تازہ ترین خبریںمحاسبہ

خوش فہمی کی حد ہوتی ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا ہے۔ ٹرمپ اپنی اہلیہ ملینا، بیٹی ایوانکا اور داماد کے ساتھ کل ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ اپنا 2روزہ دورہ (تقریباً 36گھنٹے) میں ٹرمپ احمد آباد، آگرہ اور پھر آخر میں دہلی آئیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ 24 فروری کو احمدآباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل ایئر پورٹ پر لینڈ کریں گے۔ وزیراعظم مودی بہ نفس نفیس ان کا استقبال کریں گے۔ پھر ایئر پورٹ سے بذریعہ سڑک 22 کلو میٹر کا سفر طے ہوگا۔ سڑک کے دونوں طرف ہزاروں لوگ ہاتھ ہلاکر ان کا سواگت کریں گے، اس دوران ٹرمپ کا قافلہ سابرمتی آشرم بھی رکے گا، جہاں امریکی صدر بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ سابرمتی آشرم کے بعد ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم موٹیرا پہنچیں گے، جہاں ’نمستے ٹرمپ، کیم چھو ٹرمپ‘ جیسے ثقافتی پروگرام پیش کئے جائیں گے۔ لنچ کے بعد بذریعہ طیارہ ٹرمپ آگرہ تاج کے دیدار کے لئے روانہ ہو جائیں گے اور دیر شام دہلی آجائیں گے، جہاں ان کے اعزاز میں صدر جمہوریہ کی جانب سے ڈنر کا اہتمام ہوگا۔

سوال تو یہ ہے کہ ٹرمپ کے دورہ ہند کی حصولیابی کیا ہے؟ ان کا دورہ دہلی کے بجائے گجرات سے کیوں؟ ٹرمپ کے اس دورے کو لے کر سیاسی مبصرین اور رہنماؤں نے ایک مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کئی سوال کھڑے کئے ہیں۔ گجرات ماڈل کو لے کر ملک کی ترقی کی سمت لے جانے کا دعویٰ کرنے والے مودی کو اب بھی بھرم ہے کہ گجرات ملک کے لئے رول ماڈل ہے، جس سے ٹرمپ متاثر ہوسکتے ہیں، حالانکہ گجرات ماڈل کی حقیقت جگ ظاہر ہے۔کولکاتہ، ممبئی اور دہلی کی جھگی جھوپڑیوں کی طرح گجرات کی جھگی جھوپڑیاں بھی مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نظر آتی ہیں۔ ہندوستان کے بڑے شہروں کے درمیان چھ کروڑ آبادی والے جھگی جھوپڑیوں کی تلخ سچائی دنیا سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ احمدآباد میں آج بھی ہزاروں جھگی جھونپڑیاں گجرات ماڈل کے آگے ایک تلخ حقیقت بن کر کھڑی ہیں، چنانچہ اس تلخ سچائی کو چھپانے کے لئے احمدآباد کے ایئرپورٹ سے گاندھی نگر کی جانب نصف کلو میٹر کی دیوار بنائی جا رہی ہے۔ اس دیوار کے پیچھے ’سرانیا‘ نام کی جھگی بستی ہے، یہ دیوار اس لئے بنائی جا رہی ہے کہ ٹرمپ جب احمدآباد کی سڑکوں سے گزریں تو یہ جھگی جھوپڑیاں انہیں دکھائی نہ دیں۔ جب 2014 میں چین کے صدر ہندوستان آئے تھے تو ان سلم ایریا کو پردوں سے ڈھک دیا گیا تھا اور اب امریکی صدر کی آمد پر 100کروڑ کے صرفے سے باقاعدہ دیوار بن رہی ہے اور اب سوال اٹھ رہا ہے کہ صرفہ کس تنظیم کے ذریعہ ہو رہا ہے اور اس کے پاس کہاں سے پیسہ آیا؟

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرمپ سے اصلیت چھپانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے؟ کیا ٹرمپ کے دورے سے ہفتوں قبل آئی امریکی ایجنسیوں کو پتہ نہیں ہوگا کہ دیوار بنانے کا ماجرا کیا ہے؟ گجرات کی جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے 2 ہزار سے زائد افراد آج بھی پانی، ٹوائلٹ اور پختہ چھتوں سے محروم ہیں۔ غریبی چھپانے کے لئے جھگیوں کے آگے دیوار بنانے سے بہتر تھا کہ 100 کروڑ کے صرفہ سے ان کے لئے پختہ مکانات بنا دیئے گئے ہوتے۔ کئی دانشوروں نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ جب ٹرمپ کا طیارہ احمدآباد کے ایئر پورٹ پر اتر رہا ہوگا تو خدانخواستہ ٹرمپ نے کھڑکی سے نیچے موجود جھگی جھونپڑیوں اور ننگے بھوکوں کو دیکھ لیا تو پھر کیا ہوگا؟ دیوار بنانے میں لگا کروڑوں کا صرفہ پانی میں ڈوب جائے گا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کب تک ہم ان بستیوں کو چھپاتے پھریں گے؟ گجرات ماڈل کی شیخی بگھارتے رہیں گے؟حالانکہ آج کی حقیقت یہ ہے کہ گجرات ماڈل اور دہلی ماڈل میں فرق یہی ہے کہ گجرات ماڈل کو دکھانے کے لئے غریبوں کے جھونپڑیوں کو چھپانا پڑتا ہے، جبکہ دہلی ماڈل دیکھنے کے لئے خود امریکہ کے لوگ خواہاں ہیں۔ اطلاع ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں کی امریکہ میں بڑی دھوم ہے، چنانچہ امریکہ کی خاتون اول ملینا ٹرمپ 25فروری کو دہلی کے سرکاری اسکولوں کی ’ہپی نیس کلاس‘ دیکھنے جائیں گی۔ مگر اسے ستم سیاست کہیں یا کریڈٹ لینے کی ہوڑ کہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کا نام ہی ملینا ٹرمپ کے ’ہپی نیس ایونٹ‘ سے ہٹا دیا گیا ہے، یعنی:

