تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

جمنا فلڈ پلین میں پانی جمع کے منصوبے کو دہلی کابینہ کی ملی منظوری

دہلی کی پانی کا مسئلہ کودور کرنے کے پائلٹ پروجیکٹ کو ایک ماہ میں شروع کرنے کا ہدف، دہلی کیلئے ’گیم چینجر‘ثابت ہو گا منصوبہ

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
دہلی میں پانی کی قلت کو ختم کرنے کیلئے دہلی حکومت نے جمنا فلڈ پلین میں قدرتی پانی جمع کر نے کے منصوبے کو منظوری دیدی ہے۔آج وزیر اعلی کجریوال کی صدارت میں منعقدہ دہلی حکوت کی کابینہ کی میٹنگ میں جمنا فلڈ پلین میں پانی جمع کر نے کے منصوبے پر انٹر ڈپارٹمنٹ کمیٹی کی رپورٹ کومنظوری دی گئی۔ جمنا فلڈ پلین میں قدرتی طور پر پانی جمع کر نے کا یہ ملک میں اپنے نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔ اس کیلئے زمینیں لیز پر دینے والے کسانوں کو فی ایکڑ 77000 روپے فی سال دئے جائیں گے۔اس پرو جیکٹ کیلئے مرکز کی جانب سے تعاون اور ضروری منظوری کیلئے وزیر اعلی کجریوال نے نے مرکزی جل شکتی وزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کو فون کر کے شکریہ ادا کیا۔

یہ منصوبہ دہلی میں پانی کی کمی دور کر نے کا ایک اہم منصوبہ ہے۔جس سے دہلی میں پانی کی کمی کا مسئلہ، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں پانی کی ہو نے والی کمی سے نجات ملے گی۔ اس منصوبے کے جمنا فلڈ پلینس میں قدرتی پانی جمع کئے جا نے کام کیا جا ئے گا،جس میں پلّہ اور وزیر آباد کے بیچ میں پانی کا بڑا ذخائر بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت فلڈ پلینس چھوٹے چھوٹے پانڈس بنائے جا ئیں گے جن میں بارش کے دوران جمنا میں بہنے والے پانی کو جمع کیا جائے گا۔این جی ٹی کمیٹی کی دو منظوریوں کو چھوڑ کر زیادہ تر منظوریاں مل گئی ہیں،باقی دو منظوریاں بھی بہت جلد مل جانے کی امید ہے۔

دہلی کابینہ میٹنگ کے بعد وزیر اعلی اروندکجریوال نے مرکزی جل شکتی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت سے بات چیت کی اورمرکزی حکومت کی جانب سے اس پروجیکٹ کے لئے بہت جلد منظوری دینے کیلئے وزیر اعلی نے مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔ اس پائلٹ پروجیکٹ پر اس وجہ سے بہت تیزی سے کام ممکن ہو پا رہا ہے، کیونکہ وزیر اعلی ذاتی طور پرمستقل اس کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس منصوبے کو رفتار دے رہے ہیں کیوں کہ یہ منصوبہ دہلی کیلئے ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا۔ دہلی حکومت کے مطابق انٹر ڈپارٹمنٹ کمیٹی نے اس اہم منصوبے کیلئے لیز پر اپنی زمینیں دینے والے کسانوں کو فی ایکڑ فی 77000 روپے سال دینے کی سفارش کی ہے، اس پائلٹ پروجیکٹ کیلئے کسانوں کو ان کی زمین کے حساب سے رقم دی جائے گی۔

اس پروجیکٹ کی تیاری کیلئے آبپاشی اور سیلاب کنٹرول محکمہ کو اب ایک ماہ کا وقت ملا ہے۔دہلی کے وزیر اعلی کے مطابق دہلی میں جب موجودہ حکومت فروری2015 میں اقتدار میں آئی تھی اس وقت دہلی کے صرف 58 فیصد خاندانوں کو ان کے گھر میں ٹونٹی سے پانی ملتا تھا، صرف ساڑھے چار سال کے اندر دہلی میں گھروں تک ٹونٹی سے پانی حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 58 فیصد سے 88 فیصد تک ہو گئی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close