تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

دنیاوی و دینی علوم کی شناخت مڈغاسکر کے مسلمان

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام کے فروغ کی نیت سے جب مسلمانوں نے ترک وطن کیا تو اللہ نے اس میدان میں ان کی زبردست نصرت فرمائی۔ مسلمان دنیا کے کسی گوشے میں گئے تو وہاں دین کی خدمت، اسلام کی اشاعت اور اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھا اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن کے زبردست اثرات دنیا کی معاشرت پر پڑے۔ مسلمانوں کا کردار، عمل، اخلاق و انکسار نے بھی غیر مسلموں کو متاثر کیا مگر اسلام کے فروغ میں سب سے بڑا رول مسجدوں اور قرآن کریم کا ہے۔ مسجدوں میں نماز و قرآن کی تلاوت کا دلنشیں ماحول غیر مسلموں پر بڑا اثر کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر قرآن کریم تو اسلام کا ترجمان بن کر دنیا کے لئے مشعل راہ بن چکا ہے۔ قرآن کا ایک ایک لفظ راہ ہدایت ایک ایک جملے میں جانے کتنے جہانوں کے اسرار پوشیدہ ہیں ان پر آج بھی ریسرچ چل رہی ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے دنیا کے دانشوروں اور محققین کو اتنا متاثر کیا کہ بڑے بڑے سائنسداں، مؤرخ و اہم شخصیات مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ آج کے دور جدید میں قرآن کریم اللہ کی حقانیت کا سب سے بڑا ترجمان ہے۔ مغرب میں اپنے ماحول اور تہذیب سے اکتائی نئی نسل قرآن کریم کے مطالعہ کے بعد تیزی سے دائرہ اسلام میں آ رہی ہے۔ قرآن کریم کے اس کرشمے کے پیش نظر امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت دنیا کے تقریباً ہر بڑے ملک میں مدرسے اور اسلامک سینٹر قائم کئے گئے اور یہی اسلامک سینٹر اور مدارس آج دنیا کو ایک سچے مذہب کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ زیر نظر مضمون دنیا کے دوسرے سب سے بڑے جزیرہ نما ملک مڈغاسکر میں اشاعت دین اور مسلمانوں کی جدو جہد اور ان کی خدمات پر محیط ہے۔ مڈغاسکر میں بھی اسلام کے فروغ میں ان تارکین وطن کا اہم رول جو انڈونیشیا سے آئے تھے اس کے علاوہ عرب کے تاجروں نے اپنے بحری سفر کے دوران مڈغاسکر میں بھی وارد ہوئے تھے ان کے توسط سے اسلام کے فروغ میں تیزی آئی۔ مسلم تاجروں نے نہ صرف مدارس و مساجد قائم کیں بلکہ انہوں نے مقامی تہذیب وتمدن کو بھی قبول کیا۔ وہاں کی خواتین سے شادیاں کیں اور نئے وطن کی تعمیر و ترقی میں لگ گئے لیکن انہوں نے اپنے دینی تشخص کو ہر مقام پر ترجیح دی۔ اشاعت دین کے لئے مڈغاسکر کے مسلمانوں نے مہم بھی چلائی۔ وہاں کے قبائل کے اذہان میں اسلام کی روشنی منور کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ آج مڈغاسکر میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 15 فیصد ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے جدید دور کی روشنی میں نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی طور پر خود کو آگے بڑھایا ہے۔ آج مڈغاسکر کا حال یہ ہے کہ وہاں کے اسلامک سینٹر دنیا کے محققین کے لئے اہم تعلیمی ادارہ بن چکے ہیں۔ وہ کئی یونیورسٹیوں سے بھی منسلک ہو رہے ہیں۔ مڈغاسکر میں اسلامک سینٹر کے ذریعہ تعلیم کی سمت میں زبردست کام ہو رہا ہے۔ مسلم بچے بچیوں کی جدید تعلیم کے ساتھ دین کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج مڈغاسکر کے مسلمان نہ صرف دنیاوی بلکہ دین کے علم سے سرفراز ہو رہے ہیں۔ یہی علم ان کی ترقی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ 

