تازہ ترین خبریںمحاسبہ

دل پاک نہیں تو پاک ہو سکتا نہیں انساں

محاسبہ…………….سید فیصل علی

کووڈ-19 کے نرغے میں پوری دنیا ہے، اس وبائی مرض نے زندگی کی رونقیں ہی نہیں، بلکہ روح کو بھی بے سکون کر دیا ہے۔ ہر مذہب کی عبادت گاہیں اداسی کا پیرہن اوڑھے ہوئی ہیں۔ بھرے پورے بازاروں میں سناٹا اور سڑکوں پر ویرانی دوڑ رہی ہے۔ 2020 کے آتے ہی دنیا کا ماحول بدل چکا ہے۔ کورونا نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ ہر شخص خود کو بچانے کی فکر میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ قیامت کا ابتدائیہ ہے۔ محشر میں جس طرح کوئی ایک دوسرے کا پرسان حال نہیں ہوگا، سوشل ڈسٹینس نے وہی صورتحال پیدا کر دی ہے مگر اس دور کشاکش میں بھی ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہر ایک کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام دینی فرائض پورے کرے، لیکن عید کی نماز کس طرح گھروں میں پڑھی گئی، وہ بھی سب نے دیکھا۔ اب عیدالاضحی کی نماز کی ادائیگی اور قربانی بھی ایک مسئلہ ہے۔ قلق تو بہت ہوتا ہے، لیکن قدرت کا یہ بھی کرشمہ ہے کہ بھلے ہی مسجدیں اب بھری پری نظر نہیں آتی ہیں، لیکن نمازیوں کی تعداد بڑھی ہے۔ کورونا کا اثر سعودی عرب پر بھی پڑا ہے، اب اس سال کے حج میں بیرون دنیا کے عازمین شریک نہیں ہو سکیں گے، صرف مقامی شہری اور وہاں کام کرنے والے تارکین وطن کو ہی حج کی سعادت نصیب ہوگی۔

سعودی عرب کورونا کے نرغے میں ہے، وہاں متاثرین کی تعداد 2,62,772 بتائی جا رہی ہے، جن میں 2,15731 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں، مرنے والوں کی تعدداد 2627 ہے، لیکن سعودی عرب ان ملکوں میں شامل ہے، جہاں کورونا پر تقریباً کنٹرول کیا جا چکا ہے، وہاں کی ریکوری ریٹ 82 فیصد سے زائد ہے، لیکن تمام تر کنٹرول کے باوجود سعودی عرب پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا ہے، کورونا کو روکنے کیلئے تعلیمی، تجارتی اور سرکاری اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، بغیر اسکریننگ اور ماسک کے کوئی بھی شخص کسی ادارے میں داخل نہیں ہو سکتا، اجتماعی میٹنگ اور جلسے جلوس سے بھی گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ سب سے خاص بات تو یہ ہے کہ سعودی حکومت نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ اس بار بیرون ملک کا ایک بھی شخص حج نہیں کرسکے گا، صرف مقامی شہری اور وہاں کام کرنے والے غیر ملکی تارکین وطن کو ہی حج کی اجازت ملے گی۔ اس فیصلے کے تحت اب صرف ایک ہزار لوگ ہی فریضۂ حج ادا کریں گے اور اس میں بھی 300 افراد سعودی شہری ہوں گے اور بقیہ 700 تارکین وطن ہوں گے، جو سعودی عربیہ کے اداروں میں کام کر رہے ہیں۔

یہ عجب منظرنامہ ہے کہ جس سعودی عربیہ میں 25 لاکھ عازمین حج کی سعادت سے سرفراز ہوتے تھے، اب کووڈ-19 کے تحت یہ تعداد صرف ایک ہزار میں سمٹ گئی ہے اور ان ایک ہزار والے عازمین کو بھی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان منتخب عازمینوں کا مہینوں قبل طبی معائنہ ہو چکا ہے اور وہ کوارنٹائن کے بعد اب حج بیت اللہ کی سعات سے فیضیاب ہونے والے ہیں۔ اس بار کے حج میں سختی اتنی ہے کہ سعودی عرب میں مقیم 20 سے 50 سال کی عمر کے ہی عازمین کو حج کی اجازت ملی ہے۔ منیٰ، مزدلفہ اور عرفات وہی لوگ جاسکیں گے، جنہیں انتظامیہ پرمٹ دے گا۔ کورونا پر کنٹرول کے باوجود مملکت عازمین کے تحفظ کا پورا نظم کر رہی ہے۔ کورونا کے دور میں خوش قسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ حج پر جانے والے تمام عازمین کو پینے کیلئے آب زم زم دیا جائے گا، جمرات میں بھی شیطان کو مارنے کیلئے جراثیم سے پاک کنکریاں بھی فراہم کی جائیں گی، عازمین کو نماز کی ادائیگی کے لئے اپنی جانماز یا قالین لانی ہو گی۔ کورونا وبا کے پیش نظر سعودی حکومت نے جو ضابطے بنائے ہیں، ان کے تحت ماسک پہننا اور سوشل ڈسٹینس رکھنا ہر عازم کیلئے لازم ہے، طواف کے دوران اور منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں بھی فاصلہ قائم رکھنا ہوگا اور سب سے خاص بات تو یہ بھی ہے کہ اس بار عازمین کعبہ اور حجرہ اسود کو نہیں چھو سکیں گے۔

