تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جے این یو طلبا کا پارلیمنٹ تک مارچ، پولس نے کیا لاٹھی چارج

جے این یو کے طلباء فیس میں اضافے اور ہاسٹل مینویل میں کی گئی تبدیلی کے خلاف پچھلے تین ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں۔ آج انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے یونیورسٹی کے گیٹ پر ہی طلبا کو روک دیا۔ اس درمیان پولس نے طلبا پر لاٹھی چارج کر دیا ہے۔ کئی طلبا کو پولس نے حراست میں بھی لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ آج سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوا ہے۔ اس لیے وہاں تک پہنچنے سے احتجاجی طلباء کو روکنے کے لیے تمام بندوبست کیے گئے تھے۔ جہاں طلباء کے مارچ کے پیش نظر نیلسن منڈیلا روڈ، ارونا آصف علی روڈ اور گنگناتھ مارگ پرٹریفک نظام متاثر رہا۔ بتا دیں کہ اس سے پہلے طلبا کی مخالفت کے بعد فیس کے اضافے کو جزوی طور پر واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن طلبا اس سے مطمئن نہیں ہوئے تھے.

دوسری طرف جے این یو انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان کئی دن سے جاری تنازع کے حل کےلئے حکومت نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یوجی سی) کے سابق صدر پروفیسر وی ایس چوہان کی قیادت میں پیر کو سہ رکنی اعلی اختیار حاصل کمیٹی کی تشکیل کی۔ یہ کمیٹی سبھی فریقوں سے بات چیت کرکے جے این یو کے تنازع کا حل پیش کرے گی۔

حکومت کی جانب سے پیر کو جاری حکم میں کہاگیا ہے کہ جے این یو میں کام کاج کو معمول پر کیسے لایا جائے۔ یہ کمیٹی اس سلسلے میں غور وخوض کرکے اپنی رپورٹ سونپے گی۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں آل انڈیاکونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کے صدر پروفیسر انل سہستر بدھے اور یوجی سی کے سکریٹری پروفیسر رجنیش جین ہیں۔ کمیٹی پرامن حل کےلئے طلبہ اور جے این یو انتظامیہ کے درمیان فوراً بات چیت شروع کرے گی۔

انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت میں تعلیم کے سکریٹری آر سبرمنیم نے بتایا کہ اعلی اختیار کمیٹی جے این یو طلبہ اور انتظامیہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے سبھی مسئلوں کا پرامن حل تلاش کرےگی۔ جے این یو کے طلبہ، ہاسٹل کی بڑھی ہوئی فیس کو واپس لینے کے مطالبے کے سلسلے میں پچھلے کئی دنوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close