اپنا دیشتازہ ترین خبریں

حیدرآباد: این آر سی کا خوف، برتھ اور میریج سرٹیفکیٹس کے لئے لوگوں کا ہجوم

این آر سی کے خوف میں مبتلا لوگ حیدرآبادمیں برتھ سرٹیفکیٹس(صداقت نامہ پیدائش)اور میریج سرٹیفکیٹ (صداقت نامہ شادی) کیلئے بڑے پیمانہ پر رجوع ہو رہے ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ یہیں پیدا ہوئے اور یہیں بڑے ہوئے۔نوجوان اور بزرگ افراد بڑی تعداد میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی)سے برتھ سرٹیفکیٹ کے لئے رجوع ہورہے ہیں۔ بیشتر افراد جن کا تعلق پرانا شہر سے ہے، اپنے رہائشی ثبوت کے لئے جی ایچ ایم سی کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔

سرکاری ڈاٹا کے مطابق یکم جنوری کو ہی 88برتھ سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے جن میں 38پرانا شہر کے ہیں۔اسی دن تقریبا 101سرٹیفکیٹس خواتین کو جاری کئے گئے جن میں 32کا تعلق ایک ہی وارڈ سے ہے۔جاریہ سال،گزشتہ سال کے مقابلہ ان سرٹیفکیٹس کی مانگ میں دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ عہدیداروں نے اسے سی اے اے،این آر سی اور این پی آر کے خوف سے تعبیر کیا۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کا کہنا ہیکہ 1936تا1945کے درمیان پیداہوئے افراد کے برتھ سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے لئے ان سے درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ عہدیدار حیرت زدہ رہ گئے جب ایک 86سالہ بزرگ نے برتھ سرٹیفکیٹ کیلئے درخواست داخل کی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ آزادی سے پہلے اورحیدرآباد کے نظام کے دور کے ریکارڈس کی تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم زیادہ ترمعاملات میں ان کے پاس ریکارڈ نہیں ہے جس کے بعد ایسی درخواستوں کو مزید جانچ کے لئے آرٹی او یا پولیس کے پاس بھیجا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے مطابق میریج سرٹیفکیٹس کے لئے درخواستیں داخل کرنے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال 100تا150 درخواستیں اس خصوص میں موصول ہوئی تھیں تاہم اب ہر دن ایسی 480 درخواستیں بورڈ کو موصول ہو رہی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close