اپنا دیشتازہ ترین خبریں

حج کمیٹی آف انڈیا اور دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل شروع

ریاستی حج کمیٹیوں کو 6زون میں کیا گیا تقسیم، دہلی حج کمیٹی کی تشکیل نو میں ہوئی تاخیر تو مرکزی حج کمیٹی میں نمائندگی ناممکن

نئی دہلی انور (حسین جعفری)
حج کمیٹی آف انڈیا اور دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل نو کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ حج ایکٹ کے مطابق کمیٹی کی مدت کار ختم ہونے سے 4ماہ قبل تشکیل نو کا عمل شروع کرنا ہوتا ہے۔ جس کےلئے دونوں حج کمیٹیوں کی جانب سے کاغذی کاروائی شروع ہو گئی ہے اور متعلقہ محکموں کو تحریری طور پر کمیٹیوں کی مدت کار کے ختم ہو نے کے سلسلے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی مدت کار 8 جون 2019 میں ختم ہو رہی ہے۔ اسی طرح دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی مدت کار بھی اسی سال 16مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ان کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل پورا ہونا ہے۔

دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی بات کریں تو یہ 16مارچ کو ختم ہو جائے گی۔ اس کی تشکیل نو کےلئے دہلی حج کمیٹی کی جانب سے متعلقہ محکموں کو حج ایکٹ کے مطابق چار ماہ قبل مطلع کر دیا گیا ہے۔ 7مسلم ارکان پر مشتعمل دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی میں 1ممبر پارلیمنٹ، 2 ارکان اسمبلی، 1 میونسپل کونسلر، 1اسلامی اسکالر اور 1سماجی کارکن سمیت ایک آفیشو ممبر حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر ہوتا ہے، یہ لوگ مل کر چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ بس یہ کہ آفیشو ممبر حج کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں ووٹنگ نہیں کر سکتے۔ دہلی حج کمیٹی کی تشکیل نو کےلئے پارلیمنٹ کو مکتوب ارسال کرکے ایکٹ کے مطابق دہلی سے مسلم ایم پی کے نو منیشن کےلئے نام طلب کیا گیا ہے۔ اسی طرح دہلی اسمبلی میں 2 ارکان اسمبلی کے ناموں کےلئے اور دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشن کو کونسلر کے زمرے کےلئے نام دینے کو لیٹر لکھ دیا گیا۔ جبکہ عالم اور سماجی کارکن کے زمرے کےلئے دہلی حکومت نامزد کر ے گی۔

چونکہ حج کمیٹی آف انڈیا کی مدت کار ختم ہونے سے قبل اسی دوران دہلی حج کمیٹی بھی اپنی مدت کار پو ری کر رہی ہے۔ ساتھ ہی حج مشن 2019 کا بھی آغاز ہو گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حج مشن میں کوئی دقت پیش نہ آئے اور حج کمیٹی آف انڈیا میں بھی دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی نمائندگی ہو سکے اس کےلئے وقت رہتے دہلی حج کمیٹی کی باڈی کو تشکیل کیا جاتا ہے یا نہیں؟۔ بتا دیں کہ دہلی میں اپریل کے آخری ہفتہ میں عازمین کی ٹریننگ شروع ہونے جا رہی ہے وہیں دہلی امبارکیشن ملک کا سب سے بڑا امبارکیشن ہونے کے سبب یہاں حج مشن 2019کے انتظامات کے سلسلے میں اپریل کے آخری ہفتہ میں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی متعلقہ ایجنسیوں سے میٹنگیں بھی ہونی ہیں، اگر حج کمیٹی تشکیل ہو جاتی ہے تو حج مشن کے معاملات سہل ہو جائیں گے۔

وہیں حج کمیٹی آف انڈیا کی بات کریں تو 8 جون میں یہ کمیٹی اپنی مدت ختم کر رہی ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے مرکزی وزارت اقلیتی امور کے افسران اور ریاستی حج کمیٹیوں کے افسران سے رابطہ کیا گیا ہے، تاکہ حج کمیٹی آف انڈیا کے ایکشن میں ان کے زون کی نمائندگی ہو سکے۔ حج کمیٹی آف انڈیا 24مسلم ارکان پر مشتعمل ہے۔ اس میں 3مسلم ارکان پارلیمنٹ ایک را جیہ سبھا اور 2لوک سبھا سے، 4 جوائنٹ سکریٹری، مرکزی وزارت اقلیتی امور(وزارت خارجہ سے اب مرکزی اقلیتی امورسے )، وزارت ہوابازی، وزارت مالیات اور وزارت داخلہ سے ہوں گے۔ 6 ارکان ریاستی حج کمیٹیوں کے 6زون سے اور ملک میں سب سے زیادہ حاجی بھیجنے والی ریاستی حج کمیٹیوں میں اتر پردیش، مہاراشٹر اور کیرل سے بلا مقابلہ منتخب 3 ارکان سمیت زون سے کل 9 ممبران، 7زمرے کے ارکان میں 2سوشل ورکر (ایک شیعہ ایک سنّی) 2خواتین (ایک شیعہ ایک سنّی) 3عالم دین (ایک شیعہ علم دو سنّی عالم ) اور ایک آفیشو ممبر (سی ای او ) ہوتے ہیں۔ یہ مل کر چیئرمین کا انتخاب کریں گے، اس میں بھی آفیشو ممبر ووٹ نہیں دے سکتا۔ ان سبھی چھ زون سے ان کے ممبران کے گزٹ نو ٹیفیکیشن کی کاپی طلب کی گئی ہے۔

حج کمیٹی آف انڈیا کے انتخاب میں ریاستی حج کمیٹیوں کو نمائندگی کےلئے جن 6زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں زون 1میں دہلی، را جستھان، جموں اور کشمیر، پنجاب، ہریانہ، ہمانچل، اور چنڈی گڑھ ہیں۔ اس میں سے ایک ممبر چن کر حج کمیٹی آف انڈیا میں نمائندگی کر ے گا۔ اگر دہلی حج کمیٹی کی تشکیل نو اس الیکشن سے قبل ہو جاتی ہے تو دہلی حج کمیٹی کی نمائندگی ممکن ہے ورنہ گزشتہ برسوں کی طرح مرکزی حج کمیٹی کے الیکشن میں دہلی کی نمائندگی نہیں ہو سکے گی۔

زون 2میں اتر پردیش، بہار، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ ہیں۔ زون 3میں آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ ہیں۔ زون 4میں آسام، مغربی بنگال، تری پورا، منی پور، سکّم، میگھالیہ، ہمانچل پردیش، میزورم، ناگالینڈ اور انڈومان نکو بار ہیں۔ زون 5میں مہاراشٹر، گجرات، گوا، دمن اور دیو اور دارا نگر حویلی ہیں زون 6میں تمل ناڈو، کیرل، کرناٹک، پانڈی چیری اور لکش دویپ ہیں۔

یہاں یہ بتاتے چلیں کہ کچھ ریاستی حج کمیٹیاں ایسی ہیں کہ وہ جس زون میں آتی ہیں اس زون کے امبارکیشن سے ان کی حج پروازیں نہیں ہوتی۔ چونکہ حج ایکٹ بھی نیابنے گا اس لئے زون بھی نئے بنائے جانے کی ضرورت ہے اور ریاستی حج کمیٹیوں کو انہی زون میں شامل کیا جانا چا ہئے جہاں سے ان کی حج پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close