اترپردیشتازہ ترین خبریں

دلت نوجوان کو جلانے والوں کو سخت سزا ملے: مایاوتی

بہوجن سماج وادی پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے ضلع ہردوئی میں 20 سالہ ایک دلت نوجوان کو معاشقہ کے معاملے میں مبینہ طور سے زندہ جلائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے ملزمین کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

محترمہ مایاوتی نے بدھ کو اس حادثے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ ’’اترپردیش کے ضلع ہردوئی میں معاشقہ کے سلسلے میں ذات کے نام پر ایک دلت لڑکے کو زندہ جلا دینا، یہ کافی وہشت ناک اور قابل مذمت ہے۔ بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت قصور واروں کو فورا سزا دلائے تاکہ ریاست میں اس طرح کے واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوں‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سنیچر کو دلت نوجوان ابھیشیک(20) کو دوسرے سماج کی لڑکی سے تعلق رکھنے کے پاداش میں اترپردیش کے ضلع ہردوئی کے بھدیسا علاقے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ لڑکی کے گھر والوں نے ابھیشک کو گھر میں قید کرلیا اس کی پٹائی کی اور پھر اسے زندہ جلا دیا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر ابھیشیک نے اسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ وہیں بیٹے کی موت کی خبر سن کر متوفی کے ماں کا بھی انتقال ہوگیا۔

اس ضمن میں پولیس نے پانچ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جن میں دو لڑکی کے اہل خانہ اور دو اس کے پڑوسی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ 6 سال قبل لڑکے اور لڑکی نے بھاگ کر شادی کر لی تھی لیکن اس کے بعد وہ اپنے گھر واپس آگئے تھے۔ جس کے بعد ان کے آٹھ یہ حادثہ ہوا، اس پورے معاملے میں حکمراں جماعت کو اپوزیشن کی چوطرفہ تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن ریاست کے نظم ونسق پر سوالیہ نشان کھڑا کررہا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی کے علاوہ کانگریس رکن اسمبلی اجے کمار للو نے بھی اس ضمن میں ریاستی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’بی جے پی کے اقتدار میں ریاست میں دلتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس پر قابو حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close