مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

جذبہ ایمانی کی نئی کلیوں سے مہکتا دیار مغرب

اسلام کے فروغ میں ہمارے بزرگوں نے بڑی کامیابی حکمت عملی اپنائی ہے۔ حضورؐ کے دور سے لے کر صحابہ کرامؓ اور پھر خلفائے راشدین اور اس کے بعد تابعین نے اسلام کے فروغ کا کام جاری رکھا۔ لیکن اب اس دور جدید میں توحید کی روشنی پھیلانے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سب سے زیادہ اہم رول ادا کر رہی ہے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ اسلام کے فروغ میں جتنا اہم رول مغربی ممالک خاص کر برطانیہ، فرانس اور امریکہ کا ہے اتنا اہم رول مسلم ممالک کا نہیں ہے اور اب تو امریکہ اور یوروپ میں نئی نسل دین کی تبلیغ میں تاریخ ساز رول ادا کر رہی ہے۔ امریکہ کے مسلم بچوں کے کارنامے مسلم ممالک کے لئے ایک آئینہ ہے اور اسلام کی تبلیغ کا یہ تاریخی پہلو ہے کہ مسلم بہن بھائیوں کی ایک ایسی ٹیم وجود میں آئی ہے، جو نئی نسل کو اپنے انداز سے دینی فروغ میں حصہ لینے پر مجبورکر رہی ہے۔ اسلامی تبلیغ وترتیل آج مغرب میں ایک تحریک بن کر اسلام کی خدمت انجام دے رہی ہے۔ دو دہائی قبل یوروپ میں اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، خاص کر 18 برسوں میں امریکہ میں تبلیغ نے وہ بلندی حاصل کی ہے، جس پر دنیا حیران ہے اور اسلام سے متاثر ہو رہی ہے۔ آج امریکہ کا منظرنامہ یہ ہے کہ طلباء بہت زیادہ اسلام سے متاثر ہو رہے ہیں۔ پنکس رپورٹ کے مطابق محض ایک دن اسلام کا مطالعہ کرکے ایک امریکی مشرف بہ اسلام ہوگیا اور اس کے بعد اس کا سماجی بائیکاٹ شروع ہوا، لیکن ایک سچے مسلمان کا جو حوصلہ تھا، وہ نومسلم عمران حفیظ میں پوری طرح دوڑ رہا تھا۔ اسلامی تعلیمات اور رسولؐ کے پیغامات اور قرآن کی روشنی میں عمران نے اپنے گھر والوں کو بھی متاثر کیا اور باقاعدہ نئی نسل اسلامی تعلیمات پر ریسرچ کرنے لگی۔ نو مسلم طلباء دیگر غیر مسلم لڑکوں کو تریبت دینے لگے اور اسلامی روشنی میں انہیں دین کا پیغام سنانے لگے۔ حالانکہ اس دوران طلباء کے درمیان اسلام کی بڑھتی مقبولیت سے غیر ملکی بچوں میں خلیج بھی پیدا ہوئی، لیکن یہ امریکن بچوں کا حوصلہ ہی تھا کہ اس سلسلے میں انہوں نے کتابچہ شائع کئے، اسلامی اسکولوں کے بچوں کو تعلیم دین کے فروغ کی تربیت دینے لگے۔ بہرحال امریکہ میں اسلام کے فروغ کے لئے کثرت سے اسلامی اسکولوں کا سلسلہ دراز ہوا اور ان اسکولوں میں جو داخلے ہوتے تھے وہ دین کی مکمل جانکاری دینے کے لئے ہوتے تھے۔ نماز، پردہ، نظریات وغیرہ پر کھل کر گفتگو ہوتی تھی۔ ہینڈبک کے ذریعہ زبردست تشہیر کا کام بھی لیا جاتا رہا، نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ سے باہر کے بھی لڑکے اسلامی اسکول اور مراکز کے رابطے میں آنے لگے اور اسلام کے فروغ میں بڑی تیزی آنے لگی۔ اسی طرح امریکہ کے کلبوں میں اسلام کی تبلیغ وترسیل کا کام بڑی حکمت عملی سے ہونے لگا، غرض کہ اسکولی بچوں خاص کر نئی نسل میں اسلام کی جانکاری، قرآن کے پیغامات، رسولؐ کا کردار کے متعلق انتی جانکاری ہوگئی کہ وہ بڑے بڑے مباحث میں بھی حصہ لینے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب میں جہاں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کا جس گہرائی کے ساتھ مطالعہ ہو رہا ہے اور جس تیزی سے امریکہ میں نئی نسل مشرف بہ اسلام ہو رہی ہے یہ جدید ٹکنالوجی، اسلامی مراکز، اسلامی اسکول کا سب سے زیادہ اہم رول ہے۔ کاش مشرق میں بھی نئی نسل نے اسلام کی مکمل جانکاری کی حکمت عملی اپنائی جاتی تو یہ بھی دین کی اہم خدمت ہوتی۔ بہرحال زیرنظر مضمون اسلام کے آغاز کے بعد سے دورحاضر میں خاص کر امریکہ اور یوروپ میں توحید کی روشنی پھیلانے کا جو کام ہو رہا ہے، اس پر پرمغز بحث کی گئی ہے اور ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ نئی نسل میں اسلام کی مکمل جانکاری دین کے فروغ میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کرسکتی ہے۔

