تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

دھونی معاملے پر مینجمنٹ کو گواسکر کی کھری کھری

سابق ہندوستانی کپتان اور اب کمنٹیٹر سنیل گواسکر نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ میں مہندر سنگھ دھونی جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو بلے بازی آرڈر میں نیچے بھیجنے پر ٹیم مینجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گواسکر نے دھونی کو بلے بازی آرڈر میں ساتویں نمبر پر بھیجنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ہندوستان کو اس مقابلے میں 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم عالمی کپ سے باہر ہو گئی۔

ہندوستان 240 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے تین وکٹ محض پانچ رن پر گنوا چکا تھا۔ ان حالات میں امید تھی کہ اننگز کو سنبھالنے کے لئے دھونی کو اوپر بھیجا جائے گا لیکن ٹیم مینجمنٹ نے انہیں رشبھ پنت، دنیش کارتک اور ہردک پانڈیا کے بعد ساتویں نمبر پر بھیجا۔ ٹیم مینجمنٹ کے اس فیصلے کی ہر جگہ سخت تنقید ہو رہی ہے اور گواسکر جیسے بڑے کھلاڑی نے بھی کہا ہے کہ دھونی کو اوپر بھیجا جانا چاہیے تھا۔ ہندوستان کے چار وکٹ 10 اوور میں 24 رن پر گر چکے تھے۔ سب کو امید تھی کہ دھونی میدان پر اتریں گے لیکن پنت کا ساتھ دینے پانڈیا میدان پر آئے۔ دونوں نے پانچویں وکٹ کے لئے 47 رن کی ساجھےداری کی لیکن رنز کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے انہوں نے اپنا تحمل کھو دیا ہے اور اونچے شاٹ کھیل کر کیچ دے بیٹھے۔

گواسکر نے اسٹار اسپورٹس سے کہاکہ چوتھا وکٹ گرنے کے بعد پنت کا ساتھ دینے دھونی کو میدان پر آنا چاہئے تھا کیونکہ ان جیسا تجربہ کار کھلاڑی ایک نوجوان کھلاڑی کو دباؤ کے حالات میں تحمل سے کھیلنے کے لئے حوصلہ افزا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 24 رن پر چار وکٹ کے اسکور کے وقت آپ دو ایسے کھلاڑیوں کو نہیں اتار سکتے جو جارحانہ انداز سے کھیلتے ہیں۔ پنت اور پانڈیا دونوں ہی جارحانہ کھلاڑی ہیں اور اگر پنت کا ساتھ دینے دھونی اترتے تو وہ اس نوجوان کھلاڑی کو سمجھا سکتے تھے۔

سابق کپتان نے کہاکہ پنت اپنا صبر کھو رہے تھے اور ان کی رہنمائی کرنے کے لئے نان اسٹرائیکر اینڈ پر کوئی تجربہ کار کھلاڑی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن انتظامیہ نے پانڈیا جیسے جارحانہ کھلاڑی کو بھیج دیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس وقت دھونی کو کیوں نہیں بھیجا گیا۔ ہندستانی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ فیصلہ کس طرح کیا گیا۔ یہ سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ تھا۔ اس بارے میں جب میچ کے کپتان وراٹ کوہلی سے پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ دھونی کو میچ میں آخر تک ٹکے رہنے کے ذمہ داری دی گئی تھی جہاں وہ خراب صورت حال کو سنبھال سکیں اور اگر چھ سات اوور باقی ہوں تو وہ سخت حملہ کر سکیں۔

گواسکر نے کہا کہ ایسی صورت میں امباٹي رائیڈو جیسے بلے باز کو رہنا چاہئے تھا جو ٹاپ آرڈر کے خاتمے پر مڈل آرڈر کو سنبھال سکتا۔ رائیڈو اختیاری کھلاڑیوں میں تو شامل تھے لیکن انہیں دو کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے باوجود ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جس کے بعد انہوں نے تمام طرح کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا۔انتخاب کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے گواسکر نے کہاکہ بہت سے ایسے فیصلے ہوئے ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں۔ رائیڈو کی مثال ہی لے لیجئے۔ کیا کوئی مجھے سمجھا سکتا ہے کہ مینک اگروال کو یہاں کیوں لایا گیا جبکہ اس نے ایک بھی ون ڈے نہیں کھیلا ہے۔ وہ سری لنکا کے خلاف آخری لیگ میچ سے پہلے انگلینڈ آیا تھا تو کیا آپ اسے براہ راست سیمی فائنل یا فائنل میں ہی ڈیبو کرا دیتے۔ رائیڈو کو کیوں نہیں لایا گیا جو اختیاری کھلاڑی تھے۔ یہ سب دیکھنا واقعی مایوس کن تھا۔

سابق ہندوستانی بلے باز وی وی ایس لکشمن نے بھی رائیڈو پروجے شنکر کو ترجیح دینے کے لئے سلیکٹرز اور ہندستانی ٹیم مینجمنٹ کی سخت تنقید کی۔ گواسکر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندستانی شائقین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ایسے فیصلے کیوں کئے گئے۔گواسکر نے کہاکہ چند ماہ قبل کپتان وراٹ کوہلی کا کہنا تھا کہ رائیڈو چوتھے نمبر کے لئے سب سے زیادہ فٹ ہیں لیکن پھر چوتھے نمبر کا کیا ہوا۔ انہیں تو ٹیم میں ہی نہیں رکھا گیا۔ صرف سلیکشن کمیٹی ہی نہیں بلکہ ٹیم مینجمنٹ بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ ہم سب کو یہ جاننے کا حق ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close