تازہ ترین خبریںدلی نامہ

حضرت عائشہ ؓ پر فلم بنانے کے لئے وسیم رضوی کو دہلی اقلیتی کمیشن کا نوٹس

کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو فلم کی اجازت پر رو ک لگانے کو کہا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اپنے متنازعہ بیانات اور سر گرمیوں سے سرخیوں میں رہنے والے وسیم رضوی نے متنازعہ رام جنم بھومی فلم بنانے کے بعد اب مسلمانوں کے جذبات مجروح کر نے والی ام المومنین زوجہ رسول اکرم ؐ حضرت عائشہ ؓ پر مبنی متنازعہ فلم کا ٹریلر ریلیز کیا ہے۔اس فلم کا ٹریلر ریلیز ہو نے پر ہندوستانی مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ فلم کا ٹریلر جاری ہو نے اور میڈیا میں آ رہی خبروں اور فرزندان توحید کی شکایت پر دہلی اقلیتی کمیشن نے فوری ایکشن لیتے ہویت وسیم رضوی کو نوٹس اور عبوری حکم جاری کیا ہے۔ساتھ ہی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو خط لکھ کر اس اہانت انگیز اور شر انگیز فلم کو اجازت نامہ نہ دینے کو کہا ہے۔کیوں کہ اس کی ریلیز سے ملک میں بد امنی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق وسیم رضوی حضور پاکؐ کی زوجہئ مطاہرہ حضرت عائشہ ؓکے بارے میں ایک فلم بنارہے ہیں یاوہ فلم بنا چکے ہیں۔ رضوی نے اپنی اس فلم کا ایک ٹریلر بھی ریلیز کیا ہے ساتھ ہی اس متنازع فلم پروجیکٹ کے بارے میں متنازعہ بیانات بھی دئے ہیں۔اس فلم کے تعلق سے دہلی اقلیتی کمیشن نے وسیم رضوی کو حکم دیا ہے کہ 2 اکتوبر تک وہ اپنا جواب فائل کرکے بتائیں کہ اس پروجیکٹ کا مقصد کیا ہے؟،اس وقت یہ پروجیکٹ کس مرحلے میں ہے اور کیا اس فلم کیلئے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن سے اجازت لی گئی ہے یا اس کیلئے کوئی درخواست دی گئی ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے وسیم رضوی کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ کمیشن کو مذکورہ فلم یا اس کے ٹریلر کا سی ڈی فراہم کریں، سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے اجازت نامے یا اس کیلئے دی گئی درخواست کی کاپی مہیا کریں اور فلم کی اسکرپٹ کے ساتھ اس کے لکھنے والے، ریسرچ کرنے والے اورڈائرکٹر وغیرہ کے نام بھی دہلی اقلیتی کمیشن کو بتائیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے حکم میں وسیم رضوی کو واضح طور پر کہاہے کہ چونکہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے، اس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح اورمشتعل ہو ں گے، اس فلم سے بڑے پیمانے پر تشدد پھیل سکتا ہے نیز ہمارے ملک کی اس سے بے عزتی ہوگی۔ اس لئے جب تک یہ کیس نیم عدالتی اختیارات کے مالک دہلی اقلیتی کمیشن میں درج ہے آپ اس پروجیکٹ پر مزید کوئی کام نہیں کریں گے۔

اسی کے ساتھ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یہ فلم حد درجے کی اہانت ہے۔ جس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات نہ صرف ہندوستان میں مشتعل ہوں گے بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں بھی غصے کی لہر دوڑے گی۔ کیونکہ پیغمبر اسلام ؐکی زوجہ ام المومنین پر کوئی فلم نہیں بنائی جاسکتی ہے یہاں تک کہ ان کا کارٹون یا اسکیچ تک نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے واضح طور پر سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو متنبہ کیااگر ایسا ہوا تو ہمار ی سڑکوں پر تشدد پھیلے گا۔ لہذاآپ سے درخواست ہے کہ اس اہانت انگیز فلم کو اجازت نامہ نہ دیں۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اپنے خط میں مذکورہ بورڈ کو مزید مطلع کیا ہے کہ اگر یہ فلم ریلیز ہوتی ہے تو ہم کم از کم صوبہ دہلی میں اس پر پابندی لگادیں گے۔

بتاتے چلیں کہ اتر پردیش میں سپا حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بی جے پی کی خوشامدی بنے وسیم رضوی مسلسل کبھی رام مندر اور کبھی دیگر موضوعات پر متنازعہ بیانات دیتے رہے ہیں، حال ہی میں رضوی نے رام جنم بھومی جیسی متنازعہ فلم کا ٹریلر بھی جاری کیا تھا اور اس کے بعد رضوی نے خاتم انبیاء سرکار کونین ؐ کی زوجہ مطاہرہ ام المونین حضرت عائشہؓ پر فلم کا ٹریلر جاری کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close