مڈغاسکر جو کسی زمانے میں ملاگاسی کے نام سے معروف تھا، مشرقی افریقہ کے ساحل سے تقریباً 400 کلو میٹر کے فاصلے پر بحر ہند میں ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ 592,800 کلو میٹر رقبہ پر محیط یہ ملک دنیا کادوسرا سب سے بڑا جزیرہ نما ملک ہے۔ مشرقی افریقہ کا یہ ملک قدیم دور سے ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس ملک میں ظہور اسلام کی تاریخ کا بھی ایک روشن باب ہے اور کئی صدیوں سے اسلام نہ صرف یہاں پر ضیا فگن ہے بلکہ اس نے مڈغاسکر کی سر زمین پر قابل قدر مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ مڈغاسکر کے (ملاگاسی) کے زیادہ تر لوگ بنیادی طور پر انڈونیشیا کے جزائر سے یہاں آئے تھے۔ کئی صدیاں قبل عربی تاجرین نے بحر ہند میں تجارتی ترقی کے دور کا آغاز کیا تھا۔ 1000 عیسوی سال کے آتے آتے ان کے کچھ وارثین مڈغاسکر آگئے تھے جن کے توسط سے اس ملک میں اسلام متعارف ہوا تھا۔ مسلمان تاجروں نے اس جزیرہ کے شمال مشرقی علاقوں میں تجارت کے بہت سے مراکز کھولے تھے۔ انہوں نے کئی صدیوں تک کومورو (Comoro) جزائر اور مشرقی افریقہ کے ساتھ گہرے تعلقات برقرار رکھے تھے جسکی وجہ سے انہیں تجارت اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے میں بہت کامیابی ملی تھی۔

ایک روایتی تصور کے مطابق ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ بنیا دی طور پر دیگر مسلمان عرب سے ہی ہجرت کرکے یہاں آئے تھے اور جزیرہ کے جنوب مشرقی ساحل پر آباد ہو گئے تھے اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد انہوں نے ملاگاسی لوگوں کے ساتھ رشتہ ٔازدواج جوڑنے شروع کر دیئے تھے۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق مڈغاسکر جسے لوگ صدیوں سے جانتے ہیں وہاں پر اسلام اچھے خاصے طور پر مقبول ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس ملک کی کل آبادی میں مسلمان 10 سے 15 فیصد تک نمائندگی کرتے ہیں۔ ملاگاسی کے لوگ اس بات میں مکمل یقین رکھتے ہیں کہ عربوں کا اولین قافلہ جو کہ مڈغاسکر میں آباد ہوا تھا وہ ان افراد پر مشتمل تھا جو کہ پیغمبر حضرت محمدؐ کی 632 میں وفات کے بعد یہاں آباد ہوا تھا۔ 10 ویں اور 11 ویں صدی کے آغاز میں ہاتھی دانت (Ivory) سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت کے واسطے عرب اور زننریبار کے تاجر افریقہ کے مشرقی ساحل سے اپنے تجارتی عوامل انجام دیتے تھے اور مڈغاسکر کے مغربی ساحل تک رسائی کرتے تھے۔ عرب مہا جرین کا آخری قافلہ انتا لائوترا (Antalaotra) کا تھا جنہوں نے افریقہ کی مشرقی کالونیوں سے ہجرت کی تھی اور وہ اس جزیرہ کے شمال مغرب میں آباد ہو گئے تھے۔

انڈو نیشیا اور بنتو (Bantu) کے لوگوں کے مقابلے عربی تارکین وطن کی تعداد بہت کم تھی لیکن ان کے دیر پا اثرات مرتب ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ موسموں، مہینوں، ایام اور سکوں کے نام بنیادی طور پر عربی زبان میں رکھے گئے۔ اسی طرح ختنہ کرانے کی روایت اور مساوی طور پر اجناس کی تقسیم کاری پر عمل کیا جاتا تھا۔ عرب کے تارکین وطن نے مڈغاسکر میں حکمرانی کرنے کے لئے اپنے خاندان کے آبائی نظام اور اپنے حسب ونسب کے ضابطوں پر عمل کیا تھا۔ عربی زبان پر مبنی سوریب(Sorabe) ایک ایسی حروف تہجی تھی جسے عربوں نے ملاگاسی زبان اور انیٹ میرو علاقائی زبان کی عبارت کا ترجمہ کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عربوں نے ہی سب سے پہلے اس بات کی شناخت کی تھی یا پتہ لگایا تھا کہ زیادہ تر ملاگاسی لوگوں نے اس جزیرہ کو آباد کیا تھا جن کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔
روایتی طور پر کثیر تعداد میں ایسے بہت سے ریسرچ اسکالر ہیں جو کہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ملاگاسی کے تجارتی روابط کے توسط سے اس رسم خط کا نظام متعارف ہوا تھا۔ آج بھی سیکڑوں سال قدیم دستاویزات موجود ہیں جو کہ چرمی جِلدوں میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں میں جنوب مشرقی مڈغاسکر میں کچھ قبائل کے وجود میں آنے سے متعلق تاریخی مواد موجود ہے، جن کے وجود میں آنے کا جواز مکہ معظمہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

