تازہ ترین خبریںمحاسبہ

درندوں کے شہر میں لازم ہے پریشاں ہونا

محاسبہ…………….سید فیصل علی

حیدر آباد عصمت دری معاملہ میں چاروں ملزمین انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ جنسی درندوں کے مارے جانے پر جشن کا عالم ہے، پولیس کے کارنامے کی ستائش ہو رہی ہے انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ملک کے کئی معروف دانشوروں، سیاستدانوں اور ماہرین قانون نے اس انکاؤنٹر پر سیدھا سوال اٹھایا ہے کہ رات کے اندھیرے میں جس طرح چاروں زانیوں کو مارا گیا وہ عمل خود پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ چاروں ملزم بدترین جرم کے مرتکب تھے اور سزائے موت کے مستحق تھے۔ لیکن یہ فیصلہ پولیس کے ذریعہ نہیں عدلیہ کے تحت ہونا تھا۔ ملزمین کو اپنے دفاع کے مواقع دینے تھے۔ اسپیڈی ٹرائل کے ذریعہ ان کی سزا لازمی تھی، جب اجمل قصاب جیسے خونخوار دہشت گرد جس کی کیمرے کے سامنے قتل و غارت گری دنیا کے سامنے ہے، مگر بے شمار ثبوت وشواہد کے باوجود اس کا ٹرائل ہوا تب پھانسی ہوئی، مگر حیدر آباد کا معاملہ جس پر پوری دنیا کی نظریں تھیں وہ نہ عدالت پہنچا نہ اس کی سماعت ہوئی، نہ گواہ نہ ثبوت کہ کیا واقعی یہ گنہگار تھے اس سے قطع نظر یہ معاملہ براہ راست نپٹا دینے کا ایکشن نظام عدل کے وقار کے آگے بھی سوال بن چکا ہے اور ہر ذی شعور یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا حیدر آباد انکاؤنٹر ملک میں ایک بھیانک تبدیلی کا اشاریہ ہے، کہ اب پولیس عدالت کا رول ادا کرے۔ کیا واقعی لوگ اسی طرح کا انصاف چاہتے ہیں؟

یہ بالکل صحیح ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کے قاتلوں کو عبرتناک سزا ہونی چاہئے، مگر ایک مہذب سماج میں یہ انکاؤنٹر جس غیر مناسب طریقے سے کیا گیا وہ ایک نئی فکر اور نئے معاشرے کی تشکیل کا محرک بن رہا ہے، آج ہندوستان میں جشن ہو رہا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ لوگ بڑھتی عصمت دری کی وارداتوں سے کتنے بے زار ہیں کہ وہ پولیس کے اس غیر قانونی عمل کی بھی ستائش کر رہے ہیں۔ پولیس کی آج جس طرح پذیرائی ہو رہی ہے، پولیس والے مالائیں پہن رہے ہیں راکھیاں بندھوا رہے ہیں، یہ بھی سروس کوڈ کے منافی ہے۔ مگر میڈیا اس پر سوال اٹھانے کے بجائے اس کی خوب تشہیر کر رہا ہے، کیا اس قدم سے ماب لنچنگ کو فروغ نہیں ملے گا؟ پولیس کے اس عمل سے کیا بھیڑتنتر کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا انکاؤنٹر سے ریپ بند ہو جائیگا۔ ریپ بند کرنے کے لئے اپنے معاشرے کی اصلاح اور نظام عدل وقانون کو فعال اور محکمہ پولیس کو چست درست ہونا پڑے گا۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں تین سے چھ ماہ کے اندر ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تیار ہو جائیں تو پھر ریپ کی واردات میں کمی آسکتی ہے لیکن ہندوستانی نظام عدل وقانون پر بداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ جو بات اسلام 1400 سال سے کہتا آیا ہے کہ زانی کی سزا موت ہونی چاہئے اور اسے سرعام سزا ملنی چاہئے تاکہ دنیا کو عبرت ہو۔ اب یہی آواز ایوان میں بھی اٹھنے لگی ہے کہ زانی کو سزائے موت ہونی چاہئے، پارلیمنٹ میں جیا بچن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ زانیوں کو بھیڑ کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ وہ انھیں سنگ سار کر دے۔