حج بیت اللہ جانے کی خواہش ہر مومن کے دل میں ہوتی ہے، لیکن کورونا نے ہرخواہش کو کچل کر رکھ دیا ہے، ہر فرائض کے آگے ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے کہ آج ارض مقدس کی زیارت، حج ادا کرنے، سرکار دوعالمؐ کے مزار اقدس پر حاضری دینے وغیرہ وغیرہ کی خواہشوں کو کچلنا پڑ رہا ہے، مگر یہ بھی مشیت ایزدی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گھر اللہ کے بندوں کیلئے ہی بند ہے، لیکن حج کی للک رکھنے والوں کو اس پروردگار عالم پر بھروسہ رکھنا چاہیے، جو بندے کی نیت دیکھتا ہے اور یہی اخلاص نیت قبولت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔

میں نے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ اس ارض مقدس پر گزارا ہے، حج کے موقع پر مملکت کے شاندار انتظام و انصرام کو دیکھا ہے، مکہ مدینہ کی گلی کوچے آج بھی میری آنکھوں کو ایک روحانی طانیت فراہم کرتے ہیں، حج کے دوران تلبیہ ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کا ورد، وہاں کا روح پرور ماحول میرے قلب وذہن کو ازلی سکون سے سرشار کرتا ہے۔ منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے خیموں میں اللہ کی عبادت، جمرات میں عازمین کا شیطان پر کنکڑیاں پھینکنے کا منظر اللہ کی حقانیت اور اس سر زمین کی عظمت کے گواہ ہیں۔ میری دعا ہے کہ دنیا سے جلد از جلد اس منحوس وبا کا خاتمہ ہو اور خانہ کعبہ کے دروزاے بیرونی عازمین کیلئے کھل جائیں، لیکن ہمیں آج کے کورونا کے دور میں ان نکات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اس سال بھلے ہی بیرون ملک کے مسلمان فریضہ حج ادا نہیں کر سکیں گے تو اس پر افسوس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ حج کے جو لغوی معنیٰ ہیں اور حج کا جو نیچر ہے، وہ انسان کو انسان بنانے کی طرف لے جاتا ہے۔ حج صرف دین کا بنیادی رکن یا مذہبی فریضہ ہی نہیں ہے، بلکہ معاشی، معاشرتی، تہذیبی، ہر طرح کے دینی اور دنیاوی اصلاحات پر مشتمل ہے۔گرچہ حج بیت اللہ روحانی تربیت اور اللہ سے قربت کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن ایک عملی تجربہ بھی ہے، جو انسان کے اندر تغیر پیدا کرتا ہے۔ روحانی، اخلاقی، تہذیبی، تمدنی، معاشرتی، فطرت اور سیاسی وسماجی فرائض کو جلا بخش سکتا ہے، بشرطیکہ حج صحیح عزم ورنگ اور اخلاص نیت کے ساتھ ادا کیا جائے۔

خاص بات تو یہ بھی ہے کہ سعودی عربیہ میں بیرونی عازمین پر پابندی کے بعد حج کمیٹی آف انڈیا نے اس سال حج سے محروم ہونے والے عازمین کے پیسے واپس کرنے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان خواتین کو راحت بھی دی ہے جو بغیر محرم کے حج پر جانے والی تھیں۔ حج کمیٹی کے مطابق ان کے پیسے تو واپس کر دیئے جائیں گے، لیکن ان کو آئندہ سال حج کیلئے فارم بھرنے کی ضرورت نہیں پڑے گا، وہ پہلے سے ہی منتخب ہوں گی۔ کاش یہ راحت دیگر عازمین کیلئے بھی ہوتی تو بہتر تھا۔ بہرحال کورونا کے سبب بیرون دنیا کے واسطے حج 2020 کیلئے بیت اللہ کے دروازے ضرور بند ہیں، لیکن خالق کائنات کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے، اگر ہم پاک دل اور اخلاص نیت کے ساتھ اللہ سے رجوع ہوں تو یقینا روحانی سکون حاصل ہوگا اور حج نہ کرپانے کا قلق بھی زائل ہو جائے گا۔ بقول علامہ اقبالؒ:

دل پاک نہیں تو پاک ہو سکتا نہیں انساں
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close