اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’حیدرآباد آبروریزی سانحہ کے ملزمان کو جلد پھانسی ہو‘

حیدرآباد میں ایک وٹنری ڈاکٹر کی آبروریزی کے بعد جلا کر قتل کرنے کے معاملہ کے ملزمان کو جلد از جلد پھانسی کی سزا دیئے جانے کی مانگ کرتے ہوئے پیر کو راجیہ سبھا میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کی پولیس کے طریق کار اور انصاف کے نظام پر سوال اٹھائے۔

عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور بہت سے دوسری پارٹیوں کے ارکان نے ملک میں حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے پر کام روکو قوانین 267 کے تحت بحث کرانے کا نوٹس دیا تھا۔ صبح کارروائی شروع ہونے پر چیئرمین ایم ونکیا نائيڈو نے کہاکہ اس معاملہ پر ایوان میں کئی بار بحث ہو چکی ہے لیکن پھر بھی پورے ملک میں اس طرح کے واقعات ہو ر ہے ہیں۔ سخت قانون بھی بنائے گئے لیکن اس کا بھی خوف نہیں ہو رہا ہے۔ وہ اس معاملہ پر بحث کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے لئے کسی ریاست یا حکومت کا نام نہیں لیا جائے گا۔ اس پر وقفہ صفر کے تحت ہی بحث کی جائے گی۔

ایوان کے حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی اس طرح کے سنگین واقعہ ہوتے ہیں ایوان میں بحث کی جاتی ہے۔ اس کے لئے سخت قانون بھی بنائے گئے ہیں۔ ملزمان کو سزا بھی ہوئی ہے لیکن مجرموں کے قلب و ذہن پر خوف پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کے لئے قانون، پولیس اور عدلیہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ سماجی سطح پر پہل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی یامی ياگنك نے کہا کہ قانونی سطح پر سخت قانون بنائے جا چکے ہیں لیکن اب سماجی اور ذہنی سطح پر تبدیلی لائے جانے کی ضرورت ہے، جب تک سماجی اور ذہنی سطح پر تبدیلی نہیں آئے گی تب تک اس مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا ہے۔

کانگریس کے محمد علی خان نے کہا کہ حیدرآباد کے واقعہ کی طرح ہی کچھ سال قبل دہلی میں بھی اس طرح کا ایک واقعہ ہوا تھا اور اس کے بعد سخت قانون بنائے گئے تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پر رہا ہے کہ پولیس بروقت نہیں پہنچی اور واقعہ ہو جانے کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سانحہ میں 15 سے 20 دنوں میں ملزمان کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے۔ راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا نے کہا کہ اس طرح کی درندگی کی وجہ سماجی اور ذہنی بیماری ہے۔ ہرسطح پر پولیس کی گشت نہیں ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی بگاڑ پر روک لگانے کے لئے ذہنی سطح پر تبدیلی لائے جانے کی ضرورت ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے آر کے سنہا نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے پورا ملک احتجاج کرنے لگتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ تعلیم اور اقدارو تہذیب بھی اس طرح کے واقعات کو نہیں روک پا رہے ہیں۔ اس کی وجوہات کو دیکھنا ہوگا۔ ہمارے نظام تعلیم میں کچھ خامیاں ہیں اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔حیدرآباد واقعہ کے ملزمان کو فوری پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے۔

انادرمک کی وجلا ستیہ ناتھن نے حیدرآباد سانحہ کے ملزمان کو 31 دسمبر 2019 سے پہلے پھانسی دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کے صفحات کھولنے پر ہر روز تین سے چار اس طرح کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے پاس منشیات کی فروخت پر مکمل طور پر روک لگائی جانی چاہئے۔ سماجوادی پارٹی کی جیا بچن نے کہا کہ سخت قانون کا بھی لوگوں میں اب خوف نہیں ہے اس لئے وہ چاہتی ہیں کہ اس طرح کے معاملات کے ملزمان کو لوگوں کے حوالہ کر دیا جانا چاہئے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں اس طرح کا التزام ہے۔

’آپ‘ کے سنجے سنگھ نے کہا کہ حیدرآباد، رانچی اور دہلی میں بھی اس طرح کے واقعات ہو ئے ہیں۔ سخت قانون بنے ہیں لیکن اب تک سزا ملنے میں بہت تاخیر ہورہی ہے۔ نربھیا کی والدہ کو ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے۔ ایک مقرر ہ وقت میں انصاف ملنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی تاریکی والے مقام پر روشنی لگائی جانی چاہئے اور سی سی ٹی وی کیمرے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں بھی لگائے جانے چاہئے۔

بیجو جنتا دل کے امر پٹنائک نے کہاکہ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کے لئے صرف قانون ہی کافی نہیں ہے۔ اس کیلئے ثقافتی وسماجی سطح پر سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے بہادر سنگھ نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالت میں فوری انصاف ملنا چاہئے اور اس پر فوری عمل کیا جانا چاہئے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھوپندر یادو نے کہا کہ اس طرح کے واقعات مہذب معاشرے کے لئے کسک ہے۔ خواتین کی حفاظت اور خواتین کے حقوق نہ صرف حل کئے جانے چاہئے بلکہ یہ سیاسی عزائم میں بھی ہونا چاہئے۔ بی جے پی کے ہی اشونی ویشنو نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کے لئے سسٹم میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

ترنمول کانگریس کے سكھیندر شیکھر رائے نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود پولیس اپنے تھانہ علاقہ کا معاملہ نہیں ہونے کا حوالہ دے کر معاملہ درج نہیں کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وزیر داخلہ کو تمام ریاستوں کو ڈائریکٹری بھیج کر واضح کرنا چاہئے کہ اس طرح کا واقعہ کا کسی بھی تھانے میں رپورٹ درج کی جانی چاہئے اور فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔

ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے بنوئے وسوم نے کہا کہ وہ پھانسی کی سزا کے خلاف ہیں لیکن حیدرآباد سانحہ کے ملزمان کو جلد از جلد پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے ٹی کے رنگ راجن، کانگریس کے ٹی سبارامي ریڈی، ترنمول کانگریس کے ڈاکٹر سانتنو سین، ایم ڈی ایم کے وائيكو اور شرومنی اکالی دل کے نریش گجرال نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close