تازہ ترین خبریںدلی نامہ

حج کمیٹی آف انڈیا کی ناقص کارکردگی سے عازمین حج پریشان

پاسپورٹ، ٹکٹ تقسیم میں ہو رہی ہے بیحد تاخیر، عازمین کو نہیں دیا جا رہا مکمل سامان، اکثر عازمین کو ایئر پورٹ پر دیا جا رہا ہے بورڈنگ پاس، حج کمیٹی آف انڈیا سعودی سفارت خانہ اور ایئر انڈیا پر پھوڑ رہی ہے اپنی کوتاہیوں کا ٹھیکرا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی کے اندرا گا ندھی بین اقوامی ہوائے اڈے سے حج مشن 2019کے مبارک سفر پر روانہ ہونے والے عازمین کو حج کمیٹی آف انڈیا کی ناقص کارکردگی کے سبب اپنے ٹکٹ پاسپورٹ لینے کیلئے زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ان کو حج پرواز سے کچھ گھنٹوں قبل ہی پاسپورٹ دیا جا رہا ہے، جبکہ اکثر افراد کو بورڈنگ پاس ایئر پورٹ ہی دیا جا رہا ہے۔ یہی نہیں پاسپورٹ کے ساتھ دیا جانے والا ضروری سامان بھی آدھا ادھورا ہی دیا جا رہا ہے۔ کسی کو سعودی حکومت کی جانب سے لازم کیا گیا وہ کڑا جس پر حاجی کا نام وغیرہ درج ہوتا ہے، نہیں دیا جا رہا، تو کسی کو سعودی عرب کے سم کارڈ تبدیل نمبر کے دیئے جا رہے ہیں۔

صورت حال یہ ہے کہ عازمین کی جن کی فلائٹ صبح کی ہے مگر ان کو دیر رات گیارہ بارہ بجے پاسپورٹ کے ساتھ آدھا ادھورا سامان دیکر روانہ کیا جا رہا ہے اور اکثر کو تو ٹکٹ بورڈنگ پاس ایئر پورٹ ہی ملنے کا کہہ کر روانہ کر دیا جاتا ہے۔ حج منزل میں واقع حج کمیٹی آف انڈیا کے پاسپورٹ تقسیم مرکز پر ایک ہنگامی صورت بنی ہوئی ہے، جس کو کنٹرول کرنے میں حج کمیٹی آف انڈیا کا عملہ ناکام نظر آ رہا ہے، جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا کے دہلی کے دفتر کا اسٹاف اور عارضی طور پر لگایا گیا عملہ بھی یہاں موجود ہے، لیکن حالات قابو سے باہر ہیں اور عازمین حج کو زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بتا دیں کہ ملک کے سب سے بڑے امبارکیشن پوائنٹ اندرا گاندھی بین اقوامی ہوائی اڈے سے دہلی سمیت مختلف چھ ریاستوں کے تقرباً 25ہزار عازمین حج بیت اللہ کے مبارک سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ جن کو پاسپورٹ اور ٹکٹ سمیت حج امور کا دیگر ضروری سامان بھی یہیں دہلی حج کمیٹی کے دفتر حج منزل میں حج کمیٹی آف انڈیا کے عملے کے ذریعہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ عازمین کو دو روز قبل رپورٹنگ کرنے اور بکنگ کیلئے بلایا جاتا ہے، جبکہ ان کو ٹکٹ پاسپورٹ اور ضروری سامان ایک روز قبل دیا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ حج مشن 2019میں حج کمیٹی آف انڈیا، مرکزی وزارت اقلیتی امورکے ساتھ سعودی سفارت خانہ اور ایئر انڈیا میں تال میل کی کمی کہی جائے یا مرکزی وزارت اقلیتی امور اور حج کمیٹی آف انڈیا کی ناقص کارکردگی کہی جائے کہ عازمین کو بے انتہا تاخیر اور کثیر انتظار کے بعد اس کی حج پرواز سے چند گھنٹو ں قبل ویزا، پاسپورٹ اور ٹکٹ دیا جا رہا ہے، اس میں ایئر انڈیا سے ناقص تال میل کے سبب اکثر لوگوں کو پاسپورٹ کے ساتھ ٹکٹ، بورڈنگ پاس نہیں دیا جا رہا ہے ان کو کہا جا رہا ہے کہ ان کو بورڈنگ پاس ایئر پورٹ پر ہی مل جائے گا۔جبکہ حاجیوں کو ہو رہی پریشانی پر حج کمیٹی آف انڈیا اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے حاجیوں کو پیش آ رہے ان تمام مسائل کا پو را ٹھیکرا سعودی عرب اور ایئر انڈیا کے سر پھوڑ رہی ہے کہ انہی کی تاخیر کے سبب عازمین کو پریشانی ہو رہی ہے۔

حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر ڈاکٹر مقصود خان نے ’سچ کی آ واز‘ کو بتایا کہ پہلے صرف مکہ مکرمہ میں رہائش کے نمبر معلم وغیرہ کی ڈٹیل کا ایک ہی اسٹیکر ہی بنتا تھا جو حاجیوں کو دیا جاتا تھا، جبکہ مدینہ کی رہائش وغیرہ کی ڈٹیل کا اسٹیکر مدینہ میں ملتا تھا۔ لیکن اس برس جو اسٹیکر دیا جا رہا ہے اس میں ایک ہی میں مکہ کے ساتھ مدینہ کی بھی رہائش وغیرہ کی ڈٹیل درج ہے۔ مکہ کی رہائش کا نمبر وغیرہ تو پہلے ہی موجود ہے لیکن مدینہ میں رہائش کے نمبر تاخیر سے آنے کے سبب رہائش وغیرہ کی ڈٹیل کے اسٹیکر سعودی عرب سے ہی تاخیر سے ہمیں مل رہے ہیں، رہائش کی ڈٹیل کے بغیر کسی کو بھی پاسپورٹ نہیں دیئے جا سکتے۔ اس لئے یہاں عازمین کو پاسپورٹ وغیرہ تقسیم میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر مقصود نے کہاکہ کسی حد تک اس مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے جلد ہی مکمل حل ہو جائے گا۔ ٹکٹ یا بورڈنگ پاس میں تاخیر پر ڈاکٹر مقصود خان نے کہا کہ ایئر انڈیا سے جو تاخیر ہو رہی ہے ہم اس مسئلے کو بھی فوری حل کرائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے حج کمیٹی آف انڈیا کے اسٹاف کی جانب سے اسٹیل کے کڑے نہ دیئے جانے اور سم کارڈ تبدیل نمبر کے دیئے جانے پر فوری ایکشن لینے کا یقین دلایا۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ حالات کو قابو رکھنے اور عازمین حج کی مدد کیلئے یہاں حج رضا کاروں کی بیحد ضرورت ہے لیکن قابل افسوس ہے حج رضا کاروں کی خدمات یہاں نہیں لی جا رہی ہیں بلکہ حج کمیٹی نے ان کو اس پو رے حج مشن سے دور رکھا ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہاں حاجیوں کو پاسپورٹ کے ساتھ کیا کیا سامان دیا جائے گا اس کا کوئی بورڈ بھی یہاں نہیں لگا ہے، جبکہ اکثر گاؤں دیہات سے آنے والے عازمین حج یا تو کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں ناخواند ہوتے ہیں جو عدم معلومات کے سبب جو سامان حج کمیٹی سے ملتا ہے اسی کو لیکر چلے جاتے ہیں، جو بعد میں ان کے لئے پریشانی کا سبب بھی بنتا ہے۔ ان عازمین حج کے تعاون کیلئے یہاں حج رضا کاروں کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close