آج ہندوستان خواتین کے لئے سب سے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ آج ملک میں ہر تین منٹ پر عصمت دری کا واقعہ ہوتا ہے اور دہلی تو ریپ کی راجدھانی بن چکی ہے جہاں یومیہ پانچ تا آٹھ ریپ کے واقعات ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اترپردیش ہے، جہاں گزشتہ سال پانچ ہزار سے زائد عصمت دری کے واقعات ہوئے۔ جنسی استحصال معاملہ میں جیل میں بند کلدیپ سینگر کے اناؤ میں تو جنوری 2019 سے لے کر نومبر تک گیارہ مہینوں میں 89 ریپ کے واقعات ہو چکے ہیں، اناؤ ریپ کی تازہ ترین شکار جسے زندہ جلا دیا گیا تھا، وہ بھی صفدر جنگ اسپتال میں زندگی سے ہار گئی ہے اور اس معاملہ میں بھی پولیس کے اس رول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے سے وقت معینہ کے اندر فیصلہ سنانے سے ہی عصمت دری کے معاملات تھم نہیں سکتے بلکہ اس کے لئے معاشرے کو بھی بیدار کرنے کی پیش رفت ہونی چاہئے۔ یہ بیماری بچپن سے ہی بچوں میں در آئی ہے بچوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے اس میں بھی معاشرتی تربیت اور اخلاقی اقدار کا حصہ ہونا چاہئے۔ ہمیں اسکول، کالجوں کے نصاب میں بھی یہ شامل کرنا ہوگا، کہ خواتین کا احترام کتنا ضروری ہے اور ان کے حقوق کیا ہیں۔عورتوں کو صرف دیوی کہنے یا بھگوان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ان کے احترام، ان کے حقوق کی پاسداری کرنی ہوگی، عورتیں آج اشیائے بازار بنا دی گئی ہیں۔ ان کو ہر طرح سے بیچا جا رہا ہے ایسے ایسے فحش اشتہار آرہے ہیں کہ آپ ٹی وی اپنے بچوں، ماں، بہن کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔ ایک بچہ جو چار سال کا ہے وہ بھی دیکھ رہا ہے کہ کنڈوم کیا ہے۔ ٹین ایجر دیکھ رہا ہے کہ ایک ایسا پرفیوم بھی آگیا ہے جس کو لگانے سے لڑکیاں دیوانی ہو جاتی ہیں۔ اشتہار میں لڑکیوں کو گورا کرنے کی کریم بھی آرہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ لڑکی کالی ہوگی تو شادی نہیں ہوگی گوری ہوگی تو شادی جلدی ہوگی، دس لڑکے اس پر لٹو ہوں گے، اس کے بوائے فرینڈ بنیں گے، اس کا پرموشن ہوگا، اس طرح کے اشتہارات نسوانی وقار کو بھی مجروح کر رہے ہیں اور نئی نسل کو بے راہ رو کر رہے ہیں۔ گاڑیوں سے لے کر بنیان بیچنے تک لڑکیوں کے جسم کی نمائش ہو رہی ہے اور یہ تاجرانہ نمائش نئی نسل کو قبل از وقت بلوغت کی گھٹی پلارہی ہے اور ذہنیت کو آلودہ کر رہی ہے۔

ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ پورن سائٹ کی وبا عام ہونے سے پوری نسل کی تباہی ہم سامنے دیکھ رہے ہیں۔ ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ پر جنسی غلاظت کے اس دور میں مجھے حیرت ہے کہ ایڈورٹائزنگ کونسل آف انڈیا، پریس کونسل آف انڈیا اور ایڈیٹرگلڈس کہاں ہے؟ وہ جماعتیں کہاں ہیں میرا بھارت مہان کا نعرہ لگانے والے کہاں ہیں؟ مجھے شکایت ان لوگوں سے ہے جو عورتوں کے حقوق کے نام نہاد حامی ہیں، عورتوں کی آزادی اور ان کے لباس کی لڑائی لڑنے والے لوگوں کا دھیان اس پر نہیں ہے کہ اشتہارات، پورن سائٹ اور ٹی وی سیریل کے ذریعہ ہر منٹ، ہر لمحہ عورتوں کی تکریم کی پامالی ہو رہی ہے، انھیں سامان تعیش کے طور پر بازار میں پروسا جا رہا ہے۔ عورت کو جب اس طرح تذلیل کیا جائے گا تو معاشرہ بھی آلودہ ہوگا۔ ایسے دور میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا معاشرہ محض دکھاوا ہوگا۔

آج ضرورت ہے کہ نوکری پیشہ خواتین یا باہر نکلنے والی عورتوں کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں بلکہ تکریم کی نگاہ سے دیکھنے کا ماحول بنے، انھیں تحفظ اور برابری کا درجہ ملے۔ حالانکہ ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ آئین اور مذہب میں خواتین کو برابری کا درجہ حاصل ہے لیکن کیا آج کا سماج عورتوں کو دوئم یا سوئم کے زمرے میں بھی رکھتا ہے؟ ہر وہ انسان جو کم عقل ہے، سماجی شعور سے نہ آشنا ہے وہ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر اس پر حاوی ہونا چاہتا ہے اور آج کے دور میں تو جنسی درندگی اس چرم سیما پر ہے کہ اب لڑکیاں ریپ کے بعد جلا دی جاتی ہیں۔ اس گھناؤنے اور اذیت ناک منظرنامہ کو بدلنے کے لئے سماج کی بیداری ضروری ہے۔ میری ایڈورٹائزنگ کاؤنسل آف انڈیا، ایڈیٹر گلڈ آف انڈیا، پریس کاؤنسل آف انڈیا، خاص وزارت اطلاعات سے اپیل ہے کہ وہ پوری طرح سے فحش اشتہارات، ایمزون پرائم، ٹی وی سیریل اور اس کی زبان کی قدغن کرے۔ یہ تمام چیزیں سماج کو جنسی بے راہ روی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ہماری تہذیب آلودہ ہورہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم نئی نسل کی اصلاح کے لئے اپنی جگہ پر اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ جب تک نئی نسل میں بے داری نہیں آئے گی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس لئے میری اپیل ہے کہ کم ازکم ہم اس جگہ عورت کو تحفظ دے سکتے ہیں جہاں ہم موجود ہیں۔ وہاں ایک مظلوم لڑکی کا باپ، بھائی یا چچا بن کر اس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ اگر ہم کسی بچی کی مشکل گھڑی میں حفاظت کریں گے تو کوئی ہماری بچی کے لئے بھی اسی طرح محافظ بن کر کھڑا ہو جائے گا۔ ایک صالح معاشرہ ہی جنسی درندگی سے لوہا لے سکتا ہے۔ بقول شاعر:

میری تجارت میں رکاوٹ ہے میرا انساں ہونا
درندوں کے شہر میں لازم ہے پریشاں ہونا

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close