محفل سجائی جس نے اس کو ہی ساغر نہ ملا

یوں تو امریکی صدر کا دورہ ہند مودی- ٹرمپ دوستی کو اجاگر کرتا ہے، مگر مبصرین ٹرمپ کی اس دوستی کو امریکی مفاد کے پیمانے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ان کا تجزیہ ہے کہ ٹرمپ کے دورے سے ہندوستان کا نہیں، بلکہ امریکی تجارت کا پلڑا بھاری رہے گا، کیونکہ اس دورے سے ہند- امریکہ کے درمیان کوئی بڑا سمجھوتہ ہونے کا امکان نہیں ہے اور ٹرمپ نے یہ واضح بھی کردیا ہے کہ کوئی بڑی تجارتی ڈیل نہیں ہوگی۔ مودی سے دوستی کے باوجود امریکی صدر نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ بھارت کئی برسوں سے امریکہ کے ساتھ ٹریڈ میں سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے، وہ امریکی بزنس کو متاثر کر رہا ہے، ہم پر ایسا ٹیکس لگا رہا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے ٹیکس میں سے ایک ہے۔ ہندوستان سے تجارت کو لے کر ٹرمپ برہم ہیں، مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ ان کے دورے سے امریکہ کو کتنا تجارتی فائدہ ہوگا؟ حکومت ہند اس دورے کے تحت کچھ دفاعی سودے بھی کرسکتی ہے، تین بلین امریکی ڈالر کے دفاعی پیکج میں سب سے اہم سودا پی ایم مودی کے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودا ہے۔ بھارت ہیلی کاپٹر کے لئے ’الفراریڈپروٹیکشن سسٹم‘ خرید سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بحریہ کے لئے 2.05 بلین امریکی ڈالر کے 60 رومیوں ملٹی رول ہیلی کاپٹر، بری فوج کے لئے 60 اپاچے ہیلی کاپٹر اور طیارہ الفرا ریڈکاؤنٹر میشر سسٹم (LARICM) خریدے گا۔

تجارت دوستی کی تجدید ہوتی ہے، کسی بھی دو ملکوں میں تجارت تعلقات کو مستحکم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، مگر ٹرمپ کا دورہ ہند اس معاملے میں کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے سرکار سے سوال کیا ہے کہ ٹرمپ کا دورہ کس کی دعوت پر ہے؟ اگر ٹرمپ کسی پرائیوٹ تنظیم کی طرف سے بلائے جا رہے ہیں تو گجرات میں ان کی آمد پر کروڑوں کا خرچ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہندوستان کا دنیا میں ایک وقار تھا، ہندوستان غیرجانبدار ملکوں کی نمائندگی کرتا تھا، روس سے اس کی روایتی دوستی کا دنیا میں شہرہ تھا، مگر آج جس طرح امریکہ نوازی ہو رہی ہے، امریکی صدر کی حاشیہ برداری ہو رہی ہے، وہ ہمارے وقار کے منافی ہے، یہی سب کچھ کل پاکستان کرتا تھا، اس کے بدلے وہ اپنے کشکول بھرتا تھا، مگر آج ہم کیوں امریکی صدر کے اتنے بڑے ’چاٹو کار‘ ہوگئے کہ اس سے ہندوستان کی امیج کو ضرر پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ کے دورے کو لے کر کئی طرح کی باتیں ہو رہی ہیں، لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا بھارت دورہ امریکہ کے ’ہاؤڈی موڈی‘ کا پیش خیمہ ہے۔ امریکہ کے دورے میں مودی نے وہاں کے جلسے میں آئے ہند نزاد لوگوں سے اب کی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگوایا تھا، اب امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، شاید ٹرمپ کو بھی یہی خوش فہمی ہو رہی ہوگی کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں مودی کی مقبولیت ان کی مدد کرے گی، لیکن یہاں تو دہلی کی ہار کے بعد آر ایس ایس نے بی جے پی کو ’چیتاؤنی‘ دی ہے کہ اب مودی، امت شاہ پارٹی کو فتح نہیں دلا سکتے۔ جب ہندوستان میں یہ عالم ہے تو کیا امریکہ میں ٹرمپ کی حمایت میں مودی کا جادو چلے گا یہ بھی ایک بڑا سوال ہے؟ مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کا ’پچھ لگّو‘ (حاشیہ بردار) ہونا کس حد تک ملک کے مفاد میں ہے؟ بقول شاعر:

خوش فہمی کی حد ہوتی ہے
جب جب کردار کی ہار ہوتی ہے

 

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close