اسلام کے آغاز سے ہی اسلامی تعلیمات، تبلیغ اور رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ پیغمبر اسلام ؐ کے دور سے ہی صحابہ کرام اکثر و بیشتر حضور پاک ؐ سے جانکاریاں حاصل کر تے رہتے تھے۔ پیغمبر حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد یہ مبارک کام خلفائے راشدین، دیگر صحابہ کرام اور تبع تابعین نے جاری رکھا تھا۔ ان کے بعد بھی اولیا کرام اور دیگر مبلغین نے اسلامی تعلیمات، تہذیب و تمدن کو دنیا کے یسار ویمن تک پہنچانے کی خدمات انجام دیں اور اب اللہ تعالی کا شکر ہے کہ دنیا کے ہر خطہ میں توحید کی روشنی پھیل چکی ہے۔ تاہم یہ کام ہمیشہ جاری رہنے والا ہے۔ مبلغین کے بارے میں تو اکثر اخبارات، میڈیا اور کتابوں کے توسط سے اس بارے میں خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن امریکہ اور یوروپ میں چھوٹے چھوٹے بچے اس مبارک دینی تبلیغ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ آج امریکہ میں پرورش پانے والے مسلم بچوں کے دینی کارنامے بھی حیرت انگیز ہیں۔ وہاں پر مسلم بہن بھائی کی ایک ایسی ٹیم وجود میں آ گئی ہے جو کتابچوں کے توسط سے اپنے ساتھی بچوں کو اسلامی عقیدہ کی جانکاری فراہم کرا رہے ہیں۔ انہوں نے 10 سال قبل اسلامی تعلیمات کی ترسیل کا یہ کام شروع کیا تھا جو کہ ہنوز جاری ہے اور اس کے خوشگوار نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں اب یہ کام اسلامی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔

امریکہ کے ان مسلم بچوں نے نہایت حوصلہ اور سرگرمی کے ساتھ یہ دینی کارنامہ انجام دینا ستمبر 2001 میں شروع کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر تو جہ نہیں دی تھی کہ انفرادی طور پر اس ملک میں ان کی کیا حیثیت ہے بلکہ انہوں نے اس بات پر غور کیا تھا کہ وہ اس معاشرے سے کس طرح سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، جنہیں اسلام کے بارے میں معمولی سی بھی جانکاری نہیں ہے۔ کرشچیئن سائنس مانیٹر (Christian Science Monitor) کی رپورٹ کے مطابق فینکس (Phoenix) میں ہائی اسکول کے طالب علم عمران حفیظ نے بتایا تھا کہ ”میں 10 ستمبر کو ایک امریکی کی حیثیت سے سو گیا تھا اور جب 11 ستمبر کو میں سو کر اٹھا تو اس وقت میں ایک مسلمان تھا“ حالانکہ اس عمل میں وہ قدرے پیچھے تھا لیکن اس کے ذہن میں اسلامی عقیدہ اثر انداز ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد اچانک اس کے دوستوں نے اس سے کہا تھا کہ ”تم اب ان کے ساتھ فٹ بال نہیں کھیل سکتے ہو۔“ اس بات سے اس کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوئی تھی بلکہ ایک طرح سے وہ خوفزدہ بھی ہو گیا تھا لیکن اس کے اہل خانہ نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ لاعلمی کی وجہ سے تمہارے دوستوں کا یہ ”رد عمل“ سامنے آیا تھا نہ کہ نفرت کی وجہ سے سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد عمران، اس کی بڑی بہن یاسمین اور ان کی والدہ دلیرہ نے زبردست طریقہ سے ڈبل پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کر دیا تھا، جس میں سے ایک کام کتاب لکھنا تھا تاکہ امریکی باشندوں کی ناواقفیت کا ازالہ کیا جا سکے اور دوسرا کام مسلم نوجوانوں کو یہ تربیت دینا تھا کہ ان کے سامنے جو مسائل آتے ہیں ان کو کس طرح سے حل کیا جائے تاکہ غیر مسلموں کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں، اس کام کو انجام دینے میں انہیں پانچ سال لگ گئے تھے۔

