تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ میں پھر چلی گولی، شاہین باغ میں پٹرول بم پھینکا گیا

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف تین ماہ سے بھی زیادہ وقت سے جاری مظاہروں کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اتوار کو ایک بار پھر گولی چلنے اور شاہین باغ میں مظاہرے کے مقام کے نزدیک پٹرول بم پھینکنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے دونوں معاملوں میں فی الحال کوئی ردعمل نہیں ہوا ہے اور معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ شاہین باغ مظاہرے میں شروع سے وابستہ رہیں حنا احمد کا کہنا ہے کہ صبح ساڑھے نو بجے کے تقریب نامعلوم شخص مظاہرے کے مقام کے نزدیک پٹرول بم پھینک کر فرار ہوگیا۔ پولیس موقع پر پہنچ کر جانچ کررہی ہے۔ محترمہ احمد نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے جنتا کرفیو کی اپیل کا احترام کرتے ہوئے ہم نے مظاہرے کے مقام سے دوری بنالی ہے لیکن سی اے اکے خلاف مظاہرہ جاری رکھنے کے لئے مظاہرے کے مقام پر تخت پر ایک جوڑی چپل رکھ کر احتحاج ظاہر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی موجودگی میں پٹرول بم پھینکے جانے کے واقعہ سے سبھی حیران ہیں۔

جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے دعوی کیا ہے کہ گیٹ نمبر 7 پر واقع مظاہرے کے مقام کے نزدیک بائک سوار ایک شخص نے گولی چلائی۔ سی سی ٹی وی میں بائک سوار تین بیگ کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید وہ ڈلیوری بوائے ہے۔ بائک کا نمبر صاف نظر نہیں آرہا ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ایک کارتوس برآمد کیا ہے۔

جامعہ کو آرڈی نیشن کمیٹی نے اگرچہ کورونا وائرس کے خطروں کو دیکھتے ہوئے کل عارضی طور پر مظاہرہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ قانون کی واپسی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close