آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

داعش میں شامل برطانوی لڑکی واپس لندن آنا چاہتی ہے

داعش میں شامل ہونے کے لیے 15 برس کی عمر میں برطانیہ سے شام جانے والی لڑکی شمیمہ بیگم لندن واپس آنا چاہتی ہے۔

شمیمہ بیگم کے وکیل محمد اکنجی نے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی موکل اب 19 سال کی ہو گئی ہے۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ ماں بیٹے کی صحت ٹھیک ہے۔
شمیمہ بیگم نے سی این این میڈیا کو بتایا، ’میں داعش کی سرگرمیوں سے آگاہ تھی اور مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ لندن سے نکلنے کے بعد وہ مذہبی ہو گئی تھیں۔میں صرف ایک گھریلو خاتون تھی، میں نے کبھی بھی خطرناک سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا، اور نہ ہی شام آنے کے لیے کسی کو آمادہ کیا‘۔

شمیمہ بیگم نے کہا کہ لوگوں کو اس کے لئے ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئے کیونکہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس سمت میں جاری ہے۔ اس فیصلے پر اسے کوئی افسوس نہیں ہے، کیونکہ اس فیصلے سے، وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں نے یہاں ایک اچھا وقت گزارا ہے لیکن اب صورتحال مشکل ہو تی جا رہی ہے، لہذا اب اس کی قوت برداشت ختم ہو تی جا رہی ہے۔‘

دراصل 13 فروری کو شمیمہ بیگم پناہ گزیں کی کیمپ میں ملی تھی ، جس کے بعد وہ سرخیوں میں آئی۔ انکوجی نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کی بہتر پرورش کے لئے واپس لندن جانا چاہتی ہے تاکہ اس کا بچہ بہتر سہولتیں مل سکیں۔ اس کا یہ فیصلہ پورے لندن میں بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ اسے آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close