اترپردیشتازہ ترین خبریں

جوہر یونیورسٹی معاملہ: عبداللہ اعظم سمیت ایس پی کے سینکڑوں کارکن پولیس حراست میں

اترپردیش کے ضلع رامپور میں پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں سماجو ادی پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ ایس پی کارکن ایم ایل اے عبداللہ اعظم کی حراست اور محمد علی جوہر یونیورسٹی میں پولیس کی چھاپہ ماری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

پولیس نے اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو ان کی رہائش سے حراست میں لیا ہے۔ رامپور کے ایس پی اجے پال شرما نے کہا کہ ایس پی کارکن اعظم خان کے گھر کے باہر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے پولیس نے انہیں حراست میں لیا ہے۔ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

سماج وادی پارٹی کی جانب سے ریاستی حکومت کے خلاف منعقد احتجاج میں شرکت کرنے کے لئے باہر سے آنے والے افراد کو پولیس نے شہر میں نہیں داخل ہونے دیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈران جنہیں پولیس نے رامپور میں داخل نہیں ہونے دیا ان میں محبوب علی، اقبال محمد، پنکی یادو، رام کھیری یادو، بھگوت شرن گنگوار، عطائالرحمان، سلطان بیگ، محمد فیضان، محمد عرفان سولنکی خاص طور سے شامل ہیں۔پولیس کے مطابق قریبی مرادآباد، بجنور، بدایوں اور امروہہ سے سماج وادی پارٹی کے کارکن دیر رات ہی میں آگئے ہیں۔

ضلع انتظامیہ نے ضلع میں نظم ونسق کو برقرار رکھنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کیا ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اے کے سنگھ نے کہا کہ دفعہ 144 کے تحت پانچ سے زیادہ افراد ایک جگہ اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ قابل ذکر ہے کہ سماجوادی پارٹی نے بدھ کو اعظم خان کے مبینہ ہراسانی اور فرضی مقدمات درج کرنے کے خلاف رامپور کے ملحق اضلاع کے پارٹی کارکنوں سے بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج میں شرکت کی اپیل کی تھی۔

اعظم خان کے بیٹے ورکن اسمبلی عبداللہ اعظم کو پولیس نے بدھ کو مبینہ کتابوں کی چوری کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لئے اپنی حراست میں لیا تھا۔سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ورکن پارلیمان اعظم خان مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے فانڈر اور چانسلر ہیں۔ ان دنوں وہ رامپور میں ضلع انتظامیہ کے نشانے پر ہیں۔ گذشتہ دو دنوں میں پولیس نے رام پور کے ہی ایک قدیم مدرسہ عالیہ سے کتابوں کو چوری کر کے لانے کے الزام میں جوہریونیورسٹی میں چھاپہ ماری کر رہی ہے جس سے کافی افراتفری کا ماحول ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close