دلی این سی آر

جماعت کی معلومات نہ دینے پر مساجد انتظامیہ پر 13 مقدمات درج

پرانی دہلی کے چاندنی محل اور اس سے منسلک تمام علاقہ پوری طرح ہیں سیل ٭ٹین کی چادریں لگاکر گلی محلوں کو کیا گیا بند٭ لوگوں کے باہر نکلنے کی ممانعت ٭خلاف ورزی پر ہوگی کاروائی٭ گھروں میں ضروری سامان دینے کیلئے پولیس اور ولینٹرس تعینات

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک بھر سمیت راجدھانی دہلی میں لاک ڈائون جاری ہے۔ نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز سے بڑی تعداد میں کورونا پازیٹو افراد پائے جانے کے بعد جماعت سے جڑے لوگوں اور جن مساجد میں جماعتیں ٹھہری ہوئی تھیں ان کی بھی تفتیش کی گئی ہے۔ اب تک دہلی کے مختلف 30 علاقوں کو حساس، ہاٹ اسپاٹ مانتے ہوئے پوری طرح سیل کر دیا گیا ہے۔ وہیں پرانی دہلی کے چاندنی محل اور اس سے منسلک علاقوں میں کورونا کے پازیٹو پائے جانے پر حساس علاقہ مانتے ہوئے چاندنی محل اور اس سے منسلک گلی محلوں کو بھی پوری طرح سیل کر دیا گیا ہے۔

چاندنی محل علاقہ کی مختلف 13 مساجد سے 102جماعت افراد میں سے 50 جماعت کے لوگ اور دو دیگر افراد کے کورونا پازیٹو پائے جانے پر اس علاقہ کو حساس مانتے ہوئے چاندنی محل اور اس کے لگے ہوئے تمام گلی محلوں کو پوری طرح ٹین کی چادریں لگاکر سیل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ان مساجد میں جماعت ہونے کی اطلاع پولیس اور انتظامیہ کو نہ کرنے پر مساجد سے وابستہ 13 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقہ میں پانچ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج قبضہ میں لے رکھی ہیں، جو چاندنی محل کی بیرونی روڈ پر واقع تھے، جبکہ اندر موجود کیمروں کی فوٹیج کو بعد میں چیک کیا جائے گا۔ اس کے ذریعہ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ جماعتی علاقہ میں کس کس کے رابطے میں آئے تھے۔ تفتیش کے بعد کورونا متاثرین کے ساتھ رابطے میں آنے والے لوگوں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ اس سے محکمہ صحت کو ان کی کورونا جانچ میں آسانی ہوگی اور ان تمام لوگوں کو کوروناٹین رہنے کہا جائے گا۔ علاقہ کو سیل کرنے کے ساتھ ہی پولیس اور انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔

کارپوریشن کی طرف سے صفائی ستھرائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس ڈرون کیمروں کے ذریعے علاقہ کی نگرانی کر رہی ہے۔ کورونا کے پیش نظر پرانی دہلی کے چاندنی محل علاقہ کے جن گلی محلوں کوٹین کی چادریں لگا کر پوری طرح سیل کیا گیا ہے، ان میں مٹیا محل، پہاڑی املی، چو ڑی والان، گلی بدلیان، حویلی اعظم خان کا کٹ، چوک چتلی قبر، سڑک پریم نارائن، شنکر گلی، گلی ششیلا، ڈی ڈی اے فلیٹس ترکمان گیٹ کے تمام راستے، وردھمان پلازہ، گلی ننوا تیلی ترکمان گیٹ مین روڈ، پھاٹک تیلیان، حج منزل، دہلی گیٹ، پٹودی ہاؤس، لال گلی۔1، لال گلی 2، سبزی منڈی روڈ دریا گنج، سرسید روڈ، تراہا بیرم خان، کوچہ تاراچند، رکاب گنج ،چھتہ لال میاں، سویئوالان وغیرہ سمیت چاندنی محل تھانہ علاقہ اور اس سے لگے ہوئے تمام گلی محلوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق چاندنی محل تھانہ کی جانب سے سیل کئے گئے علاقہ میں گھروں میں لوگوں کو ضروری سامان کی فراہمی کیلئے پولیس اہلکار اور وولینٹرس کو لگایا گیا ہے تاکہ ان کو دوائوں، دودھ اور کھانے کے سامان کی پریشانی نہ ہو۔

وہیں سرگرم سماجی کارکن اور چھتہ لال میاں آر ڈبلیو اے کے عہدیدار نعیم ملک نے بتایا کہ انتظامیہ نے علاقہ کو سیل تو کر دیا ہے، لیکن سامان دستیاب ہونے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی افسر یا ملازم اندرونی گلیوں میں دیکھنے کے لئے نہیں آیا۔ ابتدا میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اور لوگ معاشرتی دوری کا پورا خیال رکھتے تھے۔ لیکن اچانک انتظامیہ کے حکم پر علاقہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہفتے کی صبح ڈیری پر دودھ نہیں تھا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو مزید پریشانی کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ کورونا سے پھیلنے والے انفیکشن کے پیش نظر پولیس انتظامیہ نے اب تک پرانی دہلی کے کئی علاقہ سیل کر دئے ہیں۔ جمعہ کی رات میں نبی کریم اور چاندنی محل کو سیل کرنے پر پولیس کا کہنا ہے کہ دریا گنج، حوض قاضی، کملا مارکیٹ، پہاڑ گنج، جامع مسجد وغیرہ کے مختلف علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔

بتا دیں کہ پہاڑ گنج، نبی کریم اور دیگر علاقوں میں 15 مساجد ہیں۔ جبکہ جامع مسجد کے علاقے میں 54 مساجد ہیں۔ پولیس ہر جگہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب 3 دن میں 3 اموات کی وجہ سے ہنگامہ آرائی کے بعد ضلع مجسٹریٹ (وسطی) ندھی شریواستو نے احکامات جاری کرکے پورے علاقے کو سیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چاندنی محل تھانہ علاقہ کے مختلف گلی محلوں کو سیل کئے جانے پر تھانہ ایس ایچ او کی جانب سے عوام کو ضروری سامان کی فراہمی کے لئے تعینات کئے گئے وولینٹرس میں سرگرم سماجی کارکن ریاض احمد راجو اور علاؤ الدین نے بتایا کہ لوگوں کو ضروری سامان مہیا کرانے کے لئے تھانہ چاندنی محل کی جانب سے 20 وولیںترس اور پولیس کے اہلکار مقرر کئے گئے ہیں۔ جن کی تعداد مزید بڑھائی جائے، کئی گلی محلوں میں پوسٹر لگا دئے گئے ہیں جن پر پولیس اور وولینٹرس کے نمبر درج ہیں، سیل کئے گئے علاقوں میں لوگ اپنی ضرورت کیلئے ان نمبروں پر فون کریں تو ان کو ضروری سامان مہیا کرا دیا جائے گا۔

ریاض احمد نے بتایا کہ لوگوں سے مسلسل اپیل کی جا رہی ہے وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ لاک ڈائون میں پولیس کی جانب سے ٹن کی چادریں لگا کر گلی محلوں کو سیل کر دینے کے ساتھ گلیوں کی نگرانی کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی نصب کیا گیا ہے۔ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ راجو نے کہاکہ لوگوں کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close