سورابے (sorabe) رسم الخط انجام کار 17 ویں صدی کے آغاز میں ہی پورے جزیرہ میں مقبول ہو گیا تھا اور میرینا (Marina) کے شاہ اینڈریانا مپوئن امیرینا نے اپنے دربار کے بچوں کو یہ رسم الخط سکھانے کے لئے اینٹی مورو کے اساتذہ کو حکم دیا تھا تاکہ بچے اس رسم الخط میں لکھ سکیں اور پڑھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں تخت نشین ہونے والا بادشاہ رداما (Radama) اپنے بچپن سے ہی اس رسم الخط میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مسلم مبلغین اس ملک میں نہایت جفاکشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کرنے میں مصروف ہیں اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران یہاں پر 10 سے 15 تک کی تعداد میں مسجدوں اور اسلامی مراکز کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے یہاں پر اسلام کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ فرانس کی استعماریت کے دوران کومورو (Comoro) جزائر کے بہت سے مہاجر مسلمان مڈغاسکر کے شمال مغربی ساحل پر آباد ہو گئے تھے۔ انہوں نے وہاں پر نہ صرف بہت سی مسجدیں تعمیر کرائیں بلکہ ملاگاسی کے مقامی باشندوں کے درمیان اسلامی پیغامات کی ترسیل بھی کی اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ بھی کیا تھا۔ مڈغاسکر کے مسلمانوں نے پورے جزیرہ میں اپنے عقیدہ کی ترسیل اور اسے فروغ دینے کے لئے ایک خصوصی حکمت عملی بھی وضع کی تھی۔ ملاگاسی کے بہت سے نوجوانوں کو بیرون ملک تربیت لینے کے لئے اسلامی یونیورسٹیوں میں بھیجا گیا تھا تاکہ وہ وطن واپس آنے کے بعد نہایت انہماک کے ساتھ دینی عوامل میں مصروف ہو جائیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر مسلمانوں نے میڈیکل سینٹر، اسکول اور سوشل سینٹر بھی قائم کئے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے توسط سے لوگوں کو اسلامی تہذیب و تمدن اور روایات سے واقف کرایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے غیر مسلم افراد مسلمانوں سے رغبت رکھنے لگے ہیں۔ مڈغاسکر میں رہائش پذیر کچھ ہندوستانی مسلمان ایسے بھی ہیں جو طویل مدت سے اپنے عقیدہ پر قائم ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی اس بارے میں نہیں سوچا کہ وہ اپنے عقیدہ کی دوسروں تک ترسیل کریں لیکن مڈغاسکر میں آباد ہندوستانی مسلمان جنہیں کراناس(Karanas) کہا جاتا ہے انہوں نے ملاگاسی لوگوں تک اسلامی پیغامات پہنچانے کا ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ میڈا گاسکر میں مسلمانوں اور دیگر عقائد کے لوگوں کے درمیان خوشگوار رابطے اور تعلقات ہیں۔ مڈغاسکر کے کچھ مواضعات تو ایسے ہیں جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 99 فیصد ہے۔ یہاں پر جو مسلم آباد ہیں ان میں سے زیادہ پناہ گزین ہیں کراناس، کومورین اور صومالیوں سمیت ان کی تعداد تقریباً 50000 نفوس پر مشتمل ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے محکمہ کے مطابق یہاں پر مسلمانوں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق شاید 10 فیصد سے کچھ ہی کم ہے۔ اپنے اس اندازے کا انکشاف اس محکمہ نے 9 سال قبل کیا تھا۔ شمال اور شمال مغرب میں جو لوگ یہاں جمع ہوئے تھے ان میں نسلی ملاگاسی افراد کے ساتھ ساتھ ہند نژاد تارکین وطن گزشتہ صدی میں آباد ہوئے تھے۔ جنوب مشرقی علاقے میں جہاں پر عرب کے با اثر مسلمان رہتے تھے وہاں بہت سے ملاگاسی اپنے آباواجداد کے مذہب کی جانب لوٹنے کے متمنی ہو گئے تھے۔ حالیہ برسوں میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مڈغاسکر کے بہت سے قبائل مشرف بہ اسلام ہو گئے ہیں۔ مڈغاسکر میں انٹی مور (Intimor) قبیلہ کے تقریباً 17500 افراد نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ وہ قبائل جو کہ مڈغاسکر کے جنوب مشرقی خطے میں رہتے ہیں وہ بنیادی طور پر اسلام سے وابستگی رکھتے ہیں۔ انٹی مور افراد حالانکہ مسلمان تھے لیکن اسلامی دنیا سے ان کا رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے وہ اپنے عقیدہ کے تعلق سے گمراہ ہو گئے تھے۔ انہیں دوبارہ دائرہ اسلام میں لانے کے لئے ایک مہم چلائی گئی تھی اور اس دشوار ترین کام کو پورا کرنے میں چار سال لگ گئے تھے۔ بہرکیف، اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں اس قبیلہ کے کم از کم 50,000 اراکین دائرہ اسلام میں شامل ہو جائیں گے لیکن ان نو مسلم افراد کو ہر ممکن تعاون درکار ہے۔
پورٹ لوئس (Port-Louis) ماریشش میں واقع اسلامک سینٹر جس کو 1996میں قائم کیا گیا تھا۔ مختلف اسلامی کا رگزاریوں کے توسط سے اس کا اہم مقصد اسلام کو فروغ دینا ہے۔ تعلیمی بیداری کے علاوہ اس کا مقصد غرباء کی مدد کرنا اور دینی امور کے تعلق سے مشورے دینا ہے۔ یہ ایک سماجی اور مذہبی ادارہ ہے جوکہ میڈاغاسکر میں ایک اسلامی سینٹر قائم کرنے کے لئے ایک یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یہ سینٹر راجدھانی اینٹاناناریوو (Antananarivo) میں قائم کیا گیا۔ حالانکہ پہلی منزل پہلے سے ہی تیار ہو چکی تھی اور دوسری منزل کا کام شروع ہو گیا تھا۔ اس کی دوسری منزل مسجد اور مدرسہ کے لئے مختص کی گئی تھی۔

