اپنا دیشتازہ ترین خبریں

حج کمیٹی کے حصے کی اضافی سیٹیں بھی پی ٹی اوز کے کھاتے میں

حج کمیٹی کو 3677سیٹوں کا نقصان، ہندوستانی حج کوٹے کی گزشتہ سال ملی اضافی 5ہزار سیٹیںمرکزی اقلیتی وزارت نے کی پی ٹی اوز میں تقسیم، حج کمیٹی آف انڈیا پرا نے کوٹے پر ہی منحصر، پی ٹی اوز عازمین حج سے وصول کرتے ہیں موٹی رقم، ٭ہندوستانی حج کمیٹی کو گزشتہ سال ایک لاکھ 28ہزار 702سیٹیوں کا کوٹہ ملا تھا ٭اس سال صرف ایک لاکھ 25ہزار 25کا دیا گیاکوٹہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری):
حج مشن 2019میں حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ حج بیت اللہ کی سعادت کےلئے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال 3677 حاجی کم روانہ ہو ں گے۔ کیوں کہ حج کمٹی آف انڈیا کو گزشتہ سال کے مقابلے اس برس 3677 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور نے ہندوستانی حاجیوں کےلئے گزشتہ سال سعودی حکومت سے ملا 5ہزار سیٹوں کو اضافی کو ٹہ اس سال پرائیوٹ ٹور آپریٹرس میں تقسیم کر دیا ہے۔ غور طلب ہے کہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کی کو ششوں سے گزشتہ سال سعودی عربیہ حکومت نے ہندوستانی حج کو ٹے میں 5ہزار سیٹوں کا اضافہ کرکے حج کوٹہ ایک لاکھ 75ہزار 25 کر دیا تھا، جس میں سیٹوں کی تقسیم میں حج کمیٹی آف انڈیا کو 3677سیٹیں دی گئیں، جس سے حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ ایک لاکھ 28ہزار 702 ہندوستانی عازمین حج کی سعادت کےلئے روانہ ہوئے تھے۔ وہیں اس اضافی کوٹے میں سے پی ٹی اوز کو 1323اضافی سیٹیں دیکر کل 46327 سیٹیں دی گئی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ مرکزی وزارت اقلیتی امور نے اضافی 5ہزار سیٹوں کا پورا کا پورا کوٹہ پرائیوٹ ٹور آپریٹرس کے حوالے کر دیا ہے اور ان کا کوٹہ 50ہزار ہو گیا ہے، جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا کے حصے میں ہندوستان سے سفر کی خواہش رکھنے والے لاکھوں حاجیوں کے لئے محض 1,25,025 سیٹیں ہی آئی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے 3677 سیٹیں کم ہیں۔

بتا دیں کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے سرکلر نمبر 8میں مرکزی وزارت اقلیتی امور کی حج ڈویژن کے 04.01.2019 کے لیٹر F.No. 7/1/2019-Haj کے حوالے سے حج کوٹے کی تقسیم کے تعلق سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے حج کمیٹی آف انڈیا کو ایک لاکھ 25ہزار 25سیٹیں اور پرائیوٹ ٹورز آپریٹرس کو 50ہزار سیٹیں حج 2019 کےلئے تقسیم کی گئی ہیں۔ صرف اگر راجدھانی دہلی کی بات کریں تو دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کو اس سال 2010 سیٹیں دی گئی ہیں جبکہ یہاں حج درخواست دینے والوں کی مجموعی تعداد 6222 ہے۔

یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ ہر سال ہندوستانی حج کوٹہ بڑھائے جانے کےلئے حج رضاکار تنظیموں اور خصوصاً دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ کیوں کہ ملک کے سب سے بڑے امبارکیشن پوائنٹ دہلی میں مختلف صوبوں کے لوگ اپنے کام اور کارو بار کے سلسلے میں مقیم ہیں جو دہلی کے ہی شہری ہیں اور اسی لئے یہیں سے وہ حج کےلئے درخواست دیتے ہیں جس کے سبب دہلی میں حج پر جانے کے خواہشمندوں کی بڑی تعداد ہے جو دہلی کا کوٹہ مختصر ہو نے کے سبب حج پر جانے سے رہ جاتے ہیں ۔جبکہ گزشتہ سال ہندوستانی حاجیوں کےلئے 5ہزار سیٹوں کو اضافی کوٹہ ملنے کی مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے جم کر تشہیر کرکے واہ واہی لوٹی گئی تھی۔ لیکن اس سال حج کمیٹی کے حصے کی سیٹیں بھی پی ٹی اوز کے کھاتے میں ڈال دی گئی ہیں، جس نے مرکزی وزارت اقلیتی امور کے پرا ئیوٹ ٹورز آپریٹرس کے ساتھ رشتوں پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں، کہ آخر حج کوٹہ کو بڑھائے جانے کے مطالبے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ پی ٹی اوز عازمین سے منمانی موٹی رقم وصول کرتے ہیں، حج کمیٹی آف انڈیا کے حصے کی سیٹیں بھی پی ٹی اوز کو کیوں دی گئیں؟۔

جبکہ گزشتہ سال ہندوستانی حاجیوں کےلئے 5ہزار سیٹوں کو اضافی کوٹہ ملنے کی مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے جم کر تشہیر بھی کی گئی تھی۔ لیکن اس سال حج کمٹی کے حصے کی سیٹیں بھی پی ٹی اوز کے کھاتے میں ڈال دی گئی ہیں، جس نے مرکزی وزارت اقلیتی امور کے پرائیوٹ ٹورز آپریٹرس کے ساتھ رشتوں پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں، کہ آخر حج کوٹہ کو بڑھائے جا نے کے مطالبے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ پی ٹی اوز عازمین سے منمانی موٹی رقم وصول کرتے ہیں، حج کمیٹی آف انڈیا کے حصے کی سیٹیں بھی پی ٹی اوز کو کیوں دی گئیں؟۔ حج 2018 کی بات کریں تو پی ٹی اوز نے ساڑھے تین لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ روپے تک فی عازم وصول کئے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close