تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دنیا کے تقریبا 2000 اساتذہ اور دانشوروں نے کی جے این یو کے اساتذہ کی حمایت

دنیا بھر کے 2000سے زیادہ اساتذہ اور دانشور وں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)کے 48 اساتذہ کے خلاف فردجرم داخل کرنے کی مخالفت کی ہے اور علمی حلقہ میں اسے اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قراردیا ہے۔ انھوں نے حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ 11اہم یونیورسٹیوں کی ٹیچرز ایسوسی ایشن،سنٹرل یونیورسٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشن اور آل انڈیا یونیورسٹی اینڈکالج ٹیچرز ایسوسی ایشن اور مغربی بنگال کالج اور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی جے این یو کے اساتذہ کی حمایت کی ہے۔ جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اتل سود، فیڈریشن آف سنٹرل یونیورسٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشنزکے صدر راجیو رے کے علاوہ راشٹریہ جنتادل کے راجیہ سبھا رکن اور دہلی یونیورسٹی میں لکچرر منوج جھا اور کالم نگار اپوروا نند نے پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ اطلاع دی اور اس سلسلہ میں بیان جاری کیا۔

مسٹر سود نے کہاکہ جواہر لعل نہرویونیورسٹی کے اساتذہ کو نیشنل سول سروسز(کنڈکٹ )ضابطہ کی آڑ میں دھمکی دی جارہی ہے اور ستایا جا رہا ہے۔ انھیں بہت زیادہ تنگ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عدالت میں دوسو سے زیادہ معاملے چل رہے ہیں اور دوسوسے زائد اساتذہ کو انتظامیہ نے پریشان کیا ہے۔ 48اساتذہ کے خلاف فرد جرم داخل کیا ہے۔ 25 اساتذہ کے خلاف جانچ چل رہی ہے، تقریبا 25 سے 30 اساتذہ کوترقی نہیں دی گئی ہے۔

انھوں نے کہاکہ جے این یو انتظامیہ من مانے اور غیر قانونی فیصلے کررہی ہے اور جے این یو قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے اور اساتذہ کے جمہوری حقوق کو چھین رہی ہے۔ کیمپس میں اظہاررائے کی آزادی بھی نہیں ہے۔ کیمپس سے باہر بھی اساتذہ کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ مسٹر رائے نے کہاکہ جے این یو ہی نہیں ،ملک کے سبھی اعلی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا بھی یہی حال ہے۔ انھوں نے کہاکہ فروغ انسانی وسائل کے وزیر رہے پرکاش جاوڈیکر نے کہاکہ جے این یو میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندی نہیں ہے اور حکومت کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، جے این یو ہی نہیں موتیہاری، ناگالینڈ، جھارکھنڈ جیسی کئی یونیورسٹیوں میں یہی حال ہے۔ پوری اعلی تعلیم کو برباد کیا گیا ہے۔ یہ جے این یو نہیں بلکہ ملک کے شہریوں پر حملہ ہے۔

مسٹر جھانے کہاکہ بی جےپی اور اسکی اتحادی پارٹیوں کو اکثریت مل گئی ہے لیکن علمی حلقہ میں انھیں جگہ نہیں ملی ،اس لیے اور اعلی تعلیمی اداروں پر اس طرح قبضہ کرناچاہتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اساتذہ کو اب ملک بھر میں سڑکوں پر بڑی لڑائی لڑنی ہوگی۔ مسٹر اپوروانندنے کہاکہ جے این یو ایک یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ وہ ایک فکر اور علامت ہے جسے دائیں بازو کی طاقتیں اب مٹانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اساتذہ نوکری کرنے نہیں آتے، اس لیے ان پر سی سی ایس نہیں نافذ ہونا چاہئے۔

پریس کانفرنس سے دیگر ٹیچروں نے بھی خطاب کیا۔ ان میں دہلی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی سابق صدر نندیتا نارائن اور ہرش مندر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اور وشوبھارتی کی ٹیچرزایسو سی ایشن کے رہنا بھی شامل تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close