تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جے این یو تشدد: دہلی ہائی کورٹ کا فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس، ڈیٹا محفوظ رکھنے کی ہدایت

جے این یو میں گزشتہ 5 جنوری کو ہوئے تشدد سے متعلق ثبوتوں کو محفوظ کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے کہا کہ جے این یو انتظامیہ کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ مزید معلومات دینے کے لئے خط لکھا گیا ہے۔ لیکن جے این یو انتظامیہ کی طرف سے اب خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

پٹیشن جے این یو کے تین پروفیسروں نے دائر کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، تشدد سے منسلک اطلاعات اور ثبوتوں کو تحفظ کے لئے ہدایات جاری کئے جائیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان واٹس ایپ گروپ کی اطلاعات کو محفوظ کیا جائے جن کے ذریعے اس حملے کی منصوبہ بندی کئے جانے کا شبہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ انتظامیہ کے تعاون سے ان ثبوتوں کوتباہ کیا جا سکتا ہے۔

بتا دیں کہ گزشتہ 5 جنوری کو جے این یو میں ہوئے تشدد میں کچھ نقاب پوش لوگوں کا ہاتھ ہونے کی اشارہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ جے این یو تشدد کے سلسلہ میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور اے بی وی پی کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر تشدد کو بھڑکانے کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں…….جے این یو تشدد: نقاب پہنے حملہ آور لڑکی کی ہوئی شناخت، دہلی پولیس جلد بھیجے گی نوٹس

واضح رہے کہ جے این یو میں ہوئے تشدد پر پولیس نے ان نو افراد کو پوچھ گچھ کے لئے پیر کے روز بلایا، جن کو مشتبہ بتا کر پولیس نے ان کی تصویر بھی جاری کی تھی۔ پولیس ان سے پوچھ گچھ کر کے واقعہ کے بارے میں جاننا چاہ رہی ہے، کیونکہ ابھی جو کچھ پولیس کو پتہ ہے، وہ صرف لوکل پولیس کے حوالے سے جانتے ہیں۔ طلباء کا بیان آنا ابھی باقی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کو کچھ چیٹس کے پردے ملے ہیں، حالانکہ وہ پختہ ہیں یا نہیں، اس کے بارے میں وہاٹس ایپ کو ڈٹیل دینے کے لئے کہا ہے۔ پولیس کے مطابق، پولیس نے جائے وقوعہ سے کچھ پتھرجمع کئے ہیں، جن کی فورینسک جانچ ہونی ہے، جس سے اس پر سے ممکنہ خون کے سراغ مل سکیں۔

وہیں پولیس ذرائع کی مانیں تو پولیس نے وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے، ان سے اب پوچھ گچھ نہیں کی جا رہی ہے، کیونکہ وہاٹس ایپ کا جواب آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا جائے گا۔ پولیس کو شک ہے کہ کچھ چیٹ ڈیلیٹ بھی کئے گئے تھے، جس کی وجہ سے وہاٹس ایپ کا جواب ضروری ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک آئشی کی طرف سے کوئی بیان نہیں ملا ہے اور نہ انہوں نے نہ آنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ اگر وہ نہیں آتی ہیں، تو پولیس آئشی کے خلاف لیگل کارروائی کر سکتی ہے۔

پولیس کے مطابق، پولیس نے اب تک 45 لوگوں سے بات کی ہے، جس میں 5 فیکلٹی ممبر بھی ہیں۔ پولیس نے درجنوں ایسے لوگوں کی نشاندہی کی ہے، جو وہاٹس ایپ گروپ میں تھے۔ پولیس کو ان سے جو بات چیت ملی ہے، اس سے یہ واضح ہے کہ پوراحملہ سازش کے تحت تھا۔ وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ جن ملزمان کی تصاویر جاری کی گئی ہیں، ان سے ایک بار پوچھ گچھ ضروری ہے۔ ان کا بھی موقف سامنے آنا چاہئے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ڈی یو کے دولت رام کالج کی جس کومل کی شناخت ہوئی ہے، پولیس نے اس کو بھی نوٹس دیا ہے، لیکن اسے آج نہیں بلایا گیا ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close