بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات: پہلے مرحلے کی پولنگ ختم، تقریباً 63 فیصد ہوئی پولنگ

جھارکھنڈ میں پہلے مرحلے میں آج تیرہ اسمبلی سیٹوں پراکا دکا واقعات کو چھوڑ کر پولنگ امن رہی اور اس دوران تقریباً 60.87 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے کر کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر رامیشور اوراؤں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر سکھدیو بھگت سمیت 189 امیدواروں کی انتخابی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں بند کر دیا۔

ریاستی الیکشن آفس کے ذرائع نے یہاں بتایا کہ ریاست کی تیرہ اسمبلی سیٹوں چترا (محفوظ)، گملا (محفوظ)، بشن پور (محفوظ)، لوہردگا (محفوظ)، منیكا (محفوظ)، لاتیہار (محفوظ)، پانكي، ڈالٹن گنج، بشرام پور، چھترپور (محفوظ)، حسین آباد، گڑھوا اور بھوناتھ پور میں اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان پرامن طریقے سے ہوئی پولنگ شام تین بجے ختم ہو گئی۔ اس دوران تقریباً 62.87 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ان اعداد و شمار میں ابھی مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

پولنگ ختم ہونے تک سب سے زیادہ 67.30 فیصد ووٹ گملا اسمبلی حلقہ میں پڑے وہیں چترا میں محض 56.59 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ بشن پور میں 67.04 فیصد، لوہردگا میں 64.16 فیصد، لاتیہار میں 61.26 فیصد، پانكي میں 64.10 فیصد، ڈالٹن گنج میں 63.90 فیصد، بشرام پور میں 61.60 فیصد، چھتر پور میں 62.30 فیصد، حسین آباد میں 60.90 فیصد، گڑھوا میں 66.04 فیصد بھوناتھ پور میں 65.52 فیصد اور منیكا میں 57.61 فیصد پولنگ ہوئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ووٹنگ میں سبھی لوگوں کا جوش برقرار ہے۔ تین بجے کے بعد جو شخص پولنگ اسٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ہیں صرف وہ ہی ووٹ دے پائیں گے۔ اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ میں دويانگ اور بزرگ ووٹروں نے بھی بڑھ چڑھ کر اپنے ووٹوں کا استعمال کیا ہے۔ پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے کے بعد نکلنے والے بزرگ اور دويانگ ووٹروں نے انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے خصوصی انتظامات کی تعریف کی۔ انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کی طرف سے ان کے لئے جو سہولیات فراہم کی گئیں وہ یقینی طور پر قابل تعریف ہے۔

انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات سے انہیں ووٹ ڈالنے میں کافی آسانی ہوئی ہے۔ دويانگ ووٹروں کے لئے جہاں وہیل چیئر، ریمپ وغیرہ کا انتظام کیا گیا تھا وہیں بزرگ ووٹروں کو بھی تعاون دیا جا رہا تھا۔ اس دوران نکسلیوں نے گملا اور لاتیہار ضلع کے سرحدی بشن پور اسمبلی حلقہ میں گھاگھرا۔كٹھوكوا سڑک پر بم دھماکہ کرکے ایک پلیا کو اڑا دیا۔ ووٹنگ کے دوران سکیورٹی پر معمور چوکس پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ اس دھماکے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ کر تفتیش کررہے ہیں۔ وہیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی جائے حادثہ پر بلایا گیا ہے۔

دوسری جانب جھارکھنڈ کے سابق وزیر اور پلامو ضلع میں ڈالٹن گنج اسمبلی حلقہ سے کانگریس پارٹی کے امیدوار کے این ترپاٹھی پر چین پور تھانہ علاقہ کے مجھگاوا میں حملہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈالٹن گنج کے ممبر اسمبلی آلوک چورسیا کے حامیوں نے مسٹر ترپاٹھی پر حملہ کرکے ان کی پٹائی کی اور ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔ مسٹر ترپاٹھی نے کہاکہ انہوں نے الیکشن کمیشن سے چین پور کے کئی بوتھوں پر ووٹنگ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ریاست کی رگھوور حکومت کے اشارے پر ضلع انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے علاوہ ریاست میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے کی پولنگ والی 13 اسمبلی سیٹوں کے لئے اہل ووٹروں کی تعداد 372433 ہے جن میں 195090 مرد، 177341 خواتین ،تھرڈجینڈڑ کے دو اور 9906 نئے ووٹر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل 4892 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں، جن میں سے 4585 دیہی علاقوں میں اور 307 شہری علاقوں میں ہیں۔ ان تیرہ نشستوں کی انتخابی دوڑ میں 189 امیدوار شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 28 امیدوار بھوناتھ پور سیٹ سے جبکہ سب سے کم نو چترا سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ان سبھی اسمبلی حلقہ میں جن سینئر لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم مشین میں قید ہو گیا ان میں لوہردگا سیٹ سے جھارکھنڈ کانگریس کے صدر ڈاکٹر رامیشور اوراؤں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سکھدیو بھگت، وشرام پور سے ریاست کے وزیر صحت رام چندر چندرونشي، چھترپور سے آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین (اجسو) کے رادھاكرشن کشور،حسین آباد سے کشواہا شیوپوجن مہتا اور بھوناتھ پور سے بی جے پی امیدوار بھانوپرتاپ ساہی شامل ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close