آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

دنیا کے 90 فیصد ممالک میں اقتصادی بحران، بھارت پر بھی ہوگا اثر: آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سربراہ کرسٹلینا جارجوا کا کہنا ہے کہ ٹریڈ وار کی وجہ سے عالمی اقتصادی سستی کا دور جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے سربراہ نے کہا کہ اس سستی کا اثر دنیا کے 90 فیصد ممالک کی ترقی کی شرح پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر بھی عالمی سستی کا اثر صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے۔

آئی ایم ایف سربراہ نے کہا کہ مالی سال 2019-20 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح اس دہائی کے نچلے سطح پر پہنچ جائے گی۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں جارجوا نے یہ بات کہی۔ آئی ایم ایف نے بھارت کی متوقع ترقی کی شرح کو 0.30 فیصد کم کرکے سات فیصد کر دیا ہے۔ مالی سال 2019-20 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی ترقی کی شرح پانچ فیصد پر پہنچ گئی تھی۔ حال ہی میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بھی موجودہ مالی سال کے لئے گھریلو ترقی کی شرح (جی ڈی پی) کا اندازہ 6.9 فیصد سے کم کرکے 6.1 فیصد کر دیا ہے۔ وہیں کم ہوتی ترقی کی شرح پر لگام لگانے کے لئے حکومت اور آر بی آئی کی جانب سے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن عالمی سستی سے بھارت کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔

کرسٹلینا جارجوا نے کہاکہ دو سال پہلے تک دنیا کی معیشت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی تھی، جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے پیمانے ورلڈ اکنامی کا 75 فیصد حصہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا لیکن ٹریڈ وار (کاروباری تنازعہ) کا منفی اثر اس پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کی وجہ سے عالمی تجارت کی ترقی کی شرح تھم سی گئی ہے۔کرسٹلینا جارجوا نے ٹریڈ وار میں شامل ممالک سے بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس کا اثر عالمی سطح پر ہے اور اس سے کوئی بھی اچھوتا نہیں رہ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک میں بے روزگاری کی شرح دائمی سطح سے کم پر ہے لیکن جاپان اور یورپ کے دیگر ممالک میں اقتصادی سرگرمیاں بھی کم ہوئی ہیں۔ وہیں، بھارت اور برازیل جیسے ابھرتی ہوئی بازاروں پر اس کاثر صاف صاف نظر آنے لگا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close