اپنا دیشتازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر کے حالات اور عبداللہ کی حراست پر لوک سبھا میں ہنگامہ

اپوزیشن نے جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ کی گرفتاری کے سلسلے میں وزیر داخلہ سے بیان دینے اور لوک سبھا اسپیکر سے اپنے اختیارات کا استعمال کرکے ایوان میں انہیں بلوانے کی اپیل کی۔ وقفہ سوال میں اس معاملے کے سلسلے میں ہنگامہ کرنےوالے اپوزیشن کے لیڈروں کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وقفہ صفر میں اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔

کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ پانچ اگست کو وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا تھا کہ ریاست کے سابق وزیراعلی اور سابق مرکزی وزیر فاروق عبداللہ حراست میں نہیں ہیں، ان کی صحت خراب ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ 108 دن سے حراست میں ہیں۔ یہ کیسی ناانصافی ہے اور کیا یہ ظلم نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسٹرعبداللہ اور مسٹر پی چدمبرم کو ایوان میں لایا جائے، انہیں ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہے۔

مسٹر چودھری نے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم کشمیر جائیں۔ مسٹر راہل گاندھی کو ہوائی اڈے پر روک لیا گیا تھا لیکن روپ سے کچھ ’کرائے کے ٹٹو‘ کو لاکر کشمیر گھمایا گیا۔یہ ہندوستان کے سبھی ارکان پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن حکومت ہی بین الاقوامی سطح پر اس کی تشہیر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آپریشن کردیا ہے اور مریض مرچکا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس پر تفصیل سے بحث ہو۔‘‘

مسٹر چودھری نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق صدرراہل گاندھی کی اسپیشل سکیورٹی فورس(ایس پی جی) کی سکیورٹی ختم کرنے کے سلسلے میں بھی سوال کیا اور پوچھاکہ یہ کس قصور کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ڈی ایم کے کے لیڈر ٹی آر بالو نے کہا کہ مسٹر عبداللہ کوغیر قانونی طورپر حراست میں رکھاگیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ حسنین نے کہا کہ مسٹر عبداللہ کو پبلک سکیورٹی قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی رہائی کےلئے عدالت کا حکم ضروری نہیں ہے۔ لوک سبھا اسپیکر انتظامیہ کو براہ راست حکم دے کر مسٹرعبد اللہ کو ایوان میں بلوانے کےلئے کہہ سکتے ہیں۔

لوک سبھا اسپیکر نے جموں وکشمیر کا دورہ کرنے والے یورپی ارکان پارلیمنٹ کو ناشائستہ الفاظ کہنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے ہم ہندوستان کے رکن پارلیمنٹ ہیں ویسے ہی وہ بھی ہیں۔ ان کے وقار کا دھیان رکھنا چاہئے۔ جموں وکشمیر مسئلے پر غور وخوض کےلئے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں اپوزیشن کے لیڈر وقت طے کروا سکتے ہیں۔ وہ ایوان میں تفصیل سے بحث کرانے کےلئے تیار ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close