ہائی اسکول کی ایک سینئر طالبہ یاسمین جو کہ آئندہ سال یالے (Yale) یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی تھی، اس نے ایک روزنامہ کو بتایا تھا کہ ”میں دقیانوسی اور منفی سوچ کو ختم کرنا چاہتی تھی اور یہ دکھانا چاہتی تھی کہ دیگر لوگوں کی طرح ہم بھی امریکہ کے باشندے ہیں۔“ جب اگست میں American Muslim Teenager”s Hanbook کتاب شائع ہوئی تو یہ اپنی نوعیت کی ایک مثال تھی۔ وہ امریکی اور غیر ملکی بچوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہو گئی تھی اس کو پُر کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس نے مقامی Barnes & Noble Book Store میں جا کر ان نوجوانوں اور بچوں کے ایک ایسے طبقہ کو تلاش کرنا شروع کر دیا تھا جو اس کتاب کی جانب متوجہ ہو سکتے تھے۔ ایک خوبصورت پیپر بیک والی اس کتاب میں اسلامی عقیدہ اور تعلیمات کے علاوہ ان سوالات کو بھی شامل کیا گیا تھا جو کہ اکثر تمام امریکی ریاستوں میں مسلمانوں سے پوچھے جاتے تھے۔ اس سلسلے میں دلیرہ نے وضاحت کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ”ہم نے بذات خود جو تحقیق کی تھی اس کے علاوہ ہم نے 44 اسلامک اسکولوں کی وہ سروے رپورٹ بھی پیش کی تھی جس کی فینکس کے علاقہ میں واقع اسلامی اسکولوں کے بچوں کو ہفتہ کے آخر میں تعلیم دی جاتی تھی۔

دریں اثناء ان سے پوچھے گئے سوالوں کے جو جوابات دیئے گئے تھے، ان سے اس بات کا انکشاف ہو گیا تھا کہ ان چھوٹے بچوں نے بھی اسلامی اسکولوں میں داخلہ لینا شروع کر دیا تھا، جن کے رجحانات اور عقائد مختلف تھے۔ ان سے یہ سوال تک پوچھے گئے تھے کہ وہ مسلمان کیوں ہیں اور کتنی مرتبہ وہ نماز ادا کر تے ہیں کیا ان کے مذہب میں لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں یا نہیں پہنتی ہیں۔ ان کے نظریات اور اقوال کی کتاب کے بارہویں باب میں وضاحت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں ”اسلام 101“ گائیڈ کے ذریعہ فریضہ حج ادا کرنے، نماز ادا کرنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں رہنمائی کی گئی تھی اور اس کے علاوہ متنازع ایشوز پر دانشورانہ مباحثوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس دستی کتاب (Hand Book) کے زبردست پیمانے پر مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ امریکہ سے باہر رہائش پذیر مسلم طبقہ کے بچے بھی رابطہ کرنے لگے تھے۔ فینکس (Phoenix) میں ایک یہودی خاتون جس کا نام سنتھیا برگ (Cynthia Berg) تھا، ایک باہری پروگرام کے دوران وہ اپنے عبادت خانہ میں حفیظ اور ان کی اہلیہ سے ملی تھیں وہ اس دستی کتاب سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے دوسرے شہروں میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کو اس کی کاپیاں ارسال کر دی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ’اس کتاب سے انہیں اسلام مذہب میں اعتدال پسندی اور میانہ روی دکھائی دی اور مجھے میرے بہت سے سوالوں کا جواب بھی مل گیا“۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ ”سان ڈیگو (San Diego) میں رہنے والی ان کی بہن نے اس کتاب کو اپنے مذہبی رہنما (Rabbi) کو بھی دکھایا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس پر غور و خوض کریں گے۔“

یہ کتاب اتنی مقبول ہو گئی تھی کہ ایک اسقفی نظام حیات (Episcopal) پر مبنی اسکاٹس ڈیل (Scottsdale) کے نزدیکی اسکول نے اسے اپنے نصاب میں شامل کر لیا تھا اور مختلف علاقوں کے لائبریرین اور اساتذہ نے تو یہاں تک کہہ د یا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ نہ کرنے والی اس کتاب کو سمجھنا نہایت آسان ہے۔ دراصل اس کتاب کا مقصد مذہب تبدیل کرانا بھی نہیں تھا بلکہ غیر مسلموں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔ ملیشیا کی وزارت تعلیم نے اس کتاب کی کاپیوں کا آرڈر بھی دیا تھا۔ اب اس کتاب کا دیگر زبانوں جیسے فرانسیسی، ڈچ اور چینی زبان میں ترجمہ کرایا جا رہا ہے۔ جس میں امریکی طرز نگارش برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دلیرہ کا کہنا ہے کہ ”وہ اس میں سے ایک بھی ایسا لفظ تبدیل نہیں کرنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کم امریکی نظر آئے۔ بالکل یہی بات یاسمین کے ذہن میں بھی تھی۔ اس کتاب کے ضمن میں ان کا کہنا یہ تھا کہ ”میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ ہمہ وقت مسلمان ہونا اور امریکی ہونا ممکن ہے۔“

