور امت شاہ کے علاوہ کوئی بھی وزیر اعظم بنے ہم اس کی حمایت کریں گے: اروند کجریوال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی وقف بورڈ کی مسجدوں اور غیر وقف مساجد کے اماموں اور موذنوں کو عام آدمی پارٹی کی دلی حکومت کی جانب سے بڑا تحفہ دیا گیا ہے۔ دہلی حکومت نے آج دہلی وقف بورڈ سبھی مسجدوں کے اماموں کو اور موذنوں کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دہلی میں تقریباً 1500 غیر وقف مساجد کے امام اور موذنوں کو بھی دہلی وقف بورڈ کی جانب سے تنخواہیں دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی جانب سے اتنا بڑا اور غیر معمولی اعلان کیا ہو، لیکن یہاں یہ بھی بتا دیں کہ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جہاں ائمہ مساجد اور علماء کرام جہاں مسجدوں میں دین کا درس اور نماز ادا کرائیں گے وہیں انکا سیاسی استعمال کرکے ان سے سیاسی تشہیر کرانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

دہلی وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہیں 10ہزار سے بڑھا کر 18ہزار اور موذن کی تنخواہ 9ہزار سے بڑھا کر 16ہزار کر دی گئی ہے۔ یہی نہیں دہلی کے مختلف علاقوں گلی محلوں میں موجود غیر وقف مساجدوں کے اماموں کو 14ہزار اور موذن کو 12ہزار رو پے ماہانہ تنخواہ دہلی وقف بورڈ دیگا۔ جو فروری ماہ سے ان کے اکائونٹ میں آنی شروع ہو جائے گی۔ آج دہلی وقف بورڈ کی جانب سے ایوان غالب میں منعقدہ تقریب میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کی موجودگی میں وزیر اعلی کی جانب سے یہ اعلان دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان نے کیا۔ اس موقع پر دہلی کابینہ کے وزیر خوراک و رسد عمران حسین، وزیر محصولیات کیلاش گہلوت، اسمبلی اسپیکر راکھی بڑلان، دہلی حج کمیٹی کے چیئر مین حاجی اشراق خان، ارکان اسمبلی سریندر کمانڈو، منوج کمار، گلاب سنگھ، مشرقی دہلی سے ’آپ‘ کنوینر آتشی، آپ شعبہ اقلیت کے صدر حاجی یونس، دہلی وقف بورڈ کے سی ای او احسن عابد اور ممبران بھی بطور خاص موجود تھے۔

ائمہ کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی نے جہاں چیئر مین امانت اللہ خان کے اعلان کی تائید کرتے ہوئے کسی بھی طرح کی ضرورت کو پورا کر نے کا یقین دلایا، وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی اور امت شاہ کو ہرانے کےلئے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ بی جے پی، مود ی اور امت شاہ کے علاوہ کوئی بھی وزیر اعظم بنے ہم اس کی حمایت کریں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ آج ملک کو سب سے بڑا خطرہ مودی اور امت شاہ کی جوڑی سے ہے۔ مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کا جو کام پاکستان 70سال میں نہ کر سکا وہ کام بی جے پی کی مودی حکومت نے 5سال میں کر دیا۔ اگر یہ دو بارہ آگئے تو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے ان کو روکنا بہت ضروری ہے۔ وزیر اعلی نے حاضرین کو گزشتہ عام انتخابات کے اعداد و شمار بھی بتائے کہ سروے بتا رہے ہیں کہ اس مرتبہ بی جے پی کو 10فیصد ووٹ کم رہیں گے جو اگر عام آدمی پارٹی کو ملے تو دہلی میں ساتوں سیٹیں ’آپ‘ کی ہو ں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کو صرف عام آدمی پارٹی ہی ہرا سکتی ہے۔ اس لئے اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو بیدار کریں اور عداد و شمار ضرور بتائیں۔ وزیر اعلی نے دہلی وقف بورڈ کی جائدادوں کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وقف املاک کا استعمال صرف اس کے معاشرے کےلئے ہونا چاہئے، جس کےلئے دہلی حکومت اور چیئر مین وقف بورڈ کوشاں ہیں۔

دہلی کے وزیر عمران حسین نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی قیادت میں جو کام دہلی حکومت کر رہی ہے وہ قابل ستائش ہیں۔ پہلے کی حکومتوں نے وقف املاک یا اماموں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ لیکن یہ سچائی پر مبنی حکومت ہے جس نے وقف املاک پر قابضین کو سبق سکھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی میں بی جے پی کو کوئی ہرا سکتا ہے تو صرف عام آدمی پارٹی ہے اس لئے اپنا ووٹ منتشر اور تقسیم مت ہونے دینا۔ وزیر کیلاش گہللوت نے کہا کہ حال ہی میں عرس کمیٹی کے مسائل کو وزیر اعلی نےسنے تھے جن کا حل ہو رہا ہے اسی طرح آج اماموں کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج الیکشن کا ماحول ہے امت شاہ اور مودی کو جوڑی کو ہرانا ہے، جس طرح آپ نے پہلے ساتھ دیا تھا اس بار بھی عام آدمی پارٹی کا ساتھ دیں۔

دہلی وققف بورڈ کے چیئر مین امانت اللہ خان نے کہا کہ بورڈ نے اپنی جائیدادوں سے گزشتہ ڈیڑھ مہینے میں 80لاکھ روپے کی رقم وصول کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی آمدنی بڑھنے کا فائدہ بیواؤں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ ساتھ طلباء کو ملنے والے وظیفے کے طور پر ہوگا۔انہوں نے اماموں سے کہا کہ جب عام آدمی پارٹی آپ کےلئے اتنا سب کر رہی تو ہمارا بھی فرض بنتا ہے مودی اور امت شاہ کو روکنے کےلئے عام آدمی پارٹی کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر رکن اسمبلی منوج کمار، دہلی وقف بورڈ کے رکن حمال اختر، چو دھری شریف، نعیم فاطمہ کاظمی، رضیہ سلطانہ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر اشفاق احمد عارفی نے انجام دیئے۔

تقریب میں مدرسہ عالیہ کے مدرس مو لانا محمد مسلم قاسمی، مو لانا جاوید قاسمی، مو لانا ساجد رشیدی، مو لانا عبدلسبحان، مو لانا رضوان، مو لانا عارف قاسمی، مو لانا معراج، مفتی افروز، مو لانا ففرقان قاسمی اور مو لانا بشیر سمیت بڑی تعداد میں ائمہ مساجد اور مدرسین موجود تھے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close