اترپردیشتازہ ترین خبریں

دگ وجے سنگھ نے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ کو بتایا ’حادثہ‘، پی ایم مودی سے پوچھے کئی سوال

کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے پاکستان میں جیش محمد کے کیمپ پر ہندوستانی فضائیہ کی کارروائی میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد کے سلسلے میں وزیراعظم نریندرمودی سے اس بارے میں سچائی بتانے کا پھر سے مطالبہ کیا ہے۔ لیکن یہ پوچھتے ہوئے انہوں نے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کوایک حادثہ قرار دیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے فضائیہ کے ذریعہ کی گئی کارروائی کے ضمن میں آج کئی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، کہ ’’پلوامہ حادثے کے بعد ہماری فضائیہ کے ذریعہ کی گئی ’’ایئر اسٹرائک کے بعد کچھ غیر ملکی میڈیا میں شبہ پیدا کیا جا رہا ہے جس سے ہماری ہندوستانی حکومت کی صداقت پر بھی سوال پیدا ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کچھ وزیر کہتے ہیں کہ 300 دہشت گرد مارے گئے، بی جےپی صدر امت شاہ کہتے ہیں کہ 250مارے گئے ہیں، اترپردیش کے وزیراعلی کہتے ہیں کہ 400 مارے گئے اور ایک دیگر وزیر ایس ایس اہلووالیا کہتے ہیں کہ ایک بھی نہیں مارا گیا۔ انہوں نے کہا، کہ ’’وزیراعظم جی آپ اس سلسلے میں خاموش ہیں۔ ملک جاننا چاہتا ہے کہ اس میں جھوٹا کون ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی اور بی جےپی فضائیہ کی کارروائی کو انتخابی موضوع بنانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا، کہ ’’آپ اور آپ کی پارٹی کےسینئر لیڈر فوج کی کامیابی کو جس طرح سے صرف بی جےپی کی کامیابی ثابت کرکے انتخابی موضوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہمارے ملک کی سلامتی سے وابستہ اہلکاروں کی بہادری اور قربانی کی توہین ہے۔ ملک کا ہر شہری ہندوستانی فضائیہ اور سارے سکیورٹی اہلکاروں کا احترام کرتا ہے۔‘‘ مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ نہ تو سیاست کا سوال ہے اور نہ ہی اقتدار کا، سوال ان روتی ہوئی بہنوں کا ہے جنہوں نے اپنے بھائی کھوئے ہیں، سوال اس ماں کا ہے جس کے لاڈلے بیٹے کی شہادت ہوئی ہے اور سوال اس بیوہ کا ہے جس نے اپنا شوہر کھویا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ وہ کس کے سوالوں کا جواب دیں گے۔

ایک دیگر ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ ’’ہمیں ہماری فوج، ان کی بہادری پر فخر ہے اور پورا یقین ہے۔ فوج میں میں نے ہمارے متعدد جاننے والوں اور نزدیکی رشتہ داروں کو دیکھا ہے کہ کس طرح وہ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ ہم ان کا احترام کرتےہیں۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close