اپنا دیشتازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر کے ٹکڑے کرنا تاریخی بھول: چدمبرم

سابق وزیرداخلہ اور کانگریس کے سینیئر رہنما پی چدمبرم نے جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے حکومت کے اقدام کو تاریخی بھول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور وہ اپنے اس فیصلے پر پشیماں ہوگی۔

جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کی دفعہ 370 کو ختم کرنے سے متعلق آئینی تجویز اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے بل پر پیر کو راجیہ سبھا میں ایک ساتھ ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر چدمبر نے کہا کہ جب راجہ ہری سنگھ کے ساتھ معاہدہ ہواتھا تو یہ پوری ریاست ہندوستان کو ملا تھا۔ یہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی تو ہے ہی اس سے ملک کے دیگر ریاستوں میں بھی غلط پیغام جائےگا۔ یہ ملک کی آزادی، جمہوری، اعتدال پسندی اور سیکولر شبیہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ قدم اٹھانے سے پہلے وہاں کے افراد اور رہنماؤں کواعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

کانگریس کے رہنما نے کہا کہ حکومت کو جلد بازی میں قدم نہیں اٹھانا چاہیے اور اپیل کرتے ہیں کہ اسے ایک بار غور و خوض کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہی ہے کیونکہ اس کے اس فیصلے پر آنے والی نسلیں کوسیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے نام پر انتخابی ایجنڈے اور سیاسی مفادات کو پورا کر رہی ہے لیکن اسے پتہ نہیں کہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور اس کے لیے وہی ذمہ داری ہوگی جس کے بعد وہ اپنے فیصلے پر پشیماں ہوگی۔

مسٹر چدمبر نے کہا کہ حکومت ایک بڑی قانونی بھول کر رہی ہے لیکن وہ ابھی اس کا انکشاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دفعہ 370 کے ایک حکم سے دفعہ 370 میں ترمیم نہیں کر سکتی۔ وہ بحث نہیں کریں گے لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ ان کی سمجھ سے باہرہے۔ اس قدم سے حکومت ایسی طاقتوں کو پیدا کررہی ہے جن پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں رہے گا۔ ریاست کے نوجوانوں کی فوج علاحدگی پسندوں اور جنگجوؤں کے چنگل میں آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے زیادہ تر لوگ امن کے حق میں ہیں اور محض کچھ لوگ جنگجوئیت اور علاحدگی پسندی کے راستے پر ہیں۔ لیکن حکومت کے اس قدم سے نوجوان انہی کچھ افراد کے بھرم میں آ جائیں گے۔

سابق وزیر داخلہ نے حکومت کے اس اقدام کی حمایت کرنے والی اے آئی ڈی ایم کے، عام آدمی پارٹی (اے اےپی) اور بیجو جنتا دل کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے غوروخوض کریں۔ مستقبل میں یہی فیصلہ اڈیشہ، مغربی بنگال یا تمل ناڈو کے بارے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close