یاسمین اور ان کا بھائی دونوں اس بات سے واقف تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں حالانکہ وہ دونوں فینکس کے کیتھو لک ابتدائی (Preparatory) مرحلہ کے طالب علم تھے، جس کا انتخاب ان کے اہل خانہ نے اعلی تعلیم کے پیش نظر کیا تھا۔ عمران جوکہ ایک مشتاق ڈرمر (Drummer) ہونے کے علاوہ ڈبیٹ (Debate) اور ماحولیاتی کلب کی سرگرمیوں میں شرکت کیا کرتا تھا وہ دیگر عقائد کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی جستجو میں بھی رہتا تھا۔ مطالعہ کرنے کی شوقین یاسمین نے اس جگہ کو مناسب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”یہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پر آپ مذہب اور اخلاقی موضوعات پر بحث کر سکتے ہیں۔“ اپنے والد حامد کے بینک کی ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد حفیظ فیملی 1997 س اریزونا میں ہی رہتی ہے لیکن آٹھ سال تک کویت میں رہنے کے دوران ہی یہ فیملی 1991 کے حملہ میں زیر حراست ہو گئی تھی۔

بنیادی طور پر پاکستانی نژاد دلیرہ کی پرورش واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی تھی۔ انہوں نے جان ہو پکنس یونیورسٹی (John Hopkins University) سے گریجویشن کیا تھا اور اس کے بعد لندن اسکول آف اکو نومکس (London School of Economics) سے بھی گریجویشن کیا تھا چنانچہ دونوں بچے امریکہ میں ہی پیدا ہو گئے تھے۔ اس طرح سے پوری فیملی کو اعتدال پسند مسلمانوں کی آواز اٹھانے کا موقعہ مل گیا تھا اور وہ اس مبارک کام کے لئے متحرک ہو گئی تھی۔ جب انہوں نے اپنی دستی کتاب (Hand Book) کے لئے امریکی اسلامک اسکولوں کا سروے کیا تو انہیں چھوٹے بچوں کی رہنمائی کرنے کے لئے زبردست حمایت ملی تھی حالانکہ کچھ لوگوں نے اس طرح کی کوشش کی تنقید بھی کی تھی لیکن یاسمین نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیا جا نے والا یہ مبارک کام ہے۔ اس کتاب سے ضرور یہ محسوس ہوتا ہے کہ اہل خانہ کا اپنے عقیدہ پر پختہ ایمان ہے۔ ریسرچ کرنے میں پانچ سال اور مباحثے کرنے و کتاب تحریر کرنے میں انہیں تین سال لگ گئے تھے اور آئندہ سال ایڈٹ کرنے کے بعد اسے شائع کیا تھا۔ عمران نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں نے اس سے قبل کبھی بھی اپنے عقیدہ کے بارے میں اتنی کشادہ دلی سے کام نہیں لیا تھا اور نہ ہی افتخار محسوس کیا تھا۔ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ لوگ درحقیقت اس میں دلچسپی رکھنے والے ہیں۔“ کچھ معروف امریکی مسلم مصنفوں نے ان کے کارناموں کی ستائش بھی کی ہے اور ان کو اس وقت مزید افتخار محسوس ہوا تھا جب محمد علی قلعہ نے ان کی کتاب کا مطالعہ کیا تھا۔ یہ بات بھی کافی اہمیت کی حامل ہے کہ عمران کے اسکول کے دوستوں نے اس وقت عمران کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ Brophy Preparatory School کے ایک جونیئر رابرٹ گیلک (Robert Gaelick) جوکہ مسلمان نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ”بہت سے لوگ اسکول میں اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ اس کتاب کو لکھنے کے لئے میں عمران پر فخر کرتا ہوں، جنہوں نے دقیانوسیت کے خلاف آواز اٹھائی اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بقائے باہم اور رواداری کا درس دیا۔عمران کی اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اب امریکی مسلمانوں کے نزدیک آ رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بچوں کے ذریعہ انجام دیا گیا یہ ایک کارہائے نمایاں ہے، جس کی آج بھی پذیرائی ہو رہی ہے۔

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close