اپنا دیشتازہ ترین خبریں

دفعہ 370- 35 اے: سپریم کورٹ میں 10 دسمبر کو ہوگی سماعت

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے ہٹانے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں آج سماعت ٹل گئی ہے۔ پانچ ججوں کی آئینی بنچ 10 دسمبر سے اس معاملے پر سماعت کرے گی۔

سماعت کے دوران وکیل منوہر لال شرما نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان کی درخواست پر اپنا جوابی حلف نامہ دائر نہیں کیا۔ تب اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ تمام درخواستوں کا جواب مرکزی حکومت کے حلف نامے میں دائر کیا گیا ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول نے کہا کہ بہت سی عرضیاں ہیں، اس لئے دونوں فریقوں کی جانب سے ایک کامن عرضی ہو سکتی ہے تاکہ سماعت آسان ہو سکے۔ اس پر سینئر وکیل راجو رام چندرن نے مشورہ دیا کہ ہر طرف سے ایک ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے مرکزی حکومت نے اپنی طرف سے وکیل انکر تلوار کا نام تجویز کیا جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے ایس پرسنا نام تمام معاملوں کو ایک ساتھ مرتب کرنے کے لئے مشورہ دیا گیا۔

سماعت کے دوران سینئر وکیل راجیو دھون نے مشورہ دیا کہ اس کام کے لئے ایک وقت کی حد مقرر کی جائے۔ تب اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں تمام دستاویزات ایک ساتھ مرتب کرنے کے لئے دو ہفتے کا وقت چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 20 مسئلے ہیں، جن کے لئے کم از کم نو دنوں کا وقت چاہئے۔ اس کے بعد کورٹ نے مشورہ دیا کہ سماعت تین ہفتے بعد شروع کی جائے۔ تب راجو رام چندرن نے کہا کہ ونٹر ویکیشن کے پہلے سماعت شروع ہو۔ تب سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کو ہدایت دی کہ وہ مسودہ تیار کریں۔ سماعت 10 دسمبر سے شروع ہوگی۔کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اپنا جوابی حلف نامہ 22 نومبر تک داخل کریں۔

آج کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خلاف دائر دو نئی درخواستوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ ایک درخواست پی یو سی ایل نے دائر کیا ہے۔ دوسری درخواست سرینگر بار ایسوسی ایشن نے دائر کیا ہے۔ اگرچہ پہلے سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 پر ایک بھی نئی درخواست دائر کرنے پر روک لگا دی تھی۔
گزشتہ یکم اکتوبر کو کورٹ نے مرکزی حکومت کو جواب دینے کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا تھا۔ اس معاملے پر سماعت کرنے والی جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس گوئی اور جسٹس سبھاش ریڈی شامل ہیں۔

جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی دفعات کو ہٹانے کے خلاف سپریم کورٹ میں 25 اکتوبر کو ایک اور درخواست داخل کی گئی۔ یہ پٹیشن سپریم کورٹ کے وکیل مظفر اقبال خان نے دائر کی ہے۔ عرضی میں جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے ریاست میں انسانی حقوق کمیشن، خواتین واطفال بہبود کمیشن کو ختم کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے تو ایسے میں ان کمیشنوں کو ختم کرنے کا حکم غیر آئینی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاستی انتظامیہ کے ان احکامات پر روک لگانے کے لئے ہدایات جاری کئے جائیں۔

گزشتہ 30 ستمبر کو عدالت نے نیشنل کانفرنس کے ترجمان ڈاکٹر سمیر کول کی دفعہ 370 کو ہٹانے کو چیلنج دینے والی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کو پانچ ججوں کی بنچ کو ریفر کر دیا تھا۔ بچوں کو حراست میں رکھنے کے معاملے پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جوینائل جسٹس کمیٹی کی رپورٹ کورٹ کو مل گئی ہے۔ اس معاملے پر بھی آئین بنچ ہی سماعت کرے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close