اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’حوصلے اور جذبے کو سلام‘، پڑھائی کا ایسا جنون کہ پاؤں سے لکھ کر دے رہی ہیں امتحان

اگر دل میں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور جذبہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ آڑے نہیں آتی۔ جس کی تازہ مثال مدھیہ پردیش کی ممتا ہیں، جو پیدائشی طور پر اپنے دونوں ہاتھ سے محروم ہیں اور وہ اپنے بی اے سال اول کا امتحان بائیں پاؤں سے لکھ کر دے رہی ہیں

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ اس بے مثال جذبہ اور حوصلہ مند ملکہ کا نام ممتا پٹیل ہے. جو مدھیہ پردیش کے ضلع چھتر پور کی رہنے والی ہیں. جن کی پیدائش 2 جون 2000 کو ایک کسان کے میں ہوئیں. ان کو پڑھائی کا ایسا جذبہ ہے کہ پیدائش سے ہی اس کے دونوں ہاتھ نہ ہونے پر بھی انہوں نے اسکول کی پڑھائی پاؤں سے لکھ کر پوری کی۔ ممتا چھتر پور کے مہاراجہ کالج سے بی اے سال اول کا امتحان دے رہی ہے. وہ اپنے بائیں پاؤں سے لکھتی ہے۔

مہاراجہ کالج میں کونسلر اور کامرس ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر سمت پرکاش جین نے بتایا کہ انہوں نے ممتا کی لگن دیکھ اس کا ہر ممکن تعاون کی بات کہتے ہوئے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ راج نگر تحصیل کے تلواں پرا کے کسان دیشراج پٹیل کی اکلوتی بیٹی ممتا کا ایک بڑا اور ایک چھوٹا بھائی ہے. ممتا نے بتایا کہ پیدائش سے ہی اس کے دونوں ہاتھ نہیں ہیں ۔ اس نے اپنی اس کمی کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور بچپن سے پاؤں سے لکھنے کی مشق کی. گزشتہ سال 12 ویں کا امتحانات اس نے سکنڈڈویژن میں پاس کی تھی۔

کالج کی باقاعدہ طالبہ کے طور پر تعلیم حاصل کرنے والی ممتا کو اس کے چچا ہر پیپر میں 18 کلومیٹر دور تلواں پرا امتحان دلانے مہاراجہ کالج لاتے ہیں۔ ممتا نے بتایا کہ وہ پڑھ لکھ کر نوکری کرنا چاہتی ہے، تاکہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر والدین کی پریشانیوں کو دور کر سکے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close