مڈغاسکر کی ابتدائی تاریخ واضح نہیں ہے۔ افریقہ اور انڈونیشیا کے لوگ 5 ویں صدی عیسوی میں اس جزیرہ نما ملک میں پہنچ گئے تھے اور انڈونیشیا کے لوگوں کی ہجرت 15ویں صدی تک جاری رہی تھی۔ 9 ویں صدی میں مشرقی افریقہ اور کومورو جزائر کے مسلم تاجروں جن میں کچھ عربی تاجر بھی شامل تھے۔ وہ مڈغا سکر کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ 1500 میں پرتگال کا کشتی بان ڈیوگوڈیاس (Diogo Dias) اولین یوروپی شخص تھا جس نے مڈغاسکر کا سفر کیا تھا۔ 17 ویں صدی کے ابتدائی دور تک ملاگاسی کی بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں جن میں اینٹی مورو، انتائی مساکا، بیسٹی لیو (Betsileo) اور میرینا (Mariana) وغیرہ شامل تھیں۔ اس صدی کے اختتام تک اینڈریان داہی فوٹسی (Andriandahifotsi) کے تحت ساکا لاوا (Sakalawa) نے مغربی اور شمالی مڈغاسکر پر فتح حاصل کرلی تھی لیکن 18 ویں صدی میں یہ سلطنتیں (راجدھانیاں) مفقود ہو گئیں جن میں سے اندرونی علاقے کے میرینا افراد بادشاہ اینڈریا نام پوئنی میرینا (Andrianampoinimerina) کی قیادت میں متحد ہو گئے تھے انہوں نے 1787 سے 1810 تک نہ صرف حکومت کی تھی بلکہ بیٹسی لیو (Betsileo) کو بھی اپنے تسلط میں لے لیا تھا۔
ماضی میں ایک آزاد ریاست کے طور پر اپنا وجود رکھنے والا مڈغاسکر 1896 میں فرانس کی ایک کالونی بن گیا تھا لیکن 1960 میں اس کی آزادی بحال کر دی تھی۔ یہ جزیرہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو کہ تقریباً 1570 کلو میٹر طویل اور 570 کلو میٹر چوڑا ہے۔ موذامبک چینل(Mozambic Channel) اسے افریقی ساحل سے جدا کرتا ہے۔ 2009 کی مردم شماری کے مطابق اس ملک کی آبادی تقریباً19,625,000نفوس پر مبنی تھی۔ ساراتنانہ ماسف آتش فشاں کے نزدیک مڈغاسکر کا سینٹرل پٹھار (Plateau) 9436 میٹر اونچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانہ میں اس جزیرہ میں گھنے جنگلات تھے اور اس بات میں سچائی نظر آتی ہے کیونکہ ابھی بھی اس علاقے کا پانچواں حصہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے، جہاں سبزہ زار کے درمیان یکجہتی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مختلف قبیلوں، عقیدوں اور متنوع روایات کی امیزش رکھنے والا جزیرہ نما ملک مڈغاسکر روادی کا ایک مرقع ہے جہاں اس ملک کے آبائی باشندوں اور دیگر ممالک کے تارکین وطن نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کا فراخدلی سے استقبال کیا تھا۔

([email protected])

مسلمانوں کا عالمی منظرنامہ……………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close