تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جے این یومیں فیس اضافہ پر زبردست ہنگامہ، پولس اور مظاہرین طلبا میں تصادم

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ فیس اضافہ، ہاسٹل مینوئل اور ڈریس کوڈ کو لے کر گزشتہ تقریباً 11 دنوں سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پیر کے روزجے این یو کی تیسری تقسیم اسناد تقریب کاانعقاد ہوا۔ اس میں بطور مہمان خصوصی نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو اور وزیر تعلیم ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک پہنچے۔ اس دوران دوبارہ جے این یو کے طلبا و طالبات نے مظاہرہ کیا۔

یاد رہے کہ جے این یو کے طلبا نے پیر کے روز ایک بار پھر یونیورسٹی میں فیس اضافہ کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ طلبا کے مظاہرہ کو روکنے کے لیے کثیر تعداد میں سی آر پی ایف اور دہلی پولس کے جوان اب بھی یونیورسٹی میں تعینات ہیں۔ مظاہرہ کر رہے کچھ طلبا کو جوانوں نے کھینچ کر بس میں بھی بٹھایا۔ بعد میں مظاہرہ کو بڑھتا دیکھ طلباء کو کھدیڑنے کے لیے پانی کی بوچھاروں کا استعمال کیا گیا۔

بیریکیڈ توڑ کر روڈ پر آئے طالب علم:
مظاہرہ کر رہی جے این یوطالبہ مندو نے بتایا کہ فیس میں ہوئے اضافے سمیت کئی مسائل پر گزشتہ 11 دنوں سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مظاہرہ کی اطلاع ملتے ہی لوکل پولیس و نیم فوجی دستے موقع پر پہنچی اور طلبا و طالبات کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کے روکنے پر طالب علم-طالبات غصہ ہو گئے اور پولیس کی تین بیریکیڈ کو توڑتے ہوئے وہ نیلسن منڈیلا روڈ پر آ گئے۔ یہاں طالب علموں نے روڈ کو مکمل طور پر جام کر دیا۔ حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر پولیس نے ہلکی طاقت کا استعمال کر تقریباً 150 سے زیادہ طلبا و طالبات کو حراست میں لیا۔ خبر لکھے جانے تک طلباء و طالبات کا مظاہرہ جاری ہے۔

مانگ پوری نہیں ہوئی تو مظاہرہ جاری رہے گا:
مظاہرہ کر رہی طالبہ مندو کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً 11 دنوں سے فیس میں اضافے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ جے این یو میں کم از کم 40 فیصد طلبہ وطالبات ایسے ہیں جو غریب خاندانوں سے آتے ہیں۔ ایسے میں آخر یہ طلبہ و طالبات کیسے اپنے درسی کام کر پائیں گے۔ جنوب مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر دیویندر آریہ نے بتایا کہ مذکورہ معاملے میں اب تک کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس طلبہ و طالبات کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close