تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اسپیشل سیل نے برآمد کیا دہلی تشدد معاملے سے متعلق رجسٹرڈ

میران حیدر کے گھر سے برآمد رجسٹرڈ میں تفصیلات ہونے کا دعویٰ، شیو وہار، راجدھانی اسکول کے مالک فاروق بھی پو لیس ریمانڈ پر

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی تشدد معاملے میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ایک ایسے رجسٹرڈ کے برآمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس میں فسادات کیلئے رقم کی تفصیلات درج ہیں۔ اسپیشل سیل کا کہنا ہے کہ یہ رجسٹرڈ جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ممبر میران حیدر کے گھر سے برآمد ہوا ہے۔ جس میں شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے لئے تقسیم کی جانے والی رقم کی تفصیلات ہیں۔ دہلی پولیس نے ہینڈ رائٹنگ ملانے کیلئے رجسٹرفورینسنک جانچ کیلئے بھیجا ہے۔

پولیس کے مطابق میران حیدر کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔ گرفتاری کے بعد میران حیدر کے گھر کی تلاشی میں یہ رجسٹر اور ڈھائی لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران اس کے بینک اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے۔ پولیس تشدد کو اس برآمد رجسٹر کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ فروری کے مہینے میں شمال مشرقی دہلی میں فسادات ہوئے تھے۔ جس میں 53 افراد جانبحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس تشدد معاملے پر 700 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئیں اور 2500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل فسادات کی سازش کے مقدمہ درج کرکے تفتیش کر رہی ہے۔

وہیں دہلی فسادات معاملے میں ہی گرفتار راجدھانی اسکول کے مالک فاروق کو عدالت نے ایک روزہ پولیس ریمانڈ کے لئے بھیجا ہے۔ اس سے قبل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے فاروق کا پولیس ریمانڈ دینے سے انکار کردیا تھا۔ کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج نے مجسٹریٹ کورٹ کے 24 جون کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کو فاروق سے پوچھ گچھ کے لئے ایک دن کے ریمانڈ پر دے دیا ہے۔ تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ ریمانڈ کے دوران پولیس اسے دہلی سے باہر نہیں لے جا سکتی۔ ریمانڈ حاصل کرنے کے لئے پولیس نے کہا کہ ملزم سے یہ تفتیش کرنی ہے کہ فسادات میں راجدھانی اسکول کی چھت پر کس طرح بڑی غلیل لگائی گئیں اور اس غلیل کا استعمال علاقے میں آتش زنی کیلئے کس طرح کیا گیا۔

واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں 25 فروری کو ہونے والے فسادات کے دوران، شیو وہار میں واقع راجدھانی اسکول کے مالک فیصل فاروق کو فساد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اگرچہ ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت پیش نہ ہونے پر ضمنی عدالت نے ضمانت دی تھی، لیکن پولیس نے اسے فسادات سے متعلق دوسرے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close