مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

جدّہ: باب مکہ کی فضیلت و اہمیت

اسلام کے فروغ میں تجارت کا سب سے اہم رول رہا ہے۔ عرب قوم دنیا میں کئی مقامات پر تجارت کے لئے جانی جاتی ہے۔ ساحلی علاقوں سے تجارت کرنا عربوں کی خاص دلچسپی رہی ہے۔ اسی دلچسپی اور تجارتی نقطۂ نظر سے سعودی عرب کا معروف شہر جدہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جدہ کو عروس البحرالالحمر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی تاریخی عظمت بھی کم نہیں ہے۔ جدہ سعودی عرب کی قدیم ثقافت، تاریخ و روایت کا امین بھی رہا ہے اور محافظ بھی۔ اس شہر کے ذریعہ عربوں نے دنیا کے کئی ممالک میں تجارت کی غرض سے اپنے قافلے بھیجے۔ اسلام کے آغاز کے ساتھ ہی اس شہر کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ بحری راستوں سے مسلمان پوری دنیا میں پھیلنے لگے۔ جدہ کو باب مکہ بھی کہا جاتا ہے۔ عازمین حج ایک زمانے میں اسی راستے سے مملکت آتے تھے۔ بری ہو یا بحری دونوں کے لئے جدہ مشہور تھا۔ یہاں کی بندرگاہ کی بھی کافی اہمیت تھی تو بعد میں فضائی پرواز کا بھی سلسلہ دراز ہو گیا۔ جدہ کی قدیم تاریخ کا نتیجہ ہے کہ یونیسکو نے اس شہر کو آثار قدیمہ کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور آج جدہ ایک عالمی شہر بن کر مملکت کی شان و شوکت اور ترقی کا گواہ بنا ہوا ہے۔ چونکہ جدہ باب مکہ کہلاتا ہے تو اسی کے تناظر میں یہاں کی ترقیات اور تاریخی عظمت دونوں کو برقرار رکھنے کے لئے مملکت نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ جدہ کے تاریخی مقامات عالمی آثار قدیمہ کا حصہ بن چکے ہیں تو مملکت اسے ڈیولپ کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے اور اس پر زبردست کام بھی ہو رہا ہے۔ حکومت سعودی عرب کی نگرانی میں تعمیراتی ورثہ کی دیکھ بھال اور ترقیاتی منصوبہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد جدہ کی دو طرفہ ترقی ہو رہی ہے۔ قدیم اسلامی باقیات کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید دلکش بنا دیا گیا ہے۔ مملکت کے وژن 2030 کے تحت جدہ میں روایتی طرز پر ترقیاتی کام بھی ایک سنہرہ دور کا منظرنامہ ہے۔ جدہ کی عظمت کو مزید جلا بخشنا مملکت کے اقتصادی ترقیاتی وژن 2030 کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد جدہ کے تاریخی و تہذیبی ورثہ کو برقرار رکھنا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یونیسکو کی عالمی فہرست میں شامل ہونے کے بعد جدہ مملکت کی خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مملکت نہ صرف تاریخی مقامات اور وراثتی یادگاروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے بلکہ جدہ کو عالمی سطح پر بھی ایک پُروقار اور جدید شہر بنانے کی طرف گامزن ہے۔ زیرنظر مضمون جدہ کی قدیم تہذیب و تاریخی روایتوں پر محیط ہے اور حکومت سعودی عرب کے قابل ستائش کارناموں کو اجاگر کرتا ہے:

سعودی عرب کا ’عروس البحر الاحمر‘ کے نام سے معروف شہر جدہ عرب جزیرہ کے مغربی ساحل پر آباد تاریخی بندرگاہ والا ایک بڑا شہر ہے جوکہ قدیم زمانے سے ہی تجارتی اعتبار سے نہ صرف اہمیت کا حامل رہا ہے بلکہ اسے اس لئے بھی فضیلت حاصل ہے کیونکہ اسے ’باب مکہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جدہ سعودی عرب کی قدیم تہذیب و تاریخی روایتوں کا امین ہے۔ ظہور اسلام کے بعد اس شہر کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو گئی تھی جس زمانے میں عازمین حج بحری یا خشکی کے راستے سے فریضۂ حج ادا کرنے کے لئے مملکت میں آتے تھے، اس دور میں جدہ کی اس بڑی بندرگاہ کی زبردست اہمیت تھی کیونکہ عازمین حج جدہ سے ہی مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہوتے تھے۔ یہ شہر جوکہ ظہور اسلام سے قبل بھی اپنی انفرادی اہمیت کا حامل تھا، ظہور اسلام کے بعد اس کی اہمیت میں چار چاند لگ گئے تھے۔ عازمین حج کے لئے فضائی پروازیں شروع ہونے سے قبل مملکت سعودی عرب نے جدہ میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے تھے۔ چونکہ یہ قدیم دور کا ایک تاریخی شہر ہے اس لئے یہاں پر کثیر تعداد میں آثار قدیمہ بھی موجودہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیسکو (UNESCO) نے جدہ کے قدیم شہر کو آثار قدیمہ کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

جب اس قدیم تاریخی شہر کو 9 سال قبل یونیسکو نے عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے نامزد کیا تھا تو اسپین، برازیل، بیلجیم، چین، عراق، ملیشیا اور مصر کے یونیسکو سفارت کاروں کی ایک ٹیم اس شہر کا معائنہ کرنے کے لئے آئی تھی۔ اپنے اس دورہ کے دوران ٹیم کے اراکین جدہ کے قدیم علاقوں میں بھی گئے تھے، جہاں پر وہ روایتی حجازی لوک رقص ”المزمار“(Mizmar) سے محظوظ ہوئے تھے۔ جدہ کی بلدیاتی انتظامیہ کے ثقافت و سیاحت محکمہ کے سربراہ محمد ال عمری نے شہر کے ایک مقامی روزنامہ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بلد عظیم (وسط البلد) کو عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرانے کے واسطے یونیسکو کے ضابطوں اور طریق کار کے مطابق کام کرایا جا چکا ہے۔ چنانچہ یونیسکو کے ذریعہ جدہ کو عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد اس عظیم شہر کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور ایک ایسا دن بھی آئے گا جب یہاں پر بنیادی ضرورتوں کی چیزیں جیسے چائے کی کیتلی سے لے کر ہائی فائی الیکٹرونک سامان اور شیشے کے سامان سے لے کر زیورات تک خریدنے والوں کا جم غفیر نظر آئے گا اور جب وہ ایک دوسرے کے رابطے میں آئیں گے تو انہیں اس عظیم شہر کی تاریخ کے بارے میں بھی جانکاری ہوتی رہے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ہی وہ اس شہر کی سیکڑوں سال قدیم عمارتوں اور جدہ کی روایتی طرز تعمیر سے بھی واقف ہو جائیں گے۔

ایک ماہر تعمیر نے درست ہی کہا ہے کہ ”مختلف نئے نظریات کے تحت جب تیزی کے ساتھ جدہ میں شہر کاری کا دباؤ بننا شروع ہوا تھا تو شہر کی قدیم تاریخی عمارتوں کو ہی کسوٹی کا معیار بنایا گیا تھا۔“ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان عمارتوں میں سے بہت سی عمارتیں ایسی ہیں جوکہ اس شہر کی اقتصادی اور ثقافتی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں چنانچہ زبردست سرمایہ کاری سے تعمیر کرائی گئیں ان موروثی عمارتوں کی بہت زیادہ دیکھ بھال کئے جانے کی ضرورت ہے اور ثقافتی اعتبار سے دیکھا جائے تو ماضی اور مستقبل کے درمیان انسانی رابطوں کا تعین کرنے کے لئے یہ ایک لازمی ذریعہ ہیں، جن کے بغیر ہماری اصلی شناخت نہیں ہو سکتی ہے۔ قدیم جدہ میں عمارتوں کی منفرد طرز تعمیر کے علاوہ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں پر ایک ’قابیل اسٹریٹ‘ واقع ہے جو کہ یہاں کی قدیم ترین تجارتی اسٹریٹ ہے، جسے 20ویں صدی کے ابتدائی ایام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اراضی قابیل خاندان کی تحویل میں تھی، اسی لئے قابیل کے نام سے یہ سڑک معروف ہوگئی تھی۔ قابیل اسٹریٹ کے ایک پرانے باشندہ عبداللہ باجابی کا کہنا ہے کہ ”قابیل اسٹریٹ کسی زمانے میں ایک چھوٹے شہر کی مانند تھی۔ یہ قدیم جدہ کی اولین سڑک تھی، جہاں پر سب سے پہلے برق کاری (Electricity) کی گئی تھی اور صف اول کے تاجرین وہاں پر ہی تجارت کرنا پسند کرتے تھے۔“

ماہ رمضان اور عید الفطر کے موقع پر جدہ کی قابیل اسٹریٹ کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور وہاں کے بازاروں کی رونق دو بالا ہو جاتی ہے۔ اس عظیم شہر کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کیوں کہ اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہونے والے مختلف ممالک کے عازمین حج کے لئے یہ صدر دروازہ ہے اور یہاں پر جمع ہوکر ہی مکہ معظمہ کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے اسلامی ریکارڈ کے مطابق چاروں خلفائے راشدین کے درمیان تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان ابن عفانؓ نے 647 عیسوی میں عازمین حج کے لئے جدہ کو داخلہ جاتی بندرگاہ قرار دیا تھا۔جدہ نہ صرف مملکت کی تجارتی راجدھانی تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ یہ مشرق وسطی میں دوسرا بندرگاہ والا شہر ہے اور روایتی طور پر یہ عرب دنیا کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

شہزادہ سلطان بن سلمان، جوکہ نومبر 2008 میں جنرل کمیشن برائے سیاحت و آثار قدیمہ (General Commission for Tourism & Antiquities) کے سکیرٹری جنرل تھے، نے جدہ کے تاریخی مقامات کو عالمی آثار قدیمہ کا مرکز بنانے اور اس کو ڈیولپ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ عربی روزنامہ ’ال مدینہ‘ کے مطابق شہزادہ سلطان نے یہ بھی بتایا تھا کہ ”گزشتہ کئی برسوں سے کمیشن اور مملکت کی حکومت نے قدیم جدہ کے تاریخی علاقوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں ڈیولپ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور اب ڈیولپمنٹ کی نئی شکل دکھائی دے گی اور کمیشن برائے بلدیات اور دیہی امور کے ساتھ مل کر طائف، ال مجمعہ اور الہفوف میں بھی اب تاریخی مقامات کا ڈیولپمنٹ کر رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا تھا کہ تاریخی مقامات کو محفوظ رکھنا صرف کمیشن کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے اور حکومت نے بھی اس کام میں دلچسپی دکھائی ہے۔ شہزادہ کے مطابق ”ملک میں تعمیراتی ورثہ کی دیکھ بھال کرنے میں مملکت میں زبردست ترقیاتی کام دیکھنے کو ملیں گے، جس کے تحت نہ صرف پروجیکٹوں کو نافذ کیا جائے گا بلکہ عوامی بیداری کے پروگرام بھی شامل ہوں گے۔“

مدائن صالح جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے، اسے بھی 2008 میں یونیسکو کی عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 200 قبل عیسوی اور 200 عیسوی کے درمیان مدینہ منورہ سے تقریباً 400 کلومیٹر شمال میں چٹانوں میں کھدائی کرکے مقبرے بنائے گئے تھے اور وہیں پر 132 چیمبرس تھے، جن میں قوم ثمود اور نباطین باشندے رہائش پذیر تھے۔ آج بھی اس مقام پر دیواروں، ٹاوروں، پانی کی نالیوں کے باقیات اِدھر اُدھر دکھائی دیتے ہیں اس کے علاوہ یہاں پر کچی اینٹوں سے تعمیر شدہ خستہ حال مکانات نظر آتے ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جارڈن کے شمالی علاقہ میں 440 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع پیٹرا (Petra) کے بعد نباطین شہر کے آثار قدیمہ کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی گئی تھی۔ اس دور میں تجارتی شاہراہ (Incense Route) پر یہ دونوں شہر ٹھہراؤ کے نظریہ سے اہمیت کے حامل تھے۔ علاوہ ازیں مملکت میں ایسے بہت سے تاریخی اور قدرتی مقامات ہیں، جوکہ عالمی وراثت کی فہرست میں شامل کئے جانے کے لائق ہیں۔ مثال کے طور پر الدریا (Al-Diriya) کے تعلق سے شہزادہ سلطان نے یہ کہا تھا کہ ”اس مقام کو بھی عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔“

یونیسکو کے ذریعہ کسی مقام کی عمارت کو عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرانے کے لئے جن ضابطوں کو لازمی طور پر پورا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ اس بات کو بھی ذہن نشین رکھا جاتا ہے کہ متعلقہ مقام یا عمارت کے اصل اور بنیادی ڈھانچہ کی ساخت کو محفوظ رکھا جائے۔ اس تعلق سے مملکت میں واقع عالمی آثار قدیمہ کے سینٹر (World Heritage Centre) کی یونٹ کے سربراہ و یرونیک ڈوگے (Veronique Dauge) نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ادارہ کی کمیٹی کسی مقام کو آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو منظور یا مسترد کر سکتی ہے، کسی فیصلہ کو مؤخر کر سکتی ہے یا پھر مزید جانکاری حاصل کرنے کے لئے اس تجویز کو سعودی عرب کو واپس بھیج سکتی ہے۔ جب کسی مقام یا عمارت کو آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے متعلقہ ملک کو اس کے محفوظ اور دیکھ بھال کئے جانے کے بارے میں ضروری جانکاری دینی ہوتی ہے تو اس کے بعد ہی آگے پیش رفت کی جاتی ہے۔

یونیسکو کے مطابق جب کسی مقام یا عمارت یا تاریخی اہمیت کے حامل قدرتی علاقوں، عالمی آثار قدیمہ یا وراثت کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ سے سیاحت کے شعبہ میں ترقی ہو جاتی ہے۔ شہزادہ سلطان نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی کہ ”شاہ عبد العزیز کے دور اقتدار میں جو مثالی عمارتیں تعمیر کرائی گئی تھیں ان کی تزئین کاری کے پروجیکٹ کا کمیشن نے آغاز کر دیا ہے اور وہاں پر سیاحتی مراکز اور میوزیم کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔“

آج سعودی عرب کا عظیم شہر جدہ ایک دہائی سے زیادہ مدت قبل عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے، جہاں پر قدیم اسلامی باقیات میں کوئی بھی تبدیلی کئے بغیر اس شہر کو جدید معیار کے مطابق مزید دلکش بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں پر نہ صرف اسلامی تشخص کا دیدار ہوتا ہے بلکہ سیاحت کے اعتبار سے بھی اس شہر کو غیر معمولی شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ مملکت کے وژن 2030 کے تحت جدید لیکن روایتی طرز پر دیگر ترقیاتی کام کرائے جا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ شہر کے شاہ عبدالعزیز کے دور کی 56 پرانی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے مرمت کرائے جانے کا فرمان جاری کیا ہے، جس کے لئے 50 ملین ریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے جدہ کی بوسیدہ ہونے والی تاریخی عمارتوں کی مرمت کرانے کا حکم دینے کا مقصد ان مقامات کو تحفظ فراہم کرنا اور قومی ورثہ کے وجود کو برقرار رکھنا ہے۔ ان تاریخی عمارتوں کی مرمت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافت کی ہدایت اور سعودی عرب کے اقتصادی ترقیاتی وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کے قومی ورثے بالخصوص جدہ کے تاریخی اور تہذیبی آثار قدیمہ کو برقرار رکھنا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز کے دور اقتدار سے ہی جدہ میں واقع آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کو تحفظ فراہم کرانے کے عمل پر توجہ دی جاتی رہی ہے اور دیگر شاہوں نے بھی اس کام کو جاری رکھا تھا لیکن یونیسکو کی عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں جدہ شہر کا نام شامل ہو جانے کے بعد مملکت کے حکمراں نہ صرف تاریخی مقامات اور وراثتی یادگاروں کو تحفظ فراہم کرا رہے ہیں بلکہ وسیع پیمانہ پر مملکت کے مشن 2030 کے تحت جدید مگر روایتی انداز میں ترقیاتی تعمیرات اور دیگر کام کرا رہے ہیں، جس پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

(syedfaisalali2001@yahoo.com)

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close