اترپردیشتازہ ترین خبریں

جواہر قتل معاملہ: ’بلآخر 23 سال بعد انصاف مل ہی گیا‘

اترپردیش کے ضلع پریاگ راج کے جھونسی اسمبلی حلقے سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن اسمبلی رہے جواہر یادو عرف پنڈت کی بیوہ وجما یادو نے عدالت کے فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آخر 23 سال بعد انہیں انصاف مل ہی گیا۔

محترمہ یادو نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا کہ عدالت پر انہیں پورا یقین تھا۔ عدالت سے انصاف ملنے میں دیر ہوسکتی ہے لیکن ناانصافی نہیں ہوسکتی۔عدالت نے 23 سال بعد ان کے شوہر کے قاتلوں کو سزا دے کربے سہارا افراد میں امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23 سال چلی اس لمبی قانونی لڑائی کے بعد آج فیصلے کا بےصبری سے انتظار رہا۔ عدالت نے جیسے ہی قتل کے قصورواروں کروریا بھائیوں سمیت چار ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ سن کے ان کے آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔

23 سالوں تک چلی قانونی لڑائی کو ذکر کرتے ہوئے محترمہ یادو کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کے قاتلوں کے خلاف لمبی لڑائی لڑی ہے۔ 23 سال کوئی کم مدت نہیں ہوتی۔ اس مدت میں انہون امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا انہیں عدالت پر پورا بھروسہ تھا کہ فیصلہ آنے میں بھلے ہی تاخیر ہو لیکن قصورواروں کو سزا ضرور ملے گی۔

یاد رہے کہ پریاگ راج کی ایک عدالت نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن اسمبلی جواہر یادو عرف پنڈت کے قتل کے معاملے میں کروریا بھائیوں سمیت چار ملزموں کو پیر کے دن عمر قید کی سزا سناتے ہوئے ان پر7 لاکھ 20 ہزار روپئے کا جرمانہ لگایا ہے۔

خصوصی عدالت کے اڈیشنل سیشن جج(پنجم) بدری وشال پانڈے نے ملزم فریق کروریا بھائیوں اور حکومت کے وکلاء کی جرح سننے کے بعد آج اپنا فیصلہ سنایا۔ ایس پی رکن اسمبلی جواہر یادو عرف پنڈت کی 23 سال قبل ہوئے قتل کے معاملے میں عدالت نے 31 اکتوبر کو فیصلہ سناتے ہوئے کروریا بھائیوں کپل منی کروریا (سابق رکن پارلیمان)، ادے بھان کروریا (سارکن پارلیمان، ممبر اسمبلی)، سورج بھان کروریا(سابق ایم ایل سی)اور رام چندر ترپاٹھی عرف کلّو کومختلف دفعات میں قصووار قرار دیا تھا۔

عدالت نے اس دن سزا کے نکات پر سماعت کےلئے 4 نومبر کی تاریخ طے کی تھی۔ عدالت نے دونوں فریق کو سننے کے بعد کروریا بھائیوں سمیت چار ملزموں کو عمر قید کی سزا کے ساتھ 7 لاکھ 20 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ سبھی ملزموں کو دفعہ 302،307،147،اور 148 کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفعہ 302 کے تحت ایک ۔ایک لاکھ روئے جرمانہ، دفعہ 307 کے تحت 50۔50 ہزار روپئے اور دفعہ 17 کے تحت 10۔10 ہزار روپئے اور دفعہ 147 کے تحت 20۔20 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

مقدمے کے دوران استغاثہ کی جانب سے 18 گواہ جبکہ ڈیفینس کی جانب سے 156 گواہ پیش کئےگئے۔ معاملے کی سماعت 2014 سے لگاتار چل رہی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ 13 اگست 1996 کی شام سول لائنس میں ایس پی رکن اسمبلی جواہر یادو عرف پنڈت، ڈرائیور گلاب یادو اور کمل کمار دکشت(راہ گیر) کا اے کے 47 سے گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس حادثے میں پنکج کمار شریواستو اور کلن یادو کو بھی چوٹیں